ETV Bharat / state

دہلی میں غریبوں کے راشن کا 28.87 کروڑ کا مبینہ گھپلا: سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کرلی

معاملے میں انسدادِ بدعنوانی قانون اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

دہلی میں غریبوں کے راشن کا 28.87 کروڑ کا مبینہ گھپلا: سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کرلی
دہلی میں غریبوں کے راشن کا 28.87 کروڑ کا مبینہ گھپلا: سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کرلی (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : September 1, 2026 at 8:46 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی : دہلی میں غریبوں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور تارکینِ وطن کے لیے مختص چاول کی مبینہ غیر قانونی فروخت سے متعلق 28.87 کروڑ روپے کے گھپلے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ سی بی آئی نے یہ ایف آئی آر 27 اگست 2026 کو درج کی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ گھپلے میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے بعض افسران، نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کے عہدیداروں اور نجی کمپنیوں کے درمیان مبینہ ملی بھگت کا الزام ہے۔

معاملے میں انسدادِ بدعنوانی قانون اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے مطابق اوپن مارکیٹ سیل اسکیم کے تحت ای آکشن کے بغیر چاول کی تقسیم کے لیے بنیادی طور پر ریاستی حکومتیں یا ان کی کارپوریشنیں اہل تھیں، جبکہ نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن اس زمرے میں اہل نہیں تھا۔

الزام ہے کہ اس ضابطے کو نظرانداز کرنے کے لیے نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کے عہدیداروں نے دہلی کے وزیر برائے خوراک و شہری رسد منجندر سنگھ سرسا کو خط لکھ کر چاول مختص کرنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد دہلی حکومت نے یہ تجویز ایف سی آئی کو بھیج دی۔ تحقیقات کے مطابق ایف سی آئی کے دہلی ریجن کے بعض افسران نے بھی مبینہ طور پر مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی روز درخواست منظور کرلی اور نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کو چاول مختص کردیئے۔

سی بی آئی کے مطابق آسام کی دو اور کولکاتا کی ایک نجی کمپنی نے نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کے ذریعے ایف سی آئی سے مجموعی طور پر 50,645 میٹرک ٹن چاول حاصل کیا۔ یہ چاول مبینہ طور پر اس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا کہ دہلی میں ایسے عام شہریوں، یومیہ اجرت والے مزدوروں اور تارکینِ وطن کو سستے داموں فراہم کیا جائے جو راشن کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) سے باہر رہ گئے تھے۔

تاہم، الزام ہے کہ چاول عوام تک پہنچانے کے بجائے بلیک مارکیٹ میں فروخت کردیا گیا، جس سے جنوری سے مئی 2026 کے صرف پانچ ماہ کے دوران تقریباً 28.87 کروڑ روپے کا منافع حاصل کیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق نجی کمپنیوں نے نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کے ساتھ زرعی پیداوار کی تقسیم کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ایف سی آئی کے ڈپو سے چاول حاصل کرنے کے لیے 23.25 روپے فی کلوگرام کے حساب سے رقم جمع کرائی، جبکہ اس وقت مارکیٹ ریٹ تقریباً 28.90 روپے فی کلوگرام بتایا گیا۔

سی بی آئی کا الزام ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے نجی کمپنیوں نے سرکاری نظام سے کم قیمت پر چاول حاصل کیا اور بعد میں اسے مبینہ طور پر کھلے بازار میں فروخت کرکے غیر قانونی منافع کمایا۔ سی بی آئی کے مطابق نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کے عہدیداروں نے 7 جنوری 2026 کو دہلی حکومت سے درخواست کی تھی کہ انہیں ای آکشن میں حصہ لیے بغیر ایف سی آئی سے چاول مختص کیا جائے۔

اس کے بعد 8 اپریل 2026 کو دہلی حکومت نے نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کی تجویز ایف سی آئی کو بھیجی، جس میں نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کے لیے چاول مختص کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ ایف سی آئی نے بھی اسی روز دہلی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے چاول نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کو مختص کردیئے۔

سی بی آئی کی ایف آئی آر میں ایف سی آئی، نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن اور نجی کمپنیوں سے وابستہ متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں اس وقت کے ایف سی آئی دہلی ریجن کے جنرل منیجر کمبھیرامن پدمِنی آشا، اسسٹنٹ جنرل منیجر برہما پرکاش اور منیجر امرندر وکرم شامل ہیں۔ نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن کی جانب سے اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر بھاسکر باروا، ایڈیشنل جنرل منیجر انجال کمار دتہ اور ڈپٹی منیجر دلیپ ساہا کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایم مودی نے 7.8 فیصد جی ڈی پی کو بتایا قابل تعریف، پھر سونا خریدنے اور غیر ملکی دوروں سے گریز کرنے کی اپیل کی

اس کے علاوہ آسام اور کولکاتا میں قائم نجی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز راجیش باجاج اور پنکج صراف کے نام بھی مقدمے میں شامل ہیں۔ یہ معاملہ دہلی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران بھی اٹھایا گیا تھا۔ اس وقت عام آدمی پارٹی کی جانب سے سوال اٹھائے جانے پر دہلی حکومت کے وزیر برائے خوراک و شہری رسد منجندر سنگھ سرسا نے کہا تھا کہ حکومت نے نہ چاول خریدا اور نہ فروخت کیا۔ اب سی بی آئی کی ایف آئی آر کے بعد معاملہ باقاعدہ تفتیش کے دائرے میں آ گیا ہے۔