ETV Bharat / state

بیلاری فائرنگ واقعہ: گولی کس کی تھی؟ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے مکمل تحقیقات کا دیا حکم

وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ودھانا سودھا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اہم مسئلہ گولی چلانے والی کی نشاندہی کرنا ہے۔

بیلاری فائرنگ واقعہ: گولی کس کی تھی؟ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے مکمل تحقیقات کا دیا حکم
بیلاری فائرنگ واقعہ: گولی کس کی تھی؟ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے مکمل تحقیقات کا دیا حکم (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 2, 2026 at 8:37 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

بنگلورو: کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے بلاری میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ کی تفصیلی جانچ کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ کس بندوق سے گولی چلی اور کانگریس کارکن کی جان کیسے گئی۔ یہ واقعہ سابق وزیر جی جناردھن ریڈی کی رہائش گاہ کے قریب پیش آیا تھا، جس میں کانگریس کارکن راج شیکھر ہلاک ہو گیا۔

ودھان سودھا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ “اصل سوال یہ ہے کہ گولی کہاں سے آئی؟ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فائرنگ بی جے پی کی طرف سے ہوئی یا کانگریس کی جانب سے۔ صرف غیر جانبدار اور مکمل تفتیش سے ہی یہ حقیقت سامنے آ سکتی ہے، اسی لیے میں نے حکام کو تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔”

انہوں نے پولیس کی جانب سے دی گئی اس اطلاع پر بھی ردعمل دیا کہ موت نجی بندوق کی گولی سے ہوئی ہو سکتی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس لائسنس یافتہ ہتھیار تھے اور انہوں نے ہوا میں فائرنگ کی، لیکن گولی کسی شخص کو جا لگی۔

“راج شیکھر کی موت ہو چکی ہے، اب یہ جاننا ضروری ہے کہ گولی کس بندوق سے نکلی۔ تحقیقات کے بعد ذمہ داری طے کی جائے گی۔” یہ واقعہ جمعرات کی رات بلاری کے امبابھاوی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب سابق وزیر جناردھن ریڈی کی رہائش کے قریب بینر لگانے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہو گیا۔

کانگریس کے ایم ایل اے بھارت ریڈی کے حامیوں اور جناردھن ریڈی کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے دوران پتھراؤ اور فائرنگ ہوئی۔ فائرنگ میں کانگریس کارکن راج شیکھر گولی لگنے سے جان بحق ہو گیا۔ بیلاری کے ضلع انچارج وزیر ضمیر احمد خان نے کہا کہ یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ “یہ ایک معمولی مسئلہ تھا جو اچانک سنگین صورت اختیار کر گیا۔ ہماری پارٹی کا ایک کارکن فائرنگ میں مارا گیا۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔” ضمیر خان نے بتایا کہ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کو واقعے سے آگاہ کیا، جنہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک چھوٹا سا معاملہ اتنا سنگین کیوں ہو گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ “اب صورتحال قابو میں ہے۔”

ریاست کے وزیرِ داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں۔ “ایک شخص ریوالور سے چلائی گئی گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے، گولی کس نے چلائی یہ جانچ کے بعد ہی معلوم ہوگا۔” انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ممکن ہے کہ بھیڑ میں سے کسی شخص نے فائرنگ کی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کرناٹک: بیلاری میں بینر کے تنازع پر دو گروپوں میں تصادم، کانگریس کارکن ہلاک، بی جے پی ایم ایل اے سمیت گیارہ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج

پولیس نے واضح کیا کہ فورس کی جانب سے صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جبکہ پانچ نجی آتشیں اسلحے اور گولیاں فرانزک جانچ کے لیے ضبط کر لی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد احتیاطی احکامات نافذ کیے گئے تھے، تاہم سینئر پولیس افسران نے تصدیق کی ہے کہ بیلاری میں اب صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کسی قسم کی مزید بدامنی نہیں ہے۔