نہ بارش ہوئی، نہ بادل پھٹا، پھر نیپال میں یہ تباہ کن سیلاب کیسے آیا؟ جانیں سائنسی وجہ
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے ہمالیہ کے برفانی خطے کو ایک بوسیدہ عمارت کی طرح بنا دیا ہے، جو کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

Published : August 27, 2026 at 2:22 PM IST
بدھ کے روز دنیا نے نیپال اور چین کی سرحد پر تباہی، افراتفری، اور قدرت کے قہر کا بے بسی سے مشاہدہ کیا۔ لاکھوں گیلن پانی اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلا تبت سے وسطی نیپال کی طرف بڑھا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گیا۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے جمعرات کی صبح بتایا کہ اس سیلاب کے بعد سے 300 بھارتیوں سمیت 826 افراد لاپتہ ہیں، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 165 بتائی گئی ہے۔ نواکوٹ اور راسووا اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ تبت میں بھی کئی غیر ملکیوں سمیت 558 افراد لاپتہ ہیں۔
اس سانحے کے 24 گھنٹے بعد بھی ایک پریشان کن سوال باقی ہے، وہ یہ کہ علاقے میں بارش یا بادل پھٹے بغیر اتنا ہولناک سیلاب کس وجہ سے آیا؟
نیپال میں حکام کے ابتدائی جائزے سے اشارہ ملتا ہے کہ ایک زلزلہ اس تباہی کی وجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ مٹی کے بھاری ریلے میں سینکڑوں لوگوں کے بہہ جانے سے چند منٹ قبل متاثرہ علاقے اور اس کے آس پاس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
تاہم، زلزلے کے اس نظریے کو امریکی جیولوجیکل سروے نے جلد ہی مسترد کر دیا، اور واضح کیا کہ زلزلے کے یہ جھٹکے دراصل زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کی وجہ سے آئے تھے۔

اپنی ویب سائٹ پر، یو ایس جی ایس نے کہا کہ 5.2 شدت کی زلزلے جیسی توانائی دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے تیز بہاؤ کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔
گلیشیئر کا یہ پھٹنا، جو ممکنہ طور پر برف و چٹان کا ایک بڑا تودہ گرنے کا واقعہ تھا، اپنے ساتھ پانی، مٹی اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلا لے کر آیا جو 'لہیندے کھولا' ندی (جو بھوٹے کوشی ندی کی ایک معاون ندی ہے) میں تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا۔ یہ ندی تبت کے اونچے پہاڑوں سے نکلتی ہے اور جنوب کی طرف بہتی ہوئی نیپال میں داخل ہوتی ہے۔
کاٹھمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 9 بجے بھوٹے کوشی طاس میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھنا شروع ہوئی۔ اس سیلابی ریلے نے ندی کے کناروں کو توڑ دیا اور بھوٹے کوشی سے ہوتے ہوئے نیچے ترشولی ندی کی طرف بڑھ گیا۔
Planet Labs को स्याटेलाइट तस्बिरको विश्लेषणका आधारमा गरिएको प्रारम्भिक अध्ययनबाट नेपाल-चीन रसुवागढी नाकाबाट करिब २० किलोमिटर उत्तरपूर्व नेपाल-चीन सिमानामा गएको हिम-चट्टान पहिरोका कारण ल्हेन्दे खोलामा गेग्य्रानसहितको बाढी आएको देखिएको छ। pic.twitter.com/kCAo9O1Zb0
— NDRRMA (@NDRRMA_Nepal) August 26, 2026
کئی فٹ مٹی اور ملبے کے نیچے دبے ہوئے مردہ جسموں کو نکالنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے جاری بڑے پیمانے پر جاری آپریشن کے درمیان، سائنسدان ہمالیہ میں پیش آنے والے اس تباہ کن واقعے کو سمجھنے کے لیے شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہمالیہ کے تمام آٹھ ممالک کی نمائندگی کرنے والی علاقائی بین الحکومتی تنظیم 'آئی سی آئی ایم او ڈی' کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اونچے پہاڑی علاقے میں برف اور چٹان کا تودہ گرا، جس نے ممکنہ طور پر اس تباہ کن سیلاب کو جنم دیا۔
آئی سی آئی ایم او ڈی نے بدھ کی دیر رات جاری کردہ ایک بیان میں اس آفت کو 'کرایوسفیئر' (برفانی خطے) کے بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک ایسی مثال قرار دیا ہے جو اب واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔

'کرایوسفیئر' زمین کے جمے ہوئے حصوں بشمول گلیشیئرز اور 'پرمہ فراسٹ' کے لیے استعمال ہونے والی ایک اجتماعی اصطلاح ہے۔ 'پرمہ فراسٹ' چٹانوں اور مٹی پر مشتمل کوئی بھی ایسا حصہ جو لگاتار دو یا دو سے زیادہ برسوں تک 0 ڈگری سیلسیس سے کم درجہ حرارت پر جما رہے۔
جب بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت ان جمے ہوئے مناظر کو تیزی سے تبدیل کرتے ہیں، تو ان واقعات کو 'کرایوسفیرک خطرات' (cryospheric hazards) کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ بدھ کے روز آنے والی آفت کے معاملے میں نظر آتا ہے، ہمالیہ کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے اس کے برفانی خطے کو ایک بوسیدہ عمارت کی طرح بنا دیا ہے، جو کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
اس صورت حال میں پہاڑوں کو آپس میں جوڑے رکھنے والی گہری برف پگھل جاتی ہے، جس کی وجہ سے گلیشیئر کی برف کی بڑی بڑی تہیں اپنی گرفت کھو دیتی ہیں اور بنا کسی انتباہ کے اچانک ٹوٹ کر گر جاتی ہیں۔

آئی سی آئی ایم او ڈی کے سینئر کرایوسفیئر ماہر، محمد فاروق اعظم نے کہا کہ "کرایوسفیئر کے خطرات کی بڑھتی ہوئی تعداد اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو رہی ہے۔ تبدیلی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ موجودہ کوششیں اس کا ساتھ دینے میں جدوجہد کر رہی ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ 'لہیندے کھولا' کا یہ حادثہ "مضبوط علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جہاں حکومتوں کو سرحد پار کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مل کر مربوط اقدامات کرنے ہوں گے۔"
کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری میں جیو مارفولوجی (علمِ اشکالِ زمین) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈینیئل شوگر نے بتایا کہ یہ اچانک آنے والا سیلاب 5,200 میٹر کی بلندی پر ایک چٹان سے گلیشیئر کے گرنے کی وجہ سے آیا۔ 'نیو سائنٹسٹ' میگزین نے شوگر کے حوالے سے بتایا کہ "کل اور آج کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آس پاس کے گلیشیئرز سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں برف کی ایک بڑی مقدار کم ہوئی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "میرا اندازہ ہے کہ برف اور گلیشیئر کے پگھلنے سے نچلی سطح پر بہت زیادہ پانی جمع ہو گیا، جو رِس کر گلیشیئر کے بیڈ (پیندے) تک پہنچ گیا اور وہاں پھسلن پیدا کر دی۔ یہ گلیشیئر کے گرنے کے لیے کافی تھا۔"
متاثرہ علاقوں سے ملنے والی جانکاری اور ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر آئی سی آئی ایم او ڈی کے ابتدائی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ برف اور چٹانی ملبے کی ایک بہت بڑی مقدار 'لینڈے کھولا' ندی میں داخل ہوئی۔
ادارے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہائیڈرولوجیکل مشاہدات (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) اس سیلابی ریلے کی غیر معمولی رفتار اور شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گَلچھی کے مقام پر ترشولی ندی میں پانی کی سطح صرف 30 منٹ کے اندر 9 میٹر تک بڑھ گئی، جب کہ اسی دوران مالیکھو کے مقام پر پانی کی سطح میں سات میٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔"
ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ملبے نے عارضی طور پر ندی کے کسی تنگ حصے کو روک کر لینڈ سلائیڈ ڈیم (مٹی کا قدرتی بند) تو نہیں بنا دیا تھا۔ اس طرح کی رکاوٹ سیکنڈری (ثانوی) خطرات پیدا کر سکتی ہے اگر جمع شدہ پانی اچانک پھر چھوٹ جائے۔

آئی سی آئی ایم او ڈی میں آب و ہوا اور ماحولیاتی خطرات کے سربراہ، چیانگ گونگ ژانگ نے کہا کہ "گذشتہ سال راسووا کے سیلاب سے تباہ ہونے والا یہی مقام ایک بار پھر خطرے میں ہے۔"
آئی سی آئی ایم او ڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ "لہیندے کھولا میں برف کا تودہ گرنا اس کی ممکنہ وجہ مانی جا رہی ہے، لیکن حتمی وجہ کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ نیپال اور چین کی سرحد پر اوپر کی طرف ندی میں اب بھی ملبے کی رکاوٹ موجود ہونے کی وجہ سے، حکام نے وارننگ دی ہے کہ دوسرا سیلاب آنے کا شدید خطرہ ہے، اور 'جیلونگ پورٹ' سے لوگوں کو نکلنے (انخلا) کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔"
نیپال کی تریبھون یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، بسنت راج ادھیکاری نے کہا کہ ہمالیہ میں ملٹی ہیزرڈ (کثیر خطرات) بڑھ رہے ہیں اور لہیندے کھولا کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ "نیچے کی طرف رہنے والی آبادیوں کی مشکلات اور خطرے کا پروفائل ڈرامائی طور پر بدل رہا ہے۔ چونکہ یہ برادریاں اس خطرے کے نشانے پر سب سے آگے ہیں، اس لیے خطرے سے متعلق حقیقی وقت کی جانکاری مقامی فیصلہ سازوں تک پہنچنی چاہئیں اور زندگی بچانے والے فیصلے لینے کے لیے فوری عمل ہونا چاہیے۔"
مزید پڑھیں:
نیپال سیلاب: تقریباً 165 افراد ہلاک، کم از کم 133 بھارتیوں سمیت 750 سے زیادہ لوگ لاپتہ
تبت میں مٹی کے تودے گرنے سے تین افراد ہلاک، 550 سے زائد افراد لاپتہ
نیپال سیلاب: مغربی بنگال میں متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم
نیپال میں تباہ کن سیلاب: کم از کم 95 افراد ہلاک، 350 سے زائد لاپتہ

