ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ کو ایم آئی ایم سے بڑا جھٹکا، پارٹی رکنیت منسوخ
اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے سرکاری بیان میں کسی الزام کو پارٹی رکنیت منسوخ کرنے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

Published : August 29, 2026 at 3:20 PM IST
حیدرآباد : آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ان کی پارٹی رکنیت فوری طور پر منسوخ کردی ہے۔ پارٹی نے انہیں فوری طور پر اپنی ایم ایل سی رکنیت سے دینے کی بھی ہدایت دی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے جوائنٹ سکریٹری ایس اے حسین انور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پارٹی کے فیصلے کی تصدیق کی۔
ان کے مطابق "مرزا رحمت بیگ کو اے آئی ایم آئی ایم سے فوری طور پر خارج کردیا گیا ہے۔ انہیں فوراً قانون ساز کونسل کے چیئرمین کو اپنا استعفیٰ پیش کرنا ہوگا۔" پارٹی کے اچانک فیصلے کے بعد تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
Mirza Rahmath Baig has been expelled from AIMIM with immediate effect. He must immediately submit his resignation to the Chairman of the Legislative Council.
— AIMIM (@aimim_national) August 28, 2026
S A Hussain Anwar, Joint Secretary AIMIM
مرزا رحمت بیگ کے خلاف یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل حیدرآباد کے عطاپور علاقے میں منعقدہ ایک پروگرام سے متعلق ان پر خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے اپنے سرکاری بیان میں ان الزامات کو پارٹی رکنیت منسوخ کرنے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے نکالے جانے پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ انہیں مجلس سے آخر کیوں نکالا گیا۔
راجہ سنگھ نے سوال کیا کہ مرزا رحمت بیگ کو اچانک، خاص طور پر نصف شب کے وقت پارٹی سے معطل یا خارج کرنے کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی سے بھی اس معاملے پر وضاحت طلب کی۔ راجہ سنگھ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے اور پارٹی کو یہ بتانا چاہیے کہ مرزا رحمت بیگ کے خلاف اتنی بڑی کارروائی کی اصل وجہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہاراشٹر: بی جے پی کارکن 3,404 ایس آئی آر فارم کی فوٹو کاپی کرتے ہوئے پکڑا گیا، پانچ بی ایل اوز معطل
پارٹی کی جانب سے صرف رکنیت ختم کرنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ مرزا رحمت بیگ کو قانون ساز کونسل کی رکنیت سے بھی فوری استعفیٰ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ مرزا رحمت بیگ پارٹی کی ہدایت پر کیا قدم اٹھاتے ہیں اور آیا وہ اپنا استعفیٰ قانون ساز کونسل کے چیئرمین کو پیش کرتے ہیں یا اس فیصلے کے خلاف کوئی قانونی یا سیاسی راستہ اختیار کرتے ہیں۔

