ETV Bharat / opinion

وینزویلا کے تیل سے کمائی کیلئے امریکہ کو لگانے ہوں گے 100 بلین ڈالر، 2027 سے پہلے فائدہ مشکل

تیل سیکٹر کے خراب انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری کی کمی اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے وینزویلا کی تیل کی پیداوار میں اضافہ انتہائی چیلنجنگ ہے۔

سمندر کے بیچ موجود آئل رگ
سمندر کے بیچ موجود آئل رگ (Photo: IANS)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 5, 2026 at 12:29 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

حیدرآباد: تین جنوری سال 2026 کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکہ کی جانب سے 'گرفتار' کیے جانے کے بعد عالمی توجہ ایک بار پھر وینزویلا کے تیل کے شعبے پر مرکوز ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا کے خستہ حال تیل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو اور امریکہ اور دیگر ممالک کو تیل کی سپلائی کی جا سکے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا اور اس میں بڑی سرمایہ کاری اور وقت دونوں درکار ہوں گے۔

دنیا کے سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ، پھر بھی کم پیداوار

چوائس بروکنگ کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں جن کی مقدار تقریباً 303 بلین بیرل ہے۔ اس کے باوجود نومبر سال 2025 میں ملک کی تیل کی پیداوار صرف 0.9 ملین بیرل یومیہ تھی۔ یہ مقدار سنہ 2010 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً 2 ملین بیرل یومیہ تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب برسوں کی سرمایہ کاری کی کمی، تکنیکی خرابیوں اور سیاسی عدم استحکام مانا جا رہا ہے ہے۔

تیل کی پیداوار میں اضافہ چیلنج کیوں؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے پاس کافی عرصے سے سرمایہ کاری کی کمی ہے۔ ناقص مشینری اور محدود وسائل کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ ایک اہم چیلنج ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بہترین صورت حال میں بھی سنہ 2026 میں پیداوار میں صرف 150,000 بیرل یومیہ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی جس کا اثر 2027 سے پہلے دکھنا مشکل ہے۔

تیل کا بنیادی ڈھانچہ خستہ حالت میں: بلومبرگ

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کا تیل کا بنیادی ڈھانچہ بے حد خراب حالت میں ہے۔ بندرگاہوں پر تیل لوڈ کرنے میں اب پانچ دن تک لگ جاتے ہیں، جب کہ پہلے یہ کام ایک دن میں ہوجاتا تھا۔ کئی پائب لائن جگہ جگہ سے لیک ہو رہی ہیں، کئی ریفائنری یونٹ بند پڑی ہیں اور تیل شعبے میں چوری اور آتش زنی کے واقعات عام ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر پیداوار میں اضافہ تقریباً ناممکن ہے۔

امریکی کمپنیوں کی واپسی پر شکوک و شبہات

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے سکتی ہیں کیونکہ وہاں کا بھاری خام تیل امریکی ریفائنریوں کے لیے موزوں ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک ملک میں مکمل امن اور سیاسی استحکام نہیں آتا، کمپنیاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے گریز کریں گی۔ ماہرین کے مطابق پہلے جیسی پیداوار حاصل کرنے کے لیے اگلے 10 برسوں تک ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر سالانہ یعنی کل 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

بھارت کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے

اگر وینزویلا میں حالات بہتر ہوتے ہیں تو بھارت کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ بھارت کی کچھ سرکاری تیل کمپنیاں پہلے ہی پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اس سے قبل بھارت وینزویلا سے روزانہ تقریباً چار لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرتا تھا، جو نسبتاً سستا ہوتا ہے۔ اس سے بھارتی ریفائنریوں کو منافع بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں پر اثر فی الحال محدود ہے۔ چوائس بروکنگ کا اندازہ ہے کہ 2026 میں وینزویلا سے عالمی منڈی میں زیادہ نیا تیل نہیں آئے گا، اس لیے قیمتیں فوری طور پر متاثر نہیں ہوں گی۔ اس کا اندازہ ہے کہ 2026 میں برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت تقریباً 61.5 ڈالر فی بیرل ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر 2027 کے بعد پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں پر دباؤ میں آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:

وینزویلا پر امریکی حملے اور مادورو کی 'گرفتاری' پر شدید رد عمل، کملا ہیرس اور ممدانی ٹرمپ پر برس پڑے

امریکہ وینزویلا پر حکومت کرنے کے بیان سے پلٹ گیا، تبدیلیوں کے لیے دباؤ بنانے کی کہی بات

ٹرمپ نے ہندوستان کو خبردار کیا، روسی تیل کی خریداری پر پھر سے ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے دی

روس کی امریکہ سے مادورو کو رہا کرنے کی اپیل، بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی تاکید

امریکہ کا وینزویلا پر حملہ، ٹرمپ کا دعویٰ، ہم نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو قبضے میں لیا