اسدالدین اویسی کی ہدایت کے بعد رحمت بیگ ایم ایل سی رکنیت سے استعفیٰ دیں گے
رحمت بیگ کو مجلس سے خارج کیا گیا تھا۔ پارٹی نے انہیں ایم ایل سی رکنیت سے بھی استعفیٰ دینے کی ہدایت دی ہے۔

Published : September 1, 2026 at 5:15 PM IST
حیدرآباد : آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے خارج کیے گئے ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق رحمت بیگ تلنگانہ قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی تیاری کررہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ منگل یا بدھ کو قانون ساز کونسل کے چیئرمین کے کے سکیندر ریڈی کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔
رحمت بیگ کو حال ہی میں اے آئی ایم آئی ایم سے خارج کیا گیا تھا۔ پارٹی قیادت کی جانب سے انہیں فوری طور پر ایم ایل سی کے عہدے سے بھی استعفیٰ دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق مجلس کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے رحمت بیگ کے مبینہ اقدامات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچنے پر انہیں عہدہ چھوڑنے کی ہدایت دی۔
پارٹی قیادت نے رحمت بیگ کو صرف ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ دینے کی ہدایت نہیں دی بلکہ ان کے ایم ایل سی دفتر سے متعلق پارٹی کے تمام ریکارڈ بھی مرکزی دفتر دارالسلام میں جمع کرانے کو کہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے عہدیداروں کو ایم ایل سی دفتر سے بھیجے گئے خطوط کی نقول اور پارٹی سے متعلق دیگر دستاویزات بھی مرکزی دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت دی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کی ہدایت موصول ہونے کے بعد رحمت بیگ نے استعفیٰ دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ رحمت بیگ 26 اگست کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ عمرہ کے لیے گئے تھے۔ پارٹی قیادت نے اگلے ہی روز انہیں واپس بلایا۔ جمعہ کے روز بعض پارٹی رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی اور انہیں پارٹی سے اخراج کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انہیں پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی کی جانب سے ایم ایل سی کی نشست سے بھی فوری استعفیٰ دینے کی ہدایت سے متعلق بھی بتایا گیا۔
رحمت بیگ کے خلاف کارروائی سے قبل پارٹی کے اندر ان سے متعلق مختلف شکایات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق گولکنڈہ علاقے میں مقیم ایک خاتون سے ان کی مبینہ قربت سے متعلق بھی پارٹی کارکنوں نے قیادت سے شکایات کی تھیں۔ بعد ازاں اس معاملے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے کاموں کے نام پر مبینہ طور پر فنڈز کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات بھی پارٹی کی مرکزی قیادت تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
راجندر نگر کے بعض پارٹی حامیوں کی جانب سے بھی مبینہ شکایات موصول ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض پارٹی کارکنوں نے رحمت بیگ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے ترقیاتی کام کروانے یا ٹھیکے دلوانے کے وعدوں کے عوض بعض افراد سے مبینہ طور پر کمیشن حاصل کیا۔ پارٹی کارکنوں کی جانب سے مبینہ طور پر کچھ ثبوت بھی مرکزی قیادت کو فراہم کیے گئے، جس کے بعد پارٹی رہنماؤں نے قیادت سے رحمت بیگ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے طلبہ کے احتجاج سے متعلق درج تمام ایف آئی آرز کو رد کر دیا، سی جے پی نے احتجاج منسوخ کیا
ان تمام شکایات اور پارٹی کو مبینہ طور پر پہنچنے والے نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی قیادت نے رحمت بیگ کو پارٹی سے خارج کرنے اور ان سے ایم ایل سی رکنیت سے بھی استعفیٰ لینے کا فیصلہ کیا۔

