ETV Bharat / opinion

روسی تیل خریدنے پر امریکی دباؤ، وینزویلا میں نئی بساط، بھارت کیلئے ایک نیا چیلنج

وینزویلا میں سیاسی کھیل، تیل پر امریکی کنٹرول اور روسی تیل خریدنے پر ٹیرف میں اضافے کی دھمکی بھارت کیلئے ایک اور سیاسی آزمائش۔

ا
وینوزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد کا ایک منظر (فائل فوٹو: اے ایف پی)
author img

By Aroonim Bhuyan

Published : January 6, 2026 at 1:07 PM IST

8 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو Nicolas Maduro کو امریکہ کی زیر قیادت ایک آپریشن کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے اور اس کے فوراً بعد واشنگٹن کی جانب سے امریکی آئل کمپنیوں کو وینزویلا کے توانائی سیکٹر کا کنٹرول دینے کے اعلان نے بین الاقوامی سطح پر تیل کے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر کی توانائی منڈیوں کو غیر متوقع طور پر شدید جھٹکا دیا ہے اور کئی ممالک کے لیے نئی معاشی اور سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارت کے لیے بھی یہ صورتحال ایک انتہائی نازک وقت میں سامنے آئی ہے۔ بھارت دنیا میں خام تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، اور اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی روس سے رعایتی قیمت پر تیل خریدنے کی پالیسی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بھارتی برآمدات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی کھلے عام دھمکی بھی دی ہے۔ 2025-26 کے مالی سال میں بھارت کا امریکہ سے تیل کی درآمد میں تقریباً 92 فیصد اضافہ ہوا، لیکن روس اب بھی بھارت کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

وزارت تجارت و صنعت کے مطابق گزشتہ برس اپریل سے نومبر تک بھارت نے 178.1 ملین ٹن خام تیل درآمد کیا، جس میں 60 ملین ٹن روس سے جبکہ 13 ملین ٹن امریکہ سے آیا۔ 2024 کے اسی عرصے میں بھارت نے 165 ملین ٹن تیل درآمد کیا تھا، جس میں 62.4 ملین ٹن روس سے اور صرف 7.1 ملین ٹن امریکہ سے حاصل کیا تھا۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کی درآمدی ترجیحات میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے، لیکن روسی سپلائی کا حصہ اب بھی زیادہ ہے۔

بھارت کے لیے تیل کے ذرائع کا تناسب محض ایک تجارتی معاملہ ہی نہیں بلکہ ملکی مہنگائی، ریفائنری کی کارکردگی، زر مبادلہ کے ذخائر اور آزاد خارجہ پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بھارت کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی جس میں روس سے تیل خریدنے کو ٹیرف سے جوڑا جا رہا ہے اور وینزویلا کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ایک اسٹریٹجک چیلنج بن چکی ہے۔ اس دباؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی توانائی کے فیصلے اب جغرافیائی سیاست سے الگ نہیں رہے۔

صدر ٹرمپ نے ایئر فورس وَن (Air Force One) میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی اور انہیں ’’ایک اچھا انسان‘‘ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ’’اگر ضرورت پڑی تو بھارت پر تیزی سے اور بھاری ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، جو بھارتی تجارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔‘‘ ٹرمپ کے حساب سے ’’بھارت کو امریکہ کو خوش رکھنا ہوگا، کیونکہ ٹیرف بڑھنے کی صورت میں اس کے اثرات بھارت کے لیے بہت سخت ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم (Lindsey Graham) ایک بل کے لیے کانگریس کی منظوری چاہتے ہیں، جس کے تحت ان ممالک پر اضافی ٹیرف لگایا جائے جو روس سے تیل اور گیس خریدنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بل میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اگر روس اگلے 50 دنوں میں یوکرین میں جنگ بندی پر راضی نہ ہوا تو یہ پابندیاں مزید سخت کی جا سکتی ہیں۔ اس بل کا ہدف توانائی تجارت کو یوکرین جنگ کے سیاسی نتائج سے جوڑنا ہے۔ بھارت جیسے ممالک پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت کو روزانہ تقریباً 5 ملین بیرل خام تیل کی ضرورت ہے۔ یوکرین جنگ سے پہلے زیادہ تر سپلائی مغربی ایشیائی ممالک سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی تھی، لیکن 2022 کے بعد روس نے رعایتی داموں پر تیل فراہم کرنا شروع کیا، کیونکہ مغربی پابندیوں کے بعد اسے نئے خریداروں کی ضرورت تھی۔ روسی تیل بھاری نوعیت کا ہوتا ہے اور مخصوص ریفائنریز کے لیے زیادہ موزوں بھی ہے، وہیں رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جانے والا تیل بھارتی ریفائنریز کے لیے ایک عملی اور معاشی طور پر سود مند آپشن بن چکا ہے۔ اس سے بھارت کا درآمدی بل بھی کم ہوا جس سے ملکی مہنگائی کو بھی سہارا مل گیا۔

بھارت توانائی کے معاملات میں تاریخی طور پر آزاد خارجہ حکمت عملی رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو توانائی کی ضروریات اور مارکیٹ قیمتوں کی بنیاد پر درست سمجھتا ہے، نہ کہ سیاسی بلاک بندی کی بنیاد پر۔ بھارتی سرکاری بیانات میں بھی یہی موقف سامنے آیا ہے کہ ’’تیل کی خریداری خالصتاً منڈی کی صورتحال کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جھکاؤ کے تحت نہیں۔‘‘

دوسری جانب، اگر امریکہ وینزویلا کے تیل سیکٹر کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھارت کی سرکاری آئل کمپنیاں ایک نئے موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ بھارت کو وینزویلا سے تقریباً 1 ارب ڈالر کی پرانی ادائیگیاں بھی وصول کرنی ہیں، جو برسوں سے رکی ہوئی ہیں۔ امریکی آئل کمپنیوں کی ممکنہ بحالی کی صورت میں بھارتی کمپنیوں کے لیے تیل کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے اور رکی ہوئی سرمایہ کاری کے فوائد حاصل کرنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

ONGC Videsh Limited اور وینزویلا کی سرکاری کمپنی CVP کے درمیان San Cristóbal آئل فیلڈ میں مشترکہ منصوبہ موجود ہے، جس میں او وی ایل کا حصہ چالیس فیصد اور PdVSA کا سٹھ فیصد ہے۔ San Cristóbal میں او وی ایل کی سرمایہ کاری تقریباً دو سو ملین ڈالر کے قریب ہے، لیکن وینزویلا نے او وی ایل کو واجب الادا منافع اور ڈیوڈنڈز ادا نہیں کیے۔ 2014 تک اس منصوبے کے 536 ملین ڈالر کے بقایہ جات کی ادائیگی بھی نہیں ہوئی، وہیں 2014 کے بعد کے عرصے کے آڈٹ کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے مزید ادائیگیاں بھی رکی پڑی ہیں۔

ایک سابق انڈین آئل پی ایس یو افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ماضی میں وینزویلا کا تیل سیکٹر امریکہ کی ExxonMobil کے کنٹرول میں رہا، لیکن صدر ہوگو ژاویز کے دور میں اسے قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ ہوگو شاویز، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے سخت مخالف تھا اور خود کو سامراج مخالف رہنما کے طور پر پیش کرتا تھا۔ یہی وہ دور تھا جب وینزویلا میں بھارتی کمپنیوں کے مفادات بھی متاثر ہوئے اور کئی منصوبے تنازعات کی نذر ہوئے۔‘‘

اگر امریکی کمپنیاں وینزویلا میں پیداوار بحال کرتی ہیں اور عالمی منڈی میں بھاری تیل کی سپلائی بڑھتی ہے تو مستقبل میں بھارت کو روس اور ویسٹ ایشیا کے علاوہ ایک اور بڑا ذریعہ مل سکتا ہے، لیکن یہ سب قانونی، تکنیکی اور سیاسی رکاوٹوں کے حل پر منحصر ہے، اور اس میں کافی وقت لگے گا۔

بھارت، مغربی ایشیائی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے دوبارہ زیادہ تیل خرید سکتا ہے، لیکن ان ممالک سے قیمتیں رعایتی نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے ہوں گی، جو روسی تیل کے مقابلے میں زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح امریکہ سے درآمد بڑھ رہی ہے، لیکن امریکی تیل ہلکا ہوتا ہے، جبکہ بھارتی ریفائنریز زیادہ تر بھاری گریڈ خام مال کے لیے بنی ہوئی ہیں، اس لیے بڑے پیمانے پر امریکی تیل خریدنے کے لیے لاجسٹک تبدیلیاں اور قیمت کا مقابلہ بھی ضروری ہوگا۔

امریکہ کی نئی پالیسی، جس میں تیل کی خرید کو ٹیرف اور عالمی سیاست سے جوڑا جا رہا ہے، ایک بڑا موڑ ہے۔ بھارت کے لیے یہ معاملہ اب صرف سستا تیل خریدنے تک ہی محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت، جغرافیائی سیاست اور ملکی معاشی استحکام کا بھی سوال بن چکا ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں بھارت کو محتاط سفارت کاری، تیل کے متنوع ذرائع اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ توانائی کی ضروریات بھی پوری ہوں اور عالمی دباؤ کے اثرات بھی کم کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ٹرمپ نے ہندوستان کو خبردار کیا، روسی تیل کی خریداری پر پھر سے ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے دی