ETV Bharat / state

پاکستانی خفیہ ایجنسی کےلیے جاسوسی کا الزام، دہلی میں میاں بیوی گرفتار

پولیس کے مطابق دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے دہلی کے رہائشی محمد ساحل اور اس کی اہلیہ سمیرا کو گرفتار کیا ہے۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی کےلیے جاسوسی کا الزام، دہلی میں میاں بیوی گرفتار
پاکستانی خفیہ ایجنسی کےلیے جاسوسی کا الزام، دہلی میں میاں بیوی گرفتار (Delhi Police)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 28, 2026 at 8:48 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی : دہلی پولیس نے پاکستان میں موجود مبینہ انٹیلی جنس آپریٹرز کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے میاں بیوی کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں پر الزام ہے کہ وہ 2024 سے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹو کے رابطے میں تھے اور انہیں مختلف نوعیت کی لاجسٹک مدد فراہم کررہے تھے۔

پولیس کے مطابق دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے نادرن رینج نے دہلی کے رہائشی محمد ساحل اور ان کی اہلیہ سمیرا کو گرفتار کیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں الزام سامنے آیا ہے کہ جوڑے نے مقامی افراد کی مدد سے بھارتی سم کارڈ حاصل کیے اور انہیں دبئی کے راستے پاکستان بھیجا۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد ان بھارتی سم کارڈز کو مبینہ طور پر واٹس ایپ اکاؤنٹس فعال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ان اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستانی آپریٹرز بھارتی شہریوں کے رابطوں اور مختلف واٹس ایپ گروپس میں داخل ہوکر حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق ساحل کا 2024 میں انسٹاگرام کے ذریعے ایک پاکستانی ایجنٹ سے رابطہ ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ رابطہ سمیرا کے ذریعے قائم ہوا، جس کے بعد دونوں کی شادی ہوگئی۔ بعد ازاں مبینہ پاکستانی ایجنٹ نے جوڑے کو ایک اور پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹو سے متعارف کرایا۔

پولیس کا الزام ہے کہ پاکستانی ہینڈلر نے جوڑے کو ان کی سرگرمیوں کے عوض مالی فائدہ پہنچانے کا وعدہ کیا، جس کے بعد دونوں مبینہ طور پر سم کارڈ حاصل کرنے اور انہیں پاکستان بھیجنے کے عمل میں شامل ہوگئے۔ اسپیشل سیل اب مبینہ نیٹ ورک کے طریقۂ کار اور اس سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت کی کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ، نیپال میں تازہ سیلاب کا الرٹ، ریسکیو آپریشن روک دیا گیا

تفتیش کار یہ بھی معلوم کررہے ہیں کہ پاکستان بھیجے گئے سم کارڈز کے ذریعے کن افراد سے رابطہ کیا گیا اور مبینہ طور پر کون سی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کے مطابق بیرون ملک موجود مبینہ ہینڈلرز کے کردار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ معاملے میں مزید انکشافات تفتیش آگے بڑھنے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔