ETV Bharat / state

اروند کیجریوال اور منیش سسودیا شراب گھوٹالہ کیس میں بری، کیجریوال جذباتی ہوگئے

دہلی راؤس ایونیو کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی سی بی آئی کیس میں تفتیشی افسر کے خلاف محکمانہ انکوائری کی سفارش کی ہے۔

اروند کیجریوال اور منیش سسودیا شراب گھوٹالہ کیس میں بری
اروند کیجریوال اور منیش سسودیا شراب گھوٹالہ کیس میں بری (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 27, 2026 at 11:16 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو مبینہ ایکسائز پالیسی اسکام سے جڑے بدعنوانی کے معاملے میں سی بی آئی کی چارج شیٹ کا نوٹس لینے سے انکار کردیا۔

خصوصی جج جتیندر سنگھ نے دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلی منیش سیسوڈیا اور دیگر 21 دیگر کو کیس میں بری کر دیا۔

عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں کئی کوتاہیاں ہیں جو ثبوتوں سے ثابت نہیں ہیں۔

دہلی راؤس ایونیو کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں جانچ کررہے سی بی آئی کے تفتیشی افسر کے خلاف محکمانہ انکوائری کی سفارش کی۔

دوسری جانب سی بی آئی دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو بری کرنے والے راؤس ایونیو کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔

دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں راؤس ایونیو کورٹ میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے کہا، " آج عدالت نے اس معاملے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ سچائی کی فتح ہوتی ہے۔ ہمیں ہندوستانی قانونی نظام پر پورا بھروسہ ہے۔ امت شاہ اور مودی جی نے مل کر عآپ کو ختم کرنے کی سب سے بڑی سیاسی سازش رچی اور پارٹی کے پانچ بڑے لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو گھر سے گھسیٹ کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ کیجریوال بدعنوان نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں صرف ایمانداری کمائی ہے۔ آج عدالت نے کہا ہے کہ کیجریوال، منیش سسودیا اور عآپ ایماندار ہیں۔

اروند کیجریوال کی اہلیہ سنیتا کیجریوال نے کہا کہ، "میں آج بھگوان کا شکر ادا کرنا چاہوں گی۔ اروند جی نے اپنی زندگی ایمانداری کے ساتھ گزاری ہے۔ لیکن ان لوگوں (بی جے پی) نے اروند جی اور ان کے ساتھیوں کو جیل بھیج دیا۔ مجھے یقین تھا کہ سچ کی جیت ہوگی۔ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔"

راؤس ایونیو کورٹ میں سماعت کے دوران جج نے سی بی آئی کی جانب سے ’ساؤتھ گروپ‘ جیسی اصطلاحات کے استعمال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "مجھے اس بات پر بھی تشویش تھی کہ 'ساؤتھ گروپ' جیسی اصطلاحات استعمال کی گئیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ اگر سی بی آئی نے یہی چارج شیٹ چنئی میں داخل کی ہوتی تو کیا وہ 'ساؤتھ گروپ' کا استعمال کرتے؟ عدالت نے سوال کیا۔۔یہ اصطلاح کس نے تیار کی؟"

سی بی آئی نے جواب دیا کہ کئی ملزمین کے لیے یہ ایک عام اصطلاح ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ امریکہ میں ایک کیس اس لیے خارج کر دیا گیا کیونکہ یہ اصطلاح ڈومینیکن گروپ کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ جج نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ 'ساؤتھ گروپ' کی اصطلاح استعمال نہیں کی جانی چاہیے تھی۔"

دہلی شراب گھوٹالہ میں گرفتاریوں سے لے کر بری ہونے تک کا سفر:

**دہلی میں آمدنی بڑھانے کے لیے دہلی حکومت نے سال 2021-22 میں نئی ​​شراب پالیسی متعارف کرائی تھی۔

**حکومت نے کہا تھا کہ اسے لانے کے پیچھے مقصد، شراب کی فروخت میں مافیا راج ختم کرنا اور حکومت کی آمدنی میں اضافی کرنا ہے۔

**جب دہلی میں شراب کی نئی پالیسی نافذ ہوئی تو اس کے برعکس نتائج برآمد ہوئے۔ 31 جولائی 2022 کے کابینہ نوٹ میں، دہلی حکومت نے اعتراف کیا کہ شراب کی زیادہ فروخت کے باوجود، آمدنی میں بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔

**پھر دہلی حکومت کے چیف سکریٹری نے اس معاملے میں اپنی رپورٹ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دی۔

**اس کی وجہ سے شراب پالیسی میں بے قاعدگیوں کے ساتھ ساتھ منیش سسودیا پر شراب کے تاجروں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کا بھی الزام لگا۔

**چیف سکریٹری نریش کمار کی طرف سے بھیجی گئی رپورٹ کی بنیاد پر لیفٹیننٹ گورنر نے 22 جولائی 2022 کو اس پورے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی۔

**سی بی آئی نے کیس درج کیا اور کئی جگہوں پر چھاپے مارے۔

**17 اگست 2022 کو سی بی آئی نے منیش سسودیا سمیت 14 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور اس کے بعد منیش سسودیا کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

**اس کے بعد ای ڈی شراب گھوٹالہ میں داخل ہوئی۔

**26 فروری 2023 کو سی بی آئی نے منیش سسودیا کو گرفتار کیا۔

**اکتوبر میں عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو ای ڈی نے اس معاملے میں گرفتار کیا تھا۔

**21 مارچ 2024 کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتار کرلیا گیا

**سپریم کورٹ آف انڈیا نے اگست 2024 میں دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو شراب پالیسی کیس میں ضمانت دے دی۔

**13 ستمبر 2024 کو تقریباً 156 دن بعد کیجریوال کو عبوری ضمانت پر رہا کیا گیا۔

**اب 27 فروری 2026 کو اس کیس میں کیجریوال اور منیش سسودیا کو کیس میں بری کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: