بھارت کو اب آبی خودمختاری کی اشد ضرورت
بھارت کے صاف ترین شہروں میں شمار ہونے والے اندور میں پانی کی آلودگی کے واقعات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

Published : January 8, 2026 at 2:31 PM IST
|Updated : January 8, 2026 at 2:40 PM IST
نئے سال کی آمد کی خوشیاں ابھی جاری ہی تھیں کہ پانی کی آلودگی سے جڑے تین ایسے سانحات نے ملک کو غم اور تشویش میں مبتلا کر دیا، جن سے بآسانی بچا جا سکتا تھا۔ پہلا سانحہ مدھیہ پردیش کے اندور میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر آلودہ پانی کے باعث تقریباً 10 افراد جان کی بازی ہار گئے اور ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔ دوسرا واقعہ گجرات کی راجدھانی گاندھی نگر میں سامنے آیا، جہاں شہر کا پانی پینے کے بعد 100 سے زائد افراد ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو گئے۔ تیسری تشویشناک خبر بنگلورو سے آئی، جہاں شہریوں نے نلکے کے پانی میں سیوریج جیسی بدبو کی شکایت کی۔
ان واقعات کا وقت اور وہ شہر جہاں یہ پیش آئے، دونوں ہی چونکا دینے والے ہیں۔ اندور کو مسلسل ہندوستان کے صاف ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بنگلورو ایک بڑا شہری مرکز ہے، جو سبز نظم و نسق اور صفائی کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ گاندھی نگر وزیر اعظم کی آبائی ریاست کا دارالحکومت ہے۔ ایسے میں ان شہروں میں پانی کی آلودگی کے واقعات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
معصوم ہندوستانیوں کی جانوں کا ضیاع اور ہزاروں افراد کی تکلیف انتہائی افسوسناک ہے۔ اگرچہ متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا گیا، لیکن صرف مالی امداد کو مکمل انصاف نہیں کہا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ ہم سیاسی الزام تراشی سے گریز کریں اور اس بحران کو حکومت کے مختلف آبی منصوبوں، خصوصاً جل جیون مشن، کے لیے ایک سنجیدہ امتحان کے طور پر دیکھیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئندہ آلودہ پانی کی وجہ سے ایک بھی جان ضائع نہ ہو۔
سب سے پہلے ان اموات کی باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ہمارے آبی نظم و نسق میں کوئی مشترکہ خامی ان تینوں واقعات کو جوڑتی ہے یا نہیں۔ جل جیون مشن، جس کے تحت ملک بھر میں پائپ کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، اب سخت سوالات کی زد میں ہے۔ موجودہ بجٹ میں اس منصوبے کے لیے 67 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اس کے باوجود یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

غفلت کی جڑ تک پہنچنا ناگزیر ہے۔ ذمہ دار افسران اور تکنیکی عملے کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ تاہم معاملہ صرف سزا تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان واقعات نے ہمارے شہری پانی کی فراہمی کے نظام میں ایک بڑے خلا کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ہمیں اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتیں کہ شدید گرمیوں کا موسم قریب ہے، جب پانی کی دستیابی کم اور طلب کہیں زیادہ ہو جائے گی۔
حکومت کو اس بڑھتے ہوئے آبی بحران کا کچھ اندازہ پہلے ہی تھا، اسی لیے گزشتہ برس منریگا (MNREGA) کے تحت ہونے والے عوامی کاموں کو مختلف اضلاع میں پانی کے تحفظ اور بحالی کی طرف موڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بعض اضلاع میں اس اسکیم کے تحت 60 فیصد تک فنڈز آبی منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل نیتی آیوگ نے بھی خبردار کیا تھا کہ 2030 تک ملک کی تقریباً نصف آبادی کو صاف پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں رہے گی۔ آلودگی، ملاوٹ اور موسمیاتی تبدیلی ہمارے آبی وسائل کو تیزی سے ختم کر رہی ہیں۔ 2025-26 کے موسمِ سرما میں، مانسون کے مہینوں میں اچھی بارش کے باوجود، ہمالیائی خطے میں برف باری میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے کئی حصے اب بھی پہاڑوں پر برف کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دریاؤں کی غیر قانونی کان کنی، تجاوزات اور شدید آبی آلودگی ہمارے سطحی پانی کے ذخائر کو تباہ کر رہی ہے۔ خشک زرعی خطوں میں دھان اور گنے جیسی پانی خور فصلوں پر حکومتی سبسڈی زیرِ زمین پانی کی حد سے زیادہ کمی کا سبب بن رہی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے پانی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، اسے آلودہ کرتے ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی شامل ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً ہمارے آبی ذخائر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف شہری آبادی، زراعت اور صنعت کی جانب سے پانی کی طلب ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔
گھروں تک پائپ لائن بچھانا یا دریاؤں کو آپس میں جوڑنا بظاہر پانی کی فراہمی کے قلیل مدتی حل ہو سکتے ہیں، مگر یہ صاف پانی کی ضمانت نہیں دیتے۔ حالیہ واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ زہریلا پانی بھی سرکاری پائپ لائنوں سے گھروں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ایک نئے اور ہمہ گیر نقطۂ نظر کی ضرورت ہے۔

پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کے بجائے ہمیں گاندھی کے تصورِ گرام سوراج کو آبی نظم و نسق میں بھی اپنانا چاہیے۔ آج ہندوستان میں پانی کے انتظام کے لیے ایک بنیادی تبدیلی (پیراڈائم شفٹ) ناگزیر ہو چکی ہے۔ مرکزیت یا نجکاری کے بجائے، ہمیں کمیونٹی کی قیادت میں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس، غیر مرکزی آبی نظام اپنانا ہوگا۔ یہی راستہ ہمیں آبی خودمختاری کی طرف لے جا سکتا ہے اور یہی طریقہ ہے جس سے صاف پانی کو عوام کی اولین ترجیح بنایا جا سکتا ہے۔
گاؤں کی سطح پر ہر گاؤں یا بلاک کو واضح اہداف اور مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی تالابوں، جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر کی دیکھ بھال کی جا سکے یا بارش کے پانی کی ایک مقررہ مقدار محفوظ کی جا سکے۔ جہاں ممکن ہو، متعدد دیہات مل کر پانی کے ذخائر کا جال قائم کریں، جو بارش کی آخری بوند تک محفوظ کر سکیں۔ اس سے قلیل مدت میں زیرِ زمین پانی ری چارج ہو سکتا ہے۔ یہ طریقہ کم خرچ بھی ہے، کیونکہ زیادہ تر ڈھانچے مٹی یا سادہ تعمیراتی مواد سے بن سکتے ہیں۔ اس کا مقصد روایتی آبی تحفظ کے طریقوں کو زندہ کرنا اور زمین کے اندر پانی کے قدرتی بہاؤ کو بحال کرنا ہے۔
ضلعی سطح پر یہی نیٹ ورک مختلف بلاکس اور شہری مراکز کو جوڑ سکتا ہے، جس سے سطحی اور زیرِ زمین پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور شہروں کی ضروریات بھی پوری کی جا سکیں گی۔
ہندوستان تبھی حقیقی معنوں میں آبی خودمختاری حاصل کر سکتا ہے جب وہ اپنی تہذیبی دانش، جمہوری اقدار اور ماحولیاتی شعور پر اعتماد کرے۔ پرانے تالابوں اور جھیلوں کی بحالی، چھوٹے آبی ذخائر کے ذریعے دریاؤں کو دوبارہ زندہ کرنا اور کیچمنٹ علاقوں میں شجرکاری نہایت ضروری ہے تاکہ فطرت کی لچک کے ساتھ پانی کی دستیابی بڑھے۔
زراعت کے شعبے میں بھی بنیادی تبدیلی درکار ہے۔ کھیتوں کو پانی کے بے جا استعمال کے بجائے پانی کے ذخیرہ کرنے والے نظام میں بدلنا ہوگا۔ مٹی میں نامیاتی مادہ شامل کرنے سے اس کی پانی محفوظ رکھنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اس لیے ایک مضبوط آبی پالیسی کے تحت نامیاتی زراعت کو فروغ دینا ضروری ہے۔
مستقبل کی شہری منصوبہ بندی میں لازم ہونا چاہیے کہ ہر شہری بلاک میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام موجود ہو۔ شہروں میں حد سے زیادہ کنکریٹائزیشن کے باعث بارش کا پانی سیدھا سیوریج میں بہہ جاتا ہے، جس سے زمین میں پانی جذب ہونے اور زیرِ زمین ذخائر کی ری چارجنگ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
نیتی آیوگ کی وارننگ سے بچنے کے لیے ہمیں متحد ہو کر ایک آبی خودمختار ہندوستان کی سمت میں قدم بڑھانا ہوگا، جس کی بنیاد ہماری تہذیبی حکمت اور مقامی دانش پر ہو۔ وقت کی ضرورت بڑے ڈیموں یا دیوہیکل منصوبوں کی نہیں، بلکہ چھوٹے تالابوں کے احیا اور کمیونٹی پر مبنی، غیر مرکزی آبی بحالی کے مربوط نظام کی ہے۔

