ETV Bharat / state

طالبہ کی خودی کے بعد جے پور کے نیرجا مودی اسکول کا رجسٹریشن منسوخ، سی بی ایس ای کی سخت کاروائی

بورڈ نے حکم دیا کہ سینئر سیکنڈری اسکول امتحان کی سطح تک اسکول کو دی گئی الحاق کو فوری طور پر واپس لے لیا جائے۔

طالبہ کی خودی کے بعد جے پور کے نیرجا مودی اسکول کا الحاق منسوخ، سی بی ایس ای کی سخت کاروائی
طالبہ کی خودی کے بعد جے پور کے نیرجا مودی اسکول کا الحاق منسوخ، سی بی ایس ای کی سخت کاروائی (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 31, 2025 at 3:36 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے جے پور کے نیروجا مودی اسکول کی سینئر سیکنڈری سطح تک الحاق فوری طور پر منسوخ کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک نو سالہ طالبہ کی موت کے معاملے میں اسکول انتظامیہ کی سنگین لاپروائی اور طلبہ کی حفاظت سے متعلق قواعد کی "سنگین خلاف ورزی" ثابت ہونے کے بعد کیا گیا۔

سی بی ایس ای کے مطابق چوتھی جماعت کی طالبہ نے یکم نومبر 2025 کو اسکول کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔ اس واقعo کے بعد بورڈ کی جانب سے تشکیل دی گئی دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے 12 نومبر کو جے پور کا دورہ کیا، والدین سے ملاقات کی اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے 17 نومبر کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کی، جس میں متعدد سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبہ نے اپنی موت سے قبل آخری 45 منٹ میں پانچ مرتبہ کلاس ٹیچر سے مدد طلب کی، تاہم ٹیچر نے اس کی ذہنی پریشانی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسکول میں مناسب سی سی ٹی وی نگرانی کا فقدان تھا اور فوٹیج کو لازمی 15 دن تک محفوظ نہیں رکھا گیا۔

کمیٹی نے انکشاف کیا کہ بالائی منزلوں کے کھلے حصوں میں حفاظتی جال (سیفٹی نیٹس) نصب نہیں تھے اور اسکول میں کسی قسم کا مؤثر کونسلنگ نظام موجود نہیں تھا۔ طلبہ کو کبھی باقاعدہ کونسلرز کے پاس نہیں بھیجا گیا اور نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس اور سی بی ایس ای کی جاری کردہ چائلڈ سیفٹی گائیڈ لائنز پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔

سی بی ایس ای کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ "اسکول نے الحاق کے لازمی قواعد کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ کونسلنگ اور شکایات کے ازالے کا نظام مکمل طور پر ناکام رہا، جو طلبہ کی جان و سلامتی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔"

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مقتولہ کے والدین نے ڈیڑھ سال کے دوران تین سے زائد مرتبہ اساتذہ اور کوآرڈینیٹرز کو بُلیئنگ کی شکایت کی، لیکن اینٹی بُلیئنگ کمیٹی نے کبھی والدین سے رابطہ نہیں کیا۔ ستمبر 2025 میں ایک پی ٹی ایم کے دوران والد نے خود ایک لڑکے کو بچی کو ہراساں کرتے دیکھا اور شکایت کی، جس پر کلاس ٹیچر نے مبینہ طور پر کہا کہ بچی کو "ایڈجسٹ کرنا چاہیے"۔

سی بی ایس ای کے حکم کے مطابق 2025-26 کے تعلیمی سیشن میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو اسی اسکول سے امتحان دینے کی اجازت ہوگی، تاہم نویں اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کو 2026-27 میں قریبی اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اسکول کو نئی داخلوں اور نچلی جماعتوں کے طلبہ کو ترقی دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی بی ایس ای نے 10ویں اور 12ویں امتحانات کے لیے رہنما خطوط جاری کیے، بعد میں نمبر تبدیل نہیں ہونگے

بورڈ نے واضح کیا کہ اسکول ایک تعلیمی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہونا چاہیے، اور اس نوعیت کی غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔