بینائی سے محروم 17 سالہ بھارتی تیراک نے 38 کلومیٹر کی تیراکی کر کے تاریخ رقم کر دی
ایشوری پانڈے سری لنکا کے تلائی منار سے تیرتے ہوئے تمل ناڈو کے دھنش کوڑی پہنچیں۔ وہ 11 گھنٹے 15 منٹ تک لگاتار تیرتی رہیں۔

Published : April 8, 2026 at 2:17 PM IST
ناگپور: کہا جاتا ہے کہ عزم ایک خاموش قوت ہے جو تمام رکاوٹوں کو دور کر کے ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ناگپور کی 17 سالہ مخصوص تیراک ایشوری پانڈے بینائی سے محروم ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے آبنائے پالک کو تیر کر کامیابی سے عبور کیا اور اپنا نام تاریخ میں درج کروا لیا۔ وہ اس کارنامے کو انجام دینے والی دنیا کی پہلی مخصوص تیراک بن گئی ہیں۔
گیارہ گھنٹے پندرہ منٹ تک تیراکی
ایشوری، جو پیدائش سے ہی بینائی سے محروم ہیں، نے سری لنکا کے تلائی منار سے تیراکی شروع کی اور 38 کلومیٹر کا راستہ 11 گھنٹے 15 منٹ میں طے کر کے تمل ناڈو کے ساحل پر پہنچ گئیں۔ وہ چھ اپریل کی صبح تقریباً 4:00 بجے ارملائی پوائنٹ کے قریب پانی میں اتریں اور سات اپریل کی سہ پہر 3:15 بجے دھنش کوڑی کے اریچل مونائی پہنچی۔
بہت سے چیلنجز کا سامنا
اس مہم کو مکمل کرنے کے لیے انہیں تیز سمندری لہروں، بدلتے دھارے، تیز بارش اور تیز و تند ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے جیلی فش اور شارک جیسی خطرناک سمندری جانداروں کے بیچ سے بھی راستہ بنایا جس سے ان یہ کامیابی مزید قابل ذکر بن گئی۔
قدرت نے بھی سخت امتحان لیا: کوچ
ایشوری کے کوچ سنجے بٹوے نے اپنی طالبہ کے عالمی ریکارڈ پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایشوری کا یہ کارنامہ واقعی قابل ستائش ہے۔ اس مشن کے دوران انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قدرت نے بھی ان کا سخت امتحان لیا۔ بارش، آندھی اور تیز لہروں کی وجہ سے انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ اس کے باعث ایونٹ کا آغاز چار گھنٹے تاخیر سے ہوا۔ آخر کار سری لنکا کی حکومت سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ایشوری نے صبح چار بجے تلائی منار جیٹی سے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔

بہت سے لوگوں نے ساتھ دیا
اس دوران ناگپور کے تجربہ کار تیراکوں کی ایک ٹیم ایشوری کے ساتھ 'پیس سوئیمر' کے طور پر موجود رہی۔ قومی کوچ وجے کمار بطور مبصر موجود رہے۔ تمل ناڈو ڈسٹرکٹ سوئمنگ ایسوسی ایشن کے جے کمار اور بین الاقوامی اوپن واٹر تیراک سکھدیو دھووے بھی اس مہم کے دوران موجود تھے۔
ایشوری، پیدائشی طور پر دونوں آنکھوں سے نابینا ہیں۔ وہ کھلے پانیوں میں تیراکی کے مقابلوں میں مسلسل اپنی صلاحیت ثابت کرتی رہی ہے۔ یہ کامیابی ان کے عزم اور استقامت کی روشن مثال ہے۔
مزید پڑھیں: اس کھلاڑی کا کمال، ہاتھوں کے بغیر تیراکی میں جیتا تین گولڈ میڈل

