باروئی پور ہجوم تشدد کیس: گرفتار افراد کی تعداد 40 ہوگئی؛ 200 مشتبہ افراد کی تلاش جاری
پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل متعدد ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیاگیا۔

Published : July 9, 2026 at 2:11 PM IST
کولکاتا: مغربی بنگال کے باروئی پور میں 12 سالہ بچی کے مبینہ اغوا، عصمت دری اور قتل کے بعد بھڑکنے والے ہجومی تشدد کے معاملے میں پولیس نے مزید 22 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد اس کیس میں گرفتار افراد کی مجموعی تعداد 40 ہو گئی ہے۔ گرفتار تمام ملزمان کو باروئی پور کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لاپتا ہونے والی 12 سالہ بچی کی لاش ایک دن بعد علاقے کے ایک تالاب سے برآمد ہوئی۔ اس دلخراش واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی، پولیس پر حملہ کیا اور اندراجیت منڈل نامی ایک نوجوان کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ بعد ازاں پولیس نے اپنی تحقیقات میں واضح کیا کہ اندراجیت منڈل اس جرم میں ملوث نہیں تھا اور وہ بے گناہ تھا۔
پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جن کی مدد سے ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی۔ اس کے بعد رات بھر مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ باقی مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے تقریباً 200 افراد کی شناخت کی ہے جن پر ہجومی تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ان تمام افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ریاستی حکومت نے واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ بچی کے قتل، بے گناہ نوجوان کی ہلاکت، پولیس پر حملے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہر شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بارش نہ روک سکی سی جے پی کا احتجاج: جنتر منتر دھرنا 20ویں دن بھی جاری، سونم وانگچک نے پارلیمنٹ مارچ کا عزم ظاہر کیا
حکام نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ہجومی تشدد کے پیچھے فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی یا کسی منظم سازش کا عنصر موجود تھا یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کئی پہلوؤں سے جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

