ETV Bharat / state

نیپال کے تباہ کن سیلاب میں تلنگانہ کے 23 افراد پھنسے، 14 امریکی شہری اور آندھرا پردیش کے 6 یاتری لاپتہ

حکام کے مطابق تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 23 افراد کی تفصیلات وزارت خارجہ کو بھیج دی گئی ہیں۔

نیپال کے تباہ کن سیلاب میں تلنگانہ کے 23 افراد پھنسے، 14 امریکی شہری اور آندھرا پردیش کے 6 یاتری لاپتہ
نیپال کے تباہ کن سیلاب میں تلنگانہ کے 23 افراد پھنسے، 14 امریکی شہری اور آندھرا پردیش کے 6 یاتری لاپتہ (IANS)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 28, 2026 at 5:43 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

حیدرآباد: نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 23 افراد کے وہاں پھنسے ہونے کی ابتدائی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان میں 14 ایسے افراد ہیں جو امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب آندھرا پردیش حکومت نے بھی ریاست سے تعلق رکھنے والے چھ سیاحوں اور یاتریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔

حکام کے مطابق تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 23 افراد کی تفصیلات وزارت خارجہ کو بھیج دی گئی ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ان میں سے متعدد افراد مانسرور یاترا کے لیے نیپال۔تبت راستے سے سفر کررہے تھے یا یاترا مکمل کرکے واپس لوٹ رہے تھے۔ یہ افراد مختلف ٹریول اور ٹورازم ایجنسیوں، جن میں ایشا فاؤنڈیشن، ایشا گروپ، کیلاش جرنی پرائیویٹ لمیٹڈ اور ٹچ کیلاش شامل ہیں، کے ذریعے ماؤنٹ کیلاش اور جھیل مانسرور کی یاترا پر گئے تھے۔

ریاستی و مرکزی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق ان افراد نے حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں سے سفر شروع کیا تھا۔ 23 افراد میں 14 امریکی شہری ہیں، جبکہ ایک ایک شخص نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی شہریت رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک ایک شخص کی سلامتی کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ باقی افراد کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔

تلنگانہ کے وزیر برائے محصولات، ہاؤسنگ اور اطلاعات و تعلقات عامہ پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت ریاست کے ان افراد کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے جو نیپال کے سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اہل خانہ اور رشتہ داروں سے اپیل کی کہ اگر کسی اور شخص کے وہاں موجود ہونے کی اطلاع ہو تو حکومت کو فوری طور پر تفصیلات فراہم کریں۔

حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے دہلی میں تلنگانہ بھون اور ریاستی سیکریٹریٹ میں ہیلپ لائن اور رابطہ مرکز قائم کیا ہے، جہاں متاثرہ خاندانوں سے حاصل ہونے والی معلومات مرکزی حکومت تک پہنچائی جارہی ہیں۔

تلنگانہ سیکریٹریٹ رابطہ نمبرز:: لکشمی نارائنا: 9885371189، سرینواس ریڈی: 7997959754، چٹی بابو: 9440854433

تلنگانہ بھون، نئی دہلی ہیلپ لائن: 9871999044، 9949351270، 9618597969

آندھرا پردیش حکومت نے بھی نیپال کے سیلاب کے بعد ریاست سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان میں چپراپو رامیش بابو، وینیلکانتی بالاسبرامنیم، آنندے ورا وینکٹ رام، آنندے ورا اناگھا، اٹّلوری سسی کمار اور نِمّگڈّا راجیہ لکشمی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض افراد مانسرور یاترا پر گئے تھے۔ حکام کے مطابق وینیلکانتی بالاسبرامنیم، اٹّلوری ششی کمار اور نمگڈّا راجیہ لکشمی ایشا فاؤنڈیشن کے نمائندوں کے ساتھ ’ایس۔3 گروپ‘ میں شامل تھے اور سیلاب آنے کے وقت چینی امیگریشن دفتر کی عمارت میں موجود تھے۔ ان کی تلاش جاری ہے۔

رامیش بابو کو 26 اگست کی صبح 8 بج کر 13 منٹ پر چین کی سرحد کے قریب امیگریشن دفتر میں آخری بار دیکھا گیا تھا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ وینکٹ رام اور اناگھا سیلاب سے قبل رسوا ضلع کے تیمور علاقے میں موجود تھے، تاہم اس کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 28 یاتریوں کا ایک گروپ محفوظ ہے اور کٹھمنڈو کے ایک ہوٹل میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ، نیپال میں تازہ سیلاب کا الرٹ، ریسکیو آپریشن روک دیا گیا

سابق ڈی آر ڈی او چیئرمین ستیش ریڈی اور ان کی اہلیہ بھی محفوظ ہیں۔ مانسرور یاترا مکمل کرنے کے بعد وہ تبت کے ساگا پہنچ چکے ہیں اور محفوظ واپسی کے لیے متبادل راستوں پر غور کررہے ہیں۔