زندگی کی ڈور کاٹتا چائنیز مانجھا: 'وہ چیخ نہیں سکتے، بس تڑپ سکتے ہیں'؛ ...بے زبان پرندوں کے لیے موت کا کھیل بنی پتنگ بازی
پتنگ بازی اور جان لیوا مانجھا چھین رہا ہے پرندوں کی آزادی۔ پڑھیں دھننجے ورما کی یہ خصوصی رپورٹ


Published : August 23, 2026 at 2:59 PM IST
نئی دہلی: اگست کا مہینہ... آزادی کے جشن کی گونج اور دارالحکومت دہلی کا رنگ برنگا آسمان۔ ملک کی فضاؤں میں ترنگے کے ساتھ ساتھ اڑتی پتنگیں ہمارے جوش و خروش کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ یومِ آزادی کے آس پاس یہ جوش اپنے عروج پر ہوتا ہے، لیکن اسی جوش کے پیچھے ایک خوفناک اور دردناک سچ چھپا ہوتا ہے۔ ہوا میں اڑتی پتنگوں کی پینچ لڑانے کی ہوڑ اور اس کے لیے استعمال ہونے والا مہلک چائنیز و مصنوعی (سنتھیٹک) مانجھا بے زبان پرندوں کے لیے کال (موت) ثابت ہو رہا ہے۔ تفریح کے نام پر استعمال ہونے والا یہ غیر مرئی (نظر نہ آنے والا) اور دھار دار جال نہ صرف انسانوں کی گردنوں پر وار کر رہا ہے، بلکہ ہمارے آسمان کے آزاد پرندوں کے پر کاٹ کر انہیں ہمیشہ کے لیے اپاہج بنا رہا ہے یا ان کی موت کی وجہ بن رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس طرح ہمارا یہ مستی بھرا شوق، بے زبانوں کے لیے عمر بھر کا 'شوک' (ماتم) بنتا جا رہا ہے...
جان لیوا مانجھا چھین رہا ہے پرندوں کی آزادی
پتنگ بازی کا روایتی سوتی دھاگہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کی جگہ اب کانچ اور پلاسٹک کے آمیزے سے بنے چائنیز اور مصنوعی مانجھے نے لے لی ہے۔ یہ مانجھا ہوا میں اڑتے وقت پرندوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ جیسے ہی کوئی بے قصور پرندہ اس پوشیدہ جال کے رابطے میں آتا ہے، یہ دھار دار دھاگہ اس کی گردن، پروں اور پیروں کو کاٹ دیتا ہے۔ جو پرندے کبھی کھلے آسمان کے راجہ ہوا کرتے تھے، وہ پل بھر میں لہولہان ہو کر زمین پر آ گرتے ہیں۔
عمر بھر کی معذوری یا تڑپتی موت
اس جان لیوا مانجھے کا اثر صرف فوری طور پر لگنے والی چوٹ تک محدود نہیں ہے۔ پرندوں کے ہسپتالوں اور ریسکیو سینٹرز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یومِ آزادی یعنی اگست کے مہینے کے آس پاس دہلی میں ہزاروں پرندے زخمی ہوتے ہیں۔ کئی پرندوں کے پر اس حد تک کٹ جاتے ہیں کہ وہ زندگی بھر دوبارہ کبھی اڑان نہیں بھر پاتے۔ کئی بے زبان تو درختوں کی ٹہنیوں اور بجلی کے تاروں میں پھنسے مانجھے میں الجھ کر دنوں تک بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتے ہیں۔
اگست میں پرندوں کا ریسکیو دو گنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے
دہلی فائر سروس (DFS) کے اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگست کے مہینے میں پتنگ بازی کا براہِ راست اثر پرندوں کی حفاظت پر پڑتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 اور 2025 دونوں میں اگست کے مہینے کے دوران پرندوں کو بچانے کی کالز (Bird Rescue Calls) میں غیر متوقع اور ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا۔
موازنہ کرنے پر یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ سال 2024 میں جولائی (263) کے مقابلے اگست (566) میں ریسکیو کالز کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی۔ وہیں، سال 2025 میں جولائی (322) کے موازنے میں اگست (757) میں یہ آنکڑا ڈھائی گنا کے قریب پہنچ گیا۔ ستمبر کے آتے آتے بھی ہوا میں پھنسے مانجھے کا اثر دکھائی دیتا ہے، لیکن اگست کا مہینہ پرندوں کی جان پر سب سے بھاری پڑتا ہے۔
اس سال، سال 2026 میں جولائی سے ہی شروع ہوا بحران
موجودہ سال 2026 میں دہلی فائر سروس کی طرف سے جنوری سے جولائی تک درج کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب تک کل 1,548 پرندوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ جولائی 2026 میں 292 پرندوں کا ریسکیو اس بات کا اشارہ ہے کہ پتنگ بازی کا سیزن شروع ہوتے ہی پرندوں کے پھنسنے کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔
ڈی ایف ایس (DFS) اور ڈاکٹروں کی وارننگ، بے زبان پرندے ہو رہے ہیں معذور
دہلی فائر سروس کے چیف فائر آفیسر (CFO) اے کے ملک نے بتایا کہ اگست میں پتنگ بازی کی وجہ سے بڑی تعداد میں پرندے مانجھے میں الجھ جاتے ہیں۔ جب بھی فائر سروس کو کوئی ایمرجنسی کال ملتی ہے، ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ کر پرندوں کو ریسکیو کرتی ہے۔ اگر پرندہ معمولی طور پر الجھا ہوا اور صحت مند ہو، تو اسے مانجھے سے نکال کر فوراً اڑا دیا جاتا ہے، لیکن شدید زخمی پرندوں کو فوری علاج کے لیے پرندوں کے ہسپتال (بڑڈ ہسپتال) بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ چائنیز مانجھا انسانوں اور پرندوں دونوں کے لیے جان لیوا ہے، اس لیے لوگ ایسے خطرناک شوق سے باز رہیں۔
چاندنی چوک میں واقع مشہور برڈ ہسپتال کے ڈاکٹر رامیشور یادو نے بتایا، ''ہمارے پاس روزانہ فائر سروس اور عام شہریوں کے ذریعے شدید زخمی پرندے لائے جا رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد کبوتروں، کوّوں اور چیلوں کی ہے۔ پلاسٹک اور نائلون سے بنا چائنیز مانجھا اس قدر مضبوط اور دھار دار ہوتا ہے کہ اس سے پرندوں کے پر اور ہڈیاں تک کٹ جاتی ہیں۔ ہڈیاں ٹوٹنے یا کٹنے کی وجہ سے یہ پرندے زندگی بھر اڑنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور انہیں پوری زندگی ہسپتال کے 'ڈس ایبلٹیز وارڈ' (معذوروں کے وارڈ) میں گزارنی پڑتی ہے۔''
"چائنیز مانجھا بہت خطرناک اور جان لیوا ہوتا ہے۔ ہمیں پتنگ کی دکانوں پر اس کی فروخت کے بارے میں شکایتیں ملی تھیں۔ ہم نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی اور مقدمات درج کیے۔ ہم گوداموں کی بھی تلاشی لے رہے ہیں اور وہاں بھی تقریباً 30 رول پکڑے ہیں۔ ہماری کارروائی جاری ہے۔"۔ راہل الوال، ڈی سی پی (نارتھ-ایسٹ)
دہلی پولیس کا بڑا حملہ: 4,000 سے زیادہ مانجھے کے رول ضبط
خطرناک مانجھے کی غیر قانونی فروخت اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے یومِ آزادی سے ٹھیک پہلے چومکھی مہم شروع کر دی ہے۔ پولیس کی اسپیشل ٹیم، کرائم برانچ اور مختلف اضلاع کی پولیس نے مل کر ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ سینٹرل ڈسٹرکٹ کے ڈی سی پی روہت راجبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ دہلی میں چائنیز/مصنوعی مانجھے کے ذخیرے، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی ہے۔ اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور تحفظِ ماحول کے ایکٹ (Environment Protection Act) کے تحت مقدمہ درج کر کے 'زیرو ٹولرینس' پالیسی کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
- 24 مئی 2026: کرائم برانچ نے اتم نگر کی ہنومان مارکیٹ میں چھاپہ مار کر 2,040 مصنوعی مانجھے کے رول ضبط کیے اور مرکزی سپلائر سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کیا۔
- 28 جون 2026: اتم نگر اور کاملا مارکیٹ سپلائی چین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1,170 رول برآمد کیے گئے۔
- 22 جولائی 2026: نارتھ-ایسٹ ضلع (تھانہ بھجن پورا) پولیس نے یمنا وہار میٹرو اسٹیشن کے پاس 34 رول مانجھا ضبط کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کیا۔
- 29-30 جولائی 2026: سینٹرل ضلع کی اسپیشل اسٹاف نے نبی کریم کے لکشمن پوری میں ایک خفیہ کمرے سے 424 رول کا اسٹاک برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔
- 1 اگست 2026: تھانہ دیال پور کی ٹیم نے نہرو وہار اور لونی میں چھاپے مار کر 37 رول برآمد کیے۔
- 4 اگست 2026: تھانہ جیوتی نگر، نند نگری اور آؤٹر ڈسٹرکٹ کی اینٹی اسنیچنگ سیل نے مشترکہ طور پر سندر نگری اور چندر وہار کے گوداموں پر چھاپہ مار کر 'مونوکائٹ' برانڈ کے 300 رول سمیت کل 384 رول ضبط کیے۔
دہلی میٹرو کی رفتار پر 'پوشیدہ' بریک
مہلک مصنوعی (سنتھیٹک) مانجھا صرف جانداروں کے لیے ہی نہیں، بلکہ دہلی-این سی آر (Delhi-NCR) کی لائف لائن کہی جانے والی دہلی میٹرو کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ میٹرو کی اوور ہیڈ ایکوپمنٹ (OHE) لائنوں میں 25,000 وولٹ (25 kV) کی ہائی وولٹیج بجلی گردش کرتی ہے۔ میٹالک کوٹیڈ (دھاتی تہہ والے) یا نائلون سے بنے مانجھے جب ان تاروں میں الجھتے ہیں، تو ان سے شارٹ سرکٹ اور پاور ٹرپنگ ہو جاتی ہے۔ ماضی میں پنک لائن، وائلٹ لائن اور میجنٹا لائن پر ایسے واقعات کی وجہ سے بجلی گل ہوئی اور ٹرینوں کی آمد و رفت گھنٹوں متاثر رہی۔ میٹرو کے اندر اعلانات (Anouncements) کے ذریعے لوگوں میں بیداری بھی پیدا کی جا رہی ہے۔
چائنیز 'مانجھا' انسانوں کے لیے بھی خطرہ
یہ مہلک مصنوعی مانجھا صرف بے زبان پرندوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ اس قدر خطرناک ہے کہ دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کی گردنوں اور راہگیروں کے چہروں کو بھی شدید زخمی کر چکا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں ہر سال ایسے کئی معاملات سامنے آتے ہیں جہاں اس جان لیوا دھاگے نے انسانی زندگیوں کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ عدالت کی پابندیوں کے باوجود چوری چھپے بکنے والا یہ مانجھا آج معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
بے زبانوں کی آزادی کے محافظ بنیں، شکاری نہیں
آزادی کا تہوار ہمیں ہر جاندار کے لیے ہمدردی اور آزادی کا پیغام دیتا ہے۔ جب ہماری تفریح کسی بے زبان پرندے کے اڑنے کے حق کو ہمیشہ کے لیے چھین لے یا کسی کی جان پر بن آئے، تو ایسی تفریح پر دوبارہ غور کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم صرف محفوظ، سوتی دھاگے (سدھی) سے پتنگ بازی کریں گے۔ بے زبانوں کی آزادی کے محافظ بنیں گے، شکاری نہیں۔

