زہریلی شراب سانحہ: گجرات میں سیاسی گرماگرمی، وزیر داخلہ کے استعفیٰ کا مطالبہ، شراب اسمگلروں کی پھانسی پر بضد احتجاجی
گاندھی نگر، جام نگر، اراولی اور مہسانا میں کانگریس کے زبردست احتجاجی مظاہرے، مہسانا میں احتجاج کرنے والے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔


Published : August 22, 2026 at 12:31 PM IST
احمد آباد، گجرات: ریاست گجرات میں نام نہاد شراب بندی کے درمیان بھاؤ نگر ضلع میں پیش آنے والے ہولناک لٹھا کانڈ (زہریلی شراب کے سانحے) نے پوری ریاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ زہریلی اور کیمیکل ملی شراب پینے کی وجہ سے 9 معصوم لوگوں کی جان چلی گئی ہے، جب کہ کئی لوگ اب بھی اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس طرح بھاؤ نگر لٹھا واقعہ میں 61 لوگ متاثر ہوئے جن میں سے 09 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔
اس انسان ساختہ آفت کے نتیجے میں ریاست بھر میں شدید عوامی غم و غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں، کانگریس اور عام آدمی پارٹی (AAP) نے ریاستی حکومت اور محکمہ داخلہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ پوری ریاست میں جگہ جگہ مظاہروں، دھرنوں اور نعرے بازی کے ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

شکتی سنگھ گوہل آج متاثرین سے ملاقات کریں گے
کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوہل آج دوپہر 3:00 بجے سر ٹی. اسپتال، بھاؤ نگر پہنچیں گے اور لٹھا کانڈ کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کریں گے۔
چھاؤنی میں کانگریس کا دھرنا، بوٹلیگروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ
دارالحکومت گاندھی نگر کے سیکٹر 6 میں واقع ستیہ گرہ چھاؤنی میں گاندھی نگر ضلع اور شہر کانگریس کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ گاندھی نگر ضلع کانگریس صدر اروند سنگھ سولنکی اور شہر کانگریس صدر شکتی پٹیل کی قیادت میں بڑی تعداد میں کارکنان جمع ہوئے تھے۔ گاندھی نگر، جام نگر، اراولی اور مہسانا میں کانگریس کے زبردست احتجاجی مظاہرے، مہسانا میں احتجاج کرنے والے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔

وزیر داخلہ کے 'آل سیف' کے دعوے کھوکھلے
کارکنوں نے ’’شرم کرو… شرم کرو… ہرش سنگھوی شرم کرو…‘‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے ہنگامہ کھڑا کردیا، لیڈروں نے الزام لگایا کہ مہاتما گاندھی اور سردار پٹیل کی سرزمین پر شراب پر پابندی صرف کاغذوں پر ہی رہ گئی ہے۔ شہر کے صدر شکتی پٹیل نے کہا کہ بھاؤ نگر میں کیمیکل سے بھری زہریلی شراب پینے سے لوگوں کی موت سے ثابت ہوتا ہے کہ گجرات میں شراب پر پابندی پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر داخلہ کے 'آل سیف' کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی زہریلی شراب کا کاروبار کرنے والے بوٹلیگروں کو فوری طور پر پکڑ کر پھانسی پر لٹکایا جائے۔
عام آدمی پارٹی کا سخت موقف، ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) بھی بھاؤ نگر واقعہ کو لے کر جارحانہ ہو گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ریاستی تنظیمی وزیر راجو بھائی بورکھاٹریا نے ریاستی حکومت اور پولیس نظام پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔

