آسام: ووٹر لسٹ میں مبینہ گڑبڑی، بی جے پی ریاستی صدر دلیپ ساکیا کے خلاف اپوزیشن کی پولیس میں شکایت
آسام بی جے پی کے سربراہ کو مبینہ ووٹروں کو حذف کرنے کی سازش پر اپوزیشن کی طرف سے پولیس شکایت کا سامنا ہے۔

Published : January 9, 2026 at 2:57 PM IST
گوہاٹی: آسام میں اپوزیشن جماعتوں کے متحدہ فورم نے جمعہ کے روز دسپُر پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آسام صدر اور رکن پارلیمنٹ دلیپ ساکیا کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی قیادت نے ایک منظم سازش کے تحت کم از کم 60 اسمبلی حلقوں میں ووٹر لسٹ سے ہزاروں ووٹروں کے نام حذف کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
سینئر کانگریس رہنما ریپون بورا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ شکایت 4 جنوری کو ہونے والی ایک مبینہ ویڈیو کانفرنس کی بنیاد پر درج کرائی گئی ہے، جس میں دلیپ ساکیا نے بی جے پی کے تمام ایم ایل ایز اور ضلعی صدور کو ہدایت دی کہ وہ ہر اسمبلی حلقے میں 5,000 سے 10,000 ووٹروں کی نشاندہی کریں۔ بورا کے مطابق، اس پورے عمل کے لیے ایک ڈیڈ لائن 12 جنوری مقرر کی گئی تھی اور ایک وزیر کو اس مہم کی نگرانی سونپی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ “یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جس کا مقصد ہر حلقے سے ہزاروں اصل ووٹروں کے نام کٹوانا تھا۔” ریپون بورا نے اس مبینہ منصوبے کو جمہوریت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا، “یہ کھلی ووٹ چوری ہے۔ جس بات پر راہل گاندھی پورے ملک میں آواز اٹھا رہے ہیں، وہی آج آسام میں بے نقاب ہو گئی ہے۔” انہوں نے الیکشن کمیشن کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اب تک کوئی کارروائی نہ ہونا نہایت تشویشناک ہے۔
بورا نے کہاکہ “یہ ایک سنگین جرم ہے، لیکن الیکشن کمیشن نے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔” اپوزیشن فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ دلیپ ساکیا کی مبینہ ویڈیو کانفرنس کی فوٹیج کو فوری طور پر محفوظ کیا جائے، کیونکہ یہ ایک بڑے سازشی منصوبے کا اہم ثبوت ہے۔ بورا نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے میں فوری کارروائی نہ ہوئی تو اپوزیشن جماعتیں ریاست بھر میں شدید احتجاج شروع کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ “ہم بی جے پی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات سے باز آئے۔” یہ شکایت جمع کرانے والے وفد میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رقیب الحسین، آسام جاتیہ پریشد کے صدر لورنجوتی گوگوئی، ریاستی خواتین کانگریس کی صدر میرا بورتھا کُر سمیت کئی اپوزیشن رہنما شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آسام اسمبلی میں تعدد ازدواج پر پابندی کا بل پیش، اپوزیشن کا واک آؤٹ

واضح رہے کہ یہ تنازع 7 جنوری کو اُس وقت شروع ہوا جب رائجر دل کے صدر اور شیو ساگر سے ایم ایل اے اکھیل گوگوئی نے الزام لگایا کہ دلیپ ساکیا نے آئندہ 2026 اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹروں کے نام جان بوجھ کر حذف کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اگرچہ بی جے پی اور دلیپ ساکیا نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا، تاہم اکھیل گوگوئی نے مبینہ میٹنگ کے اسکرین شاٹس بھی منظر عام پر لائے اور ساکیا کو خود کو بے قصور ثابت کرنے کا چیلنج دیا۔

