ایران اسرائیل جنگ: ایران فیفا ورلڈ کپ سے دستبردار، اس ملک کو مل سکتا ہے موقع
ایران کے وزیر کھیل نے تصدیق کی ہے کہ ان کی قومی فٹ بال ٹیم فیفا ورلڈ کپ سے دستبردار ہو گئی ہے۔

Published : March 12, 2026 at 2:53 PM IST
ایران اسرائیل جنگ نے اب کھیلوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ایران نے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں 12 جون سے شروع ہونے والے فیفا ورلڈ کپ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کے وزیر کھیل احمد دونیمالی نے قومی فٹ بال ٹیم کو امریکہ بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
فٹ بال ٹیم کو امریکہ بھیجنا ممکن نہیں
وزیر کھیل نے کہا کہ قومی فٹ بال ٹیم کو تین ماہ میں امریکہ بھیجنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے میں ہمارے قائد کی جان چلی گئی، ہمارے لیے کسی بھی حالت میں ورلڈ کپ میں شرکت ممکن نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمارے بچے اس وقت ملک میں محفوظ نہیں، ایسی صورتحال میں ورلڈ کپ نہیں کھیلا جا سکتا'۔ انہوں نے گزشتہ آٹھ یا نو مہینوں میں دوسری بار ہمارے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے اور ہزاروں شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس لیے ورلڈ کپ میں شرکت کی کوئی امید نہیں ہے۔
ایران اسرائیل جنگ
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا جس میں ایران کے سب سے ممتاز مذہبی رہنما سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اہم شخصیات ہلاک ہو گئے۔ اس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملے شروع کیے ہیں۔ اس جنگ کو اب 12 دن ہو چکے ہیں اور 1300 سے زیادہ ایرانی مارے جا چکے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ میں ایران کے مقابلے
2026 کا فیفا ورلڈ کپ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جانا ہے۔ ایران اپنے گروپ مرحلے کے تمام میچز امریکہ میں نیوزی لینڈ، بیلجیئم اور مصر کے خلاف کھیلے گا۔ ایران نے 16 جون کو لاس اینجلس میں کیویز کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرنا تھا۔ لیکن وزیر کھیل کے اعلان کے بعد وہ امید تقریباً ختم ہو گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری جنگ کے باوجود ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں خوش آمدید کہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی کے صدر نے بھی ایران کو ورلڈ کپ میں خوش آمدید کہا ہے۔
ایران کی جگہ کون سی ٹیم لے گی؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ اگر ایران ورلڈ کپ سے دستبردار ہوتا ہے تو فیفا کیا کارروائی کرتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ ورلڈ کپ میں کونسی ٹیم متبادل کے طور پر شرکت کرے گی۔ تاہم ہمسایہ ملک عراق کوالیفائی کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

