کرکٹر شیکھر دھون کو ملی بڑی قانونی جیت، عدالت نے سابق اہلیہ عائشہ کو پانچ کروڑ بہتر لاکھ روپیے واپس کرنے کا دیا حکم
آسٹریلیا کی عدالت نے اپنے حکم میں شیکھر دھون کے دنیا بھر میں موجود اثاثوں کو ان کے اور عائشہ مکھرجی کے درمیان تقسیم کردیا۔

Published : February 25, 2026 at 2:03 PM IST
نئی دہلی: دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے کرکٹر شیکھر دھون کو خاندانی معاملے میں اہم راحت دی ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے فیملی کورٹ کے جج دیویندر کمار گرگ نے شیکھر دھون کی سابق اہلیہ عائشہ مکھرجی کو 57.2 ملین روپے واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
کیس کا تعلق آسٹریلیا میں جائیداد کی فروخت کے بعد ہونے والی پراپرٹی سیٹلمنٹ سے ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ یہ ہندوستانی قانون کے تحت غلط ہے اور ہندوستانی ازدواجی قوانین کے تحت ایسا انتظام درست نہیں ہے۔ شیکھر دھون کی سابقہ اہلیہ عائشہ مکھرجی آسٹریلوی شہری ہیں۔ عائشہ نے جائیداد کے تصفیے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

تنازعہ کی سماعت کے دائرۂ اختیار کا فقدان
پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آسٹریلیا کی عدالت کے پاس شیکھر دھون اور ان کی اہلیہ کے درمیان ازدواجی تنازعہ کی سماعت کے دائرۂ اختیار کا فقدان ہے۔ عدالت نے عائشہ مکھرجی کو آسٹریلوی عدالت کے 2 فروری 2024 کے فیصلے پر مزید کارروائی کرنے سے روکنے کا بھی حکم دیا۔
کرکٹ کیریئر تباہ کرنے کی دھمکی
آسٹریلیا کی عدالت نے اپنے حکم میں شیکھر دھون اور عائشہ مکھرجی کے دنیا بھر میں موجود اثاثوں کو ان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ان اثاثوں میں شیکھر دھون کی بھارت میں جائیدادیں بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ شیکھر دھون اور عائشہ مکھرجی کی شادی 2021 میں ہوئی تھی، دھون کے مطابق ان کی شادی کے فوراً بعد عائشہ نے انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں، ان پر جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات لگا کر ان کا کرکٹ کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔
ہندو میرج ایکٹ اور ہندوستانی قوانین
شیکھر دھون نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے اپنے پیسوں سے بھارت میں جائیدادیں خریدیں، لیکن عائشہ نے انہیں ان جائیدادوں کو اپنے نام پر رجسٹر کرنے پر مجبور کیا۔ شیکھر دھون نے دلیل دی کہ آسٹریلوی عدالت کی طرف سے دیا گیا تقسیم کا حکم ہندو میرج ایکٹ اور ہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

