ETV Bharat / state

دہلی ایمس سے تیرہ سال تک ملی صرف تاریخ پر تاریخ، آخرکار نہ بچ سکی تنوی کی جان

والد نے الزام لگایا ہے کہ اگر ایمس وقت پر سرجری کر دیتا تو آج اس کی بیٹی تنوی زندہ ہوتی۔

15 year old girl dies at aiims dies after waiting 13 years for heart surgery, Urdu News
والد نے الزام لگایا ہے کہ اگر ایمس وقت پر سرجری کر دیتا تو آج اس کی بیٹی تنوی زندہ ہوتی (AIIMS دہلی ایمس (فائل فوٹو))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : September 2, 2026 at 12:53 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: ملک کے سب سے معتبر طبی ادارے ایمس دہلی (AIIMS Delhi) میں علاج میں مبینہ غفلت اور طویل تاخیر کا ایک انتہائی دردناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ راجستھان کے کوٹہ سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ نوعمر لڑکی تنوی نے منگل کو ایمس کے احاطے میں دم توڑ دیا۔

متوفی کے والد مکیش پریانی نے اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ دل کی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ان کی بیٹی گزشتہ 13 سالوں سے سرجری کی تاریخوں کے لیے ایمس کے چکر کاٹتی رہی، لیکن اسپتال کی ٹال مٹول کی پالیسی کی وجہ سے وقت پر آپریشن نہ ہو سکا۔ اس تاخیر اور لاپروائی کے باعث بالآخر اس کی جان چلی گئی۔

2 سال کی عمر سے ایمس میں چل رہا تھا علاج
کوٹہ کے رہائشی تنوی پیدائشی عارضہ قلب (وینٹریکولر سیپٹل ڈیفیکٹ یعنی VSD کے ساتھ پلمونری ایٹریسیا) میں مبتلا تھی۔ جب وہ محض دو سال کی تھی، تب اس کے والدین اسے پہلی بار امید کی آس لے کر دہلی کے ایمس لائے تھے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ سال 2014 میں اسپتال کی دستاویزات میں سرجری کی سفارش کی گئی تھی اور سال 2015 میں آپریشن کی تاریخ بھی طے ہوئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود مختلف وجوہات کی بنا پر سرجری ٹالی جاتی رہی۔ والد مکیش پریانی کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹروں نے وقت رہتے سرجری کر دی ہوتی تو آج ان کی بیٹی زندہ ہوتی۔ ان کا الزام ہے کہ 24 اگست سے 31 اگست تک ڈاکٹروں نے ان کی بیٹی کو دیکھا تک نہیں۔

ہارٹ-لنگ ٹرانسپلانٹ کے عمل کے دوران بگڑی طبیعت

اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق، تنوی کو گزشتہ 24 اگست کو دوبارہ ایمس (AIIMS) میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسے پھیپھڑوں اور دل کے مشترکہ ٹرانسپلانٹ (ہارٹ-لنگ ٹرانسپلانٹ) کے لیے تشخیصی عمل (ورک اپ) کے تحت رکھا گیا تھا۔ پیر کی شام تقریباً سات بجے اس کا ایک اینڈوسکوپی کا عمل مکمل کیا گیا تھا، جس کے بعد سے ہی اس کی طبیعت لگاتار بگڑنے لگی۔ سی ٹی وی ایس (CTVS) سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر وی دیوگورو نے واقعے کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ منگل کی علی الصبح تقریباً 2:50 بجے لڑکی نے شدید کمزوری اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔ جانچ میں اس کا آکسیجن لیول گر کر 48 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ حالانکہ ڈاکٹروں نے اسے آکسیجن پر رکھا اور بچانے کی تمام ممکن کوششیں کیں، لیکن اسے بچایا نہیں جا سکا اور صبح تقریباً 5:06 بجے اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

15 year old girl dies at aiims dies after waiting 13 years for heart surgery, Urdu News
دہلی ایمس سے تیرہ سال تک ملی صرف تاریخ پر تاریخ، آخرکار نہ بچ سکی تنوی کی جان (ETV BHARAT AIIMS دہلی ایمس (فائل فوٹو))

ایمس نے موت کی کوئی تسلی بخش وجہ نہیں بتائی

بیٹی کی موت کے بعد سے خاندان شدید صدمے میں ہے۔ غمزدہ والد نے ایمس انتظامیہ کے خلاف سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موت کی کوئی تسلی بخش وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ انہوں نے اسپتال کے عملے پر بار بار کاغذی کارروائی کے نام پر ہراساں کرنے اور کئی مواقع پر زبردستی اسپتال سے ڈسچارج کرنے کا دباؤ ڈالنے کا بھی سنگین الزام لگایا ہے۔ متاثرہ والد نے اس پورے واقعے میں سازش کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انصاف کی اپیل کرتے ہوئے اہل خانہ نے تب تک اپنی بیٹی کی لاش لینے سے انکار کر دیا ہے، جب تک کہ اسپتال انتظامیہ ان کے ان شکوک و شبہات اور برسوں کی تاخیر پر واضح جواب نہیں دیتی۔

ایمس انتظامیہ کی صفائی
دوسری طرف، ایمس کے سینئر ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ سال 2018 میں کی گئی جانچ کے دوران یہ پایا گیا تھا کہ بچی کے پھیپھڑوں تک خون پہنچانے والی مرکزی خون کی رگیں (پلمونری آرٹری) تیار نہیں ہو سکی تھیں، جس کے بعد عام اصلاحی سرجری (corrective surgery) کو انتہائی خطرناک سمجھتے ہوئے ٹال دیا گیا تھا اور اسے طبی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ بہرحال، ملک کے سب سے بڑے سرکاری ادارے میں ایک مریض کے 13 سال تک علاج کی آس میں بھٹکنے اور بالآخر دم توڑ دینے کے اس واقعے نے سرکاری طبی نظام کی کارکردگی پر ایک بار پھر سنگین سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

راجستھان اسکول تنازعہ: سی جے پی کارکنوں اور گاؤں والوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج

سپریم کورٹ نے پہلی بار رضاراکانہ موت کی منظوری دی، 13 سال سے بستر پر ہیں ہریش رانا

ایمس میں ہریش رانا کو 'رضاکارانہ موت' دینے کا عمل شروع، ٹیوب فیڈنگ روک دی گئی

صحت مند شخص کو ایچ آئی وی پازیٹو قرار دینے پر ایمس رشیکیش پر جرمانہ

زندگی ختم کرنے کی درخواست، عدالت سے واپسی کے دوران بیمار لڑکا فوت