ایس آئی آر ڈیوٹی سے پریشان اکاؤنٹنٹ نے شادی سے ایک دن قبل کر لی خودکشی، نہیں مل رہی تھی چھٹی
یہ فتح پور کی بندکی کوتوالی کے کھجوہا قصبے کا معاملہ ہے۔ 26 نومبر کو بارات جانی تھی، ہلدی-مہندی کی رسم ہو چکی تھی۔

Published : November 25, 2025 at 5:16 PM IST
فتح پور: 25 سالہ اکاؤنٹنٹ سدھیر کمار ایس آئی آر کی ڈیوٹی کا دباؤ برداشت نہیں کر پائے اور خودکشی کرلی۔ اسی سال جون میں سدھیر کی منگنی ہوئی تھی اور اب شادی ہونے والی تھی اور ہلدی مہندی کی رسم بھی پوری ہو چکی تھی۔ سدھیر کھجوہا بلاک کے سلطان گڑھ میں اکاؤنٹنٹ کی عہدے پر فائز تھے۔ شادی کے مصروف دنوں میں وہ جہان آباد اسمبلی حلقے میں ایس آئی آر کا کام کر رہے تھے۔ سدھیر کے خاندان والوں کا الزام ہے کہ سدھیر نے چھٹی نہیں ملنے اور حکام کے ذریعہ پریشان کئے جانے کی وجہ سے خودکشی کر لی۔
سدھیر کمار اپنے خاندان کے ساتھ بندکی پولیس اسٹیشن کے تحت کھجوہا شہر میں رہتے تھے۔ گھر میں ان کی ماں رام کماری، بھائی جنگ بہادر، بھابھی اور بہن روشنی رہتی تھیں۔ سدھیر کے والد شیام بھی فوت ہو چکے ہیں۔ ان کے بھائی اور بہن شادی شدہ ہیں۔ پیر کی رات گھر میں شادی کی رسومات (ہلدی-مہندی) منعقد کی گئیں۔ رسم کے بعد گھر کے سبھی لوگ سو گئے۔ سدھیر پھر اپنے کمرے میں گیا اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ اس کی بہن نے کسی کام کے لیے پکارا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ مشکوک ہونے پر دروازہ توڑا گیا، جہاں سدھیر کی لاش ملی۔ اہل خانہ نے سدھیر کو اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
رشتہ داروں کے مطابق سدھیر کی تقرری دو سال قبل لیکھ پال (اکاؤنٹنٹ) کے طور پر ہوئی تھی۔ چھ ماہ قبل ہی اس کی شادی قریبی گاؤں سیتا پور کی ایک لڑکی سے طے پائی تھی۔ منگنی 8 جون 2025 کو جہان آباد میں ہوئی۔ شادی کی بارات 26 نومبر کو طے تھی لیکن سدھیر نے منگل کو خودکشی کر لی۔ سدھیر کی بہن روشنی نے کہا کہ اس کے بھائی کو چھٹی نہیں مل رہی تھی ۔ افسر چھٹی نہیں دے رہے تھے۔ سدھیر پیر کو کام پر نہیں گیا تھا۔ اس سے ناراض ہو کر آفیسر نے انہیں معطل کر دیا۔ پیر کی صبح آفیسر گھر آیا اور اس کے بھائی کو برا بھلا کہا۔ روشنی کے مطابق اس پریشانی کو سدھیر برداشت نہیں کرپایا اور خودکشی کرلی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی بندکی پولیس کے ساتھ ایس ڈی ایم بندکی پرینکا اگروال اور ریونیو حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور معائنہ کیا۔ بندکی پولیس اسٹیشن انچارج ہیمنت مشرا نے بتایا کہ اکاؤنٹنٹ کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ معاملہ زیر تفتیش ہے۔ فی الحال، اکاؤنٹنٹ کی خودکشی کی وجہ واضح نہیں ہے۔ تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
تحصیلدار اچلیش کمار کا کہنا ہے کہ اہل خانہ نے جو الزام لگائے ہیں، ان کی جانچ کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاملے میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:

