ETV Bharat / state

علی گڑھ کے اسکول میں 'وندے ماترم' کی مخالفت کرنے پر اسسٹنٹ ٹیچر شمس الحسن معطل

اسکول میں اسمبلی کے دوران اسسٹنٹ ٹیچر کی جانب سے 'وندے ماترم' گانے کی مخالفت کرنے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر (Etv Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : November 13, 2025 at 8:58 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

علیگڑھ: اترپردیش کے علی گڑھ میں لودھا بلاک کے شاہ پور قطب ہائر پرائمری اسکول میں بدھ کو اس وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب اسسٹنٹ ٹیچر شمس الحسن نے وندے ماترم گانے کی مخالفت کی۔ بعد ازاں یہ معاملہ تیزی سے طول پکڑ گیا اور اسٹاف کے دیگر ارکان نے ان کے خلاف شکایت کر دی جس کے نتیجے میں انہیں محکمہ بنیادی تعلیم نے اسسٹنٹ ٹیچر کو فوری اثر سے معطل کر دیا۔

واقعے کی تفصیلات

اسکول کی پرنسپل سشما رانی نے اطلاع دی کہ بدھ کی صبح اسکول کی اسمبلی کے دوران قومی ترانے کے بعد جب ٹیچرز اور طلباء نے 'وندے ماترم' گانا شروع کیا تو اسسٹنٹ ٹیچر شمس الحسن نے اس پر اعتراض کیا۔ شکایت کرنے والے ٹیچرز کے مطابق شمس الحسن نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ 'وندے ماترم ہمارے کے مذہب کے خلاف ہے۔'

پرنسپل نے کیا کہا؟

پرنسپل کا الزام ہے کہ شمس نے نہ صرف وندے ماترم کہنے سے انکار کیا بلکہ دیگر ٹیچرز سے بھی کہا کہ اسکول میں یہ نعرہ لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سے صورت حال خراب ہوگئی۔ اسسٹنٹ ٹیچر چندر پال سنگھ، پریملاتا، صبیحہ صابر، مہیش بابو، اور راج کماری سمیت دیگر اساتذہ نے بھی تحریری بیانات میں ان الزامات کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شمس الحسن کے رویے سے اسکول میں داخلی تصادم کی صورت حال پیدا ہوگئی اور تعلیم و تدریس میں خلل پڑا۔

اسسٹنٹ ٹیچر شمس الحسن کا موقف

وہیں شمس الحسن نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی کی توہین نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں پہلی بار وندے ماترم پڑھا جا رہا تھا، اس لیے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ایسا نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق ان کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا اور اس کی وجہ سے جھوٹے الزامات لگائے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بلاک ایجوکیشن آفیسر فوراً اسکول پہنچے اور جانچ کی۔ دیگر ٹیچرز کے بیانات کی بنیاد پر انہوں نے رپورٹ دی کہ شمس الحسن کا طرز عمل سرکاری ہدایات اور محکمے کے نظم و ضبط کے خلاف تھا۔

بی ایس اے کا موقف

بنیادی تعلیم افسر ڈاکٹر راکیش کمار سنگھ نے اسسٹنٹ ٹیچر شمس الحسن کی معطلی کا حکم جاری کر دیا۔ بی ایس اے ڈاکٹر راکیش نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر اور بلاک ایجوکیشن آفیسر کی مشترکہ رپورٹ سے ثابت ہوا کہ اسسٹنٹ ٹیچر نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور اسکول میں انتشار پھیلایا۔ انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں گنگیری بلاک کے اپر پرائمری اسکول راج گہیلا سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرکاری احکامات کے تحت اسکولوں میں قومی ترانہ اور قومی گیت 'وندے ماترم' گانا لازمی ہے اور کسی بھی طرح کی مخالفت بے ضابطگی کے زمرے میں آئے گی۔

مزید پڑھیں:

مسلمانوں کے لیے وندے ماترم لازمی قرار دینا غیر اسلامی فعل، حکمنامہ واپس لینے کی اپیل:متحدہ مجلسِ علماء

وندے ماترم گانے کا فیصلہ حکومت نے نہیں لیا: عمر عبداللہ

ھارت میں رہنا ہے تو جے شری رام، وندے ماترم کہنا ہوگا، سادھو رام بھدر اچاریہ کا متنازع بیان

جے مہاراشٹر کے بجائے وندے ماترم بولنے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے۔۔؟

قومی ترانے کی طرح وندے ماترم کو احترام ملے، کورٹ کا مرکز کو نوٹس