ETV Bharat / state

گیارہ سالہ بیٹی کے جنسی استحصل کے قصوروار باپ کو 20 سال کی سزا، جرمانہ بھی عائد

عدالت نے نابالغ بیٹی کے جنسی استحصال معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے قصوروار باپ کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر (Photo: IANS)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 22, 2026 at 2:44 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

ہریدوار: اتراکھنڈ کے ہریدوار میں ایک عدالت نے 11 سالہ بیٹی سے جنسی زیادتی اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے جرم میں قصوروار باپ کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے مجرم پر 36 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا۔ کیس کے تین سال بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، ایف ٹی ایس سی، چندرامنی رائے کی عدالت نے قصوروار باپ کو سخت قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

سرکاری وکیل بھوپیندر چوہان نے بتایا کہ 27 فروری 2023 کو ہریدوار کے کنکھل تھانہ حلقے میں ایک باپ کے ذریعہ اپنی ہی نابالغ بیٹی کی عصمت دری اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ملزم باپ کے خلاف تھانہ کنکھل میں 11 سالہ کمسن بیٹی سے زیادتی کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ ملزم پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے پر بیٹی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اس کا باپ اس کے ساتھ اس وقت سے زبردستی غلط کام کر رہا تھا جب وہ آٹھ یا نو سال کی تھی۔

متاثرہ نے خاندان کے دیگر افراد کو اس بارے میں بتایا تھا لیکن گھر والوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔ بعد ازاں متاثرہ نے اپنے باپ کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ پولیس نے معاملے کی جانچ کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ متاثرہ نے ملزم والد کی موبائل ریکارڈنگ بھی پیش کی جو ٹھوس ثبوت کے طور پر کام آئی۔ متاثرہ نے کہا کہ لوگ اس پر یقین نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اس نے اپنے اور اپنے والد کے درمیان ہونے والی گفتگو کو اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کیا۔ بعد ازاں ریکارڈنگ کی جانچ کے لیے اسے سی ایف ایس ایل کو بھیجا گیا۔

جانچ رپورٹ میں ملزم اور متاثرہ کے آواز تصدیق ہوئی۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش کے بعد ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی۔ استغاثہ نے چھ جب کہ دفاع نے دو گواہ عدالت میں پیش کیے۔ عدالت نے شواہد اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم باپ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 20 سال قید بامشقت اور 30 ​​ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید تین ماہ قید کی سزا بھگتنی ہو گی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ لڑکی کو ایک ماہ کے اندر 400,000 روپے معاوضہ ادا کرے۔ فیصلے کی ایک کاپی ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھیجی گئی تھی، جس میں انہیں مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: