ڈی کے شیوکمار نے کرناٹک کے 34ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا
حلف برداری تقریب میں کانگریس قیادت، متعدد وزرائے اعلیٰ، ارکان پارلیمان، مذہبی رہنما، طلبا، کسان نمائندے، دلت رہنما ودیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Published : June 3, 2026 at 4:35 PM IST
|Updated : June 3, 2026 at 4:54 PM IST
بنگلور: کرناٹک میں کانگریس کے اندر طویل عرصے سے جاری قیادت کی کشمکش بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گئی اور سینئر کانگریس لیڈر ڈی کے شیوکمار نے بدھ کی شام ریاست کے 34ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ بنگلور کے لوک بھون (گلاس ہاؤس) میں منعقدہ شاندار تقریب میں گورنر تھاور چند گہلوت نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ڈی کے شیوکمار نے اپنے آبائی بزرگ گنگادھرایا اججا کو یاد کرتے ہوئے حلف لیا اور تقریب سے قبل ان کی تصویر پر گلپوشی بھی کی۔
حلف برداری تقریب میں کانگریس کی مرکزی قیادت، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، ارکان پارلیمان، مذہبی رہنما، طلبہ، کسان نمائندے، دلت رہنما اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ تقریب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملیکارجن کھرگے، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
#WATCH | Bengaluru: Karnataka CM-designate DK Shivakumar bows down to people before taking oath as the Chief Minister of Karnataka.
— ANI (@ANI) June 3, 2026
(Video Source: Congress) pic.twitter.com/9UVXmCRoaK
حلف برداری سے چند گھنٹے قبل کانگریس نے 13 رکنی کابینہ کی فہرست جاری کی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ جن رہنماؤں نے بطور وزیر حلف لیا ان میں جی پرمیشور، یتھیندر سدارامیا، یو ٹی قادر، ایم بی پاٹل، کے جے جارج، کے ایچ منیاپا، ستیش جارکیہولی، رام لنگا ریڈی، کرشنا بائرے گوڑا، پریانک کھرگے، ایشور کھنڈرے، بیراتی سریش اور شرن پرکاش پاٹل شامل ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی چرچا ہے کہ کابینہ میں مزید توسیع راجیہ سبھا انتخابات کے بعد کی جا سکتی ہے۔ جی پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی قیاس آرائیاں بھی زوروں پر ہیں، تاہم اس حوالے سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
حلف برداری سے قبل ڈی کے شیوکمار نے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر رہنما بی ایس یدی یورپا سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ یدی یورپا نے ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کرناٹک کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ دریں اثنا کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا رکن نامزد کر دیا ہے، جسے پارٹی میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق بی جے پی ایم ایل سی دیانند ریڈی کا اغوا، 3 کروڑ روپے تاوان اور رہا
حلف برداری تقریب کے لیے لوک بھون میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ تقریب میں تقریباً 3,500 افراد کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا جبکہ ریاست بھر کے 230 سرکاری بس اسٹیشنوں پر بڑی اسکرینوں کے ذریعے تقریب کی براہِ راست نشریات کا انتظام کیا گیا۔ سکیورٹی کے لیے بنگلور پولیس کے 2,500 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ڈی کے شیوکمار کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کرناٹک کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور اب عوام کی نظریں نئی حکومت کی کارکردگی اور انتخابی وعدوں کی تکمیل پر مرکوز ہیں۔

