ETV Bharat / state

پنجاب میں پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں 15 سالہ لڑکا گرفتار

پٹھان کوٹ میں 15 سالہ نابالغ لڑکے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر کمسن بچوں کو جاسوسی میں استعمال کرنے کا الزام
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر کمسن بچوں کو جاسوسی میں استعمال کرنے کا الزام (Representational Picture (ETV Bharat))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 6, 2026 at 2:12 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

پٹھان کوٹ: پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اب بھارت میں نابالغوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، ایسا ہی ایک معاملہ پٹھان کوٹ میں سامنے آیا، جہاں پولیس نے پنجاب سے مبینہ جاسوسی کے الزام میں ایک 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق یہ لڑکا ایک سال سے آئی ایس آئی ہینڈلرز کے رابطے میں تھا اور موبائل فون کے ذریعے حساس معلومات پاکستان منتقل کر رہا تھا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ پنجاب کے دیگر اضلاع کے کم سن بچے بھی اس جال میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

ایس ایس پی دلیجندر سنگھ ڈھلوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں کو ورغلا کر قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں ریاست بھر میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع کے رہنے والے ایک اور نابالغ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پٹھانکوٹ کے ایس ایس پی دلجندر سنگھ ڈھلون نے کہا، "پولیس کو ایک نابالغ کے پاکستان کی آئی ایس آئی کی ایک فرنٹل دہشت گرد تنظیم سے رابطے میں ہونے کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ وہ ملک کی سلامتی سے متعلق اہم اور حساس معلومات شیئر کر رہا تھا۔ یہ نابالغ پاکستانی فوج، آئی ایس آئی کے اہلکاروں اور دہشت گردی کے ماڈیول سے وابستہ لوگوں سے رابطے میں تھا۔ اس معلومات کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا۔"

ڈھلون نے مزید کہا کہ نابالغ سے پوچھ گچھ کی گئی اور اس کے موبائل فون کی جانچ کی گئی۔ ایس ایس پی نے مزید کہاکہ "ہمیں شواہد ملے ہیں کہ پاکستانی ایجنسیاں بچوں کو لالچ دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہیں، جو معاملے کی سنگینی سے بے خبر ہیں۔ پاکستانی ایجنسیاں پہلے ان سے بات کرتی ہیں اور پھر ان سے معلومات حاصل کرنا شروع کر دیتی ہیں۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ نابالغ کے والد کا دیڑھ سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ نابالغ کو شبہ تھا کہ اس کے والد کو قتل کیا گیا ہے لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ سچ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نابالغ اپنے شک کے بارے میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گیا تھا تاہم اس دوران وہ پاکستانی ایجنسیوں اور ان کے دہشت گرد ماڈیولز کے جال میں پھنس گیا تھا۔ ڈھلون نے کہا کہ "نابالغ سے برآمد ہونے والے فون سے معلوم ہوا کہ وہ موبائل ٹیکنالوجی پر عبور رکھتا تھا۔ پاکستانی ایجنسیوں نے فون کلوننگ کے ذریعے اس کے فون سے مکمل معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق اپنے موبائل فون پر کئی اہم مقامات کی ویڈیوز ریکارڈ کیں۔"

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام! امرتسر میں آئی ایس آئی کے دو کارندے ٹینک شکن راکٹ لانچر سمیت گرفتار

اس کے علاوہ، نابالغ لڑکا دہشت گردی کے ماڈیولز سے وابستہ پاکستانی گینگسٹروں سے بھی رابطے میں آیا تھا۔ اس کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایس ایس پی نے مزید کہا، "سرحدی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو بنیادی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں۔ ہماری ترجیح کمزور نابالغوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کی حفاظت ہے۔ ہم نے اس معاملے کے بارے میں سینئر حکام اور سرحدی اضلاع کے ایس ایس پیز کو آگاہ کر دیا ہے۔"