بالغوں کو اپنی پسند کے ساتھی کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ اور شادی کرنے کا بنیادی حق: الہٰ آباد ہائی کورٹ
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ بالغوں کو اپنی پسند کے ساتھی کے ساتھ رہنے اور شادی کرنے کا بنیادی حق ہے۔


Published : February 24, 2026 at 11:07 AM IST
الہٰ آباد: الہٰ آباد ہائی کورٹ نے بین المذاہب شادی اور لیو ان ریلیشن شپ پر ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ بالغوں کو اپنی پسند کے ساتھی کے ساتھ (لیو ان ریلیشن شپ میں) رہنے اور شادی کرنے کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اتر پردیش پرہیبیشن آف غیر قانونی تبدیلی مذہب ایکٹ 2021 خود بین المذاہب شادیوں پر پابندی نہیں لگاتا۔ شادی کے رجسٹریشن افسران صرف اس بنیاد پر شادیوں کو رجسٹر کرنے سے انکار نہیں کر سکتے کہ فریقین نے تبدیلی کے لیے ضلعی اتھارٹی سے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی اجازت لازمی نہیں ہے بلکہ ہدایت ہے۔
یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے معیار پر پورا نہیں اترتا
عدالت نے واضح کیا کہ اگر اسے لازمی سمجھا جاتا تو یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ درجنوں جوڑے جنہوں نے بین المذاہب شادیاں کی تھیں یا لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہے تھے، انہوں نے تحفظ کے لیے الہٰ آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ ان میں ہندو اور مسلم جوڑے شامل تھے جو لیو ان ریلیشن شپ میں رہنا چاہتے تھے۔ جسٹس وویک کمار سنگھ نے ان تمام درخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔
زندگی اور آزادی کا حق سپریم ہے
عدالت نے کہا کہ ہر شہری کو زندگی اور ذاتی آزادی کا یکساں حق حاصل ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا نہ ہو۔ کسی کے ساتھ صرف بین المذاہب تعلقات کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر دو بالغ افراد، چاہے وہ ایک ہی مذہب کے ہوں یا مختلف مذاہب کے، اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو ریاست یا معاشرے کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔
شادیوں کو فوری طور پر رجسٹر کریں: عدالت
آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 تمام شہریوں کو برابری اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ اضلاع کے میرج رجسٹریشن افسران کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزاروں کی شادیوں کو فوری طور پر رجسٹر کریں اور تبدیلی کی منظوری کا انتظار نہ کریں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سرکاری حکم جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت نے ریاست اور نجی فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزاروں کی زندگی، آزادی اور رازداری میں مداخلت نہ کریں۔ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی کہ اگر درخواست گزار اس کی درخواست کریں تو انہیں فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔
2019 کے حکومتی حکم کی تعمیل لازمی ہے
عدالت نے ریاستی حکومت کے 2019 کے حکومتی حکم کا حوالہ دیا، جس میں بین ذات یا بین مذہبی شادیوں میں داخل ہونے والے جوڑوں کو سکیورٹی، محفوظ رہائش اور ضروری تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کے اس حکم پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔
جیون ساتھی کا انتخاب شخص کی آزادی کا لازمی حصہ: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جیون ساتھی کا انتخاب کسی شخص کی آزادی کا لازمی حصہ ہے اور ریاست یا معاشرہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ عدالت نے کہا کہ آئین کی بنیادی روح انفرادی آزادی، کثرتیت اور تنوع کا تحفظ ہے۔ کسی بالغ کے ذاتی فیصلوں میں معاشرے کے اختلاف کی بنیاد پر مداخلت نہیں کی جا سکتی۔

