بنگلہ دیش کی یوتھ پارٹی کو جماعت اسلامی سے اتحاد پر ایک بڑے امتحان کا سامنا!
جماعت اسلامی کے ساتھ این سی پی کے معاہدے کے بعد بنگلہ دیش میں جمہوری اصلاحات پر شک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Published : December 30, 2025 at 12:33 PM IST
نئی دہلی: نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) جو بنگلہ دیش میں جولائی سنہ 2024 کی بغاوت سے ابھر کر سامنے آئی اور اسے کبھی ملک کی سب سے امید افزا نئی سیاسی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اب اسے اپنے پہلے وجودی بحران کا سامنا ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ اتحاد کے فیصلے سے شروع ہونے والی استعفوں کی لہر نے پارٹی کے اندر گہری پیوست نظریاتی خامیوں کو سامنے لا دیا ہے۔ اس سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک اسی سیاسی کلچر میں گھل مل رہی ہے جس کو وہ تبدیل کرنا چاہتی تھی، جس کے اثرات بنگلہ دیش کی سرحدوں سے باہر تک پھیلے ہیں۔
اتوار کو، جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ جولائی میں ہوئی بغاوت کے رہنما ناہید اسلام کی قیادت والی این سی پی اور کرنل (ریٹائرڈ) ولی احمد کی قیادت والی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اگلے سال فروری میں بنگلہ دیش میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل 10 جماعتی اتحاد میں شامل ہو گئی ہیں۔
ولی احمد اس پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ وہیں اتوار کی شام کے بعد ایک علیحدہ پریس کانفرنس میں ناہید اسلام نے کہا کہ "اصلاحات کو نافذ کرنے اور وسیع تر اتحاد کو فروغ دینے کے لیے ہم جماعت اسلامی کے ساتھ ایک انتخابی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔"
نیشنل سٹیزن پارٹی میں اختلاف
لیکن سچائی یہ ہے کہ جماعت کے اتحاد کے معاملے نے این سی پی کے اندر دراڑ کو مزید گہرا کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد کئی لیڈروں نے پارٹی چھوڑ دی ہے یا چھوڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کو این سی پی کے جوائنٹ کنوینر تاجنوا جبین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور آئندہ انتخابات سے دستبردار ہو گئے۔ انہوں نے پارٹی کی پالیسی سازی کے عمل اور جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے اقدام پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔
"میں نے آج این سی پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔" جبین نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ "بہت ٹوٹے دل کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں آئندہ قومی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔"
مزید پڑھیں: کس بات کا خوف؟ بنگلہ دیش کے انتخابات پر ہندوستان کی کڑی نظر
انہوں نے پارٹی کے نظریہ پر "سیاسی حکمت عملی" کو ترجیح دینے کا الزام لگایا اور "خیانت" کے بڑھتے ہوئے کلچر کی بات کہی۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ "اس ملک میں جمہوری تبدیلی کے لیے میری آواز اور کام مزید مضبوط ہو گا۔"
سنیچر کو این سی پی کی پہلی سینئر جوائنٹ ممبر سکریٹری تسنیم زارا نے بھی پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ڈھاکہ-9 سے آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیں گی۔
ایک فیس بک پوسٹ میں، انہوں نے کہا کہ "میں آپ کی بیٹی ہوں، میں کھلگاؤں میں پیدا ہوئی اور یہیں پرورش پائی، میرا خواب ایک سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم پر پارلیمنٹ میں داخل ہونا اور اپنے علاقے اور ملک کے لوگوں کی خدمت کرنا تھا، تاہم بعض حالات کی وجہ سے میں نے کسی خاص پارٹی یا اتحاد کے امیدوار کے طور پر الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔"
اس کے علاوہ سنیچر کو این سی پی کے 30 بانی ارکان نے انتباہ دیا کہ اگر وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کرتی ہے تو وہ پارٹی سے اجتماعی استعفیٰ دے دیں گے۔
پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ "ہمارے اعتراض کی بنیاد ہماری پارٹی کا نظریہ، جولائی کی بغاوت سے متعلق تاریخی احتساب، اور جمہوری اخلاقیات کے بنیادی سوالات ہیں۔"
انھوں نے بتایا کہ جولائی کی بغاوت کے بعد جماعت اسلامی اور اس کے طلبہ ونگ، اسلامی چھاترا شبر نے این سی پی کے خلاف پولرائزیشن کی مہم چلائی، جس میں دراندازی، رکاوٹ، غلط جانکاری، طلبہ تنظیموں میں انتخابات کے وقت پروپیگنڈہ، اور خواتین اراکین پر مربوط آن لائن حملے شامل ہیں۔
خط میں سنہ 1971 میں جماعت کی جانب سے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت، نسل کشی میں ملوث ہونے اور جنگی جرائم کے لیے جوابدہی کے حوالے سے اس کے مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ملک کی جمہوری اقدار اور جماعت کے ابتدائی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ملک اور معاشرے کو انسانی حقوق، مذہبی رواداری، خواتین اور مردوں کے ساتھ یکساں احترام، اقلیتوں کے تحفظ، شہری حقوق اور سب سے بڑھ کر جمہوری اقدار کی طرف لے جانا ہماری ذمہ داری ہے۔ "جماعت اسلامی کے ساتھ کسی بھی قسم کا اتحاد اس اخلاقی پوزیشن کو مجروح کرے گا اور ہماری ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔"
مخالفت کا لہجہ حمایت میں تبدیل
تاہم، اس کے بعد ڈھاکہ ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق بعد میں 16 سے 17 اراکین نے وضاحت کی کہ انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن بالآخر انہوں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کرنے کے پارٹی کے فیصلے کی حمایت کی۔
لیکن نوخیز پارٹی کے اندر یہ اختلاف دو خیموں بیچ گہری نظریاتی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے جو انتخابی رسائی کے لیے سمجھوتہ کرنے کے خواہش مندوں اور ان لوگوں پر مشتمل ہیں جو اتحاد کو این سی پی کی اصلاح پسند، سیکولر اور جمہوری امنگوں کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھتے ہیں۔
این سی پی کو روایتی دو پارٹیوں کے غلبے (عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، یا بی این پی) کے ایک نئے متبادل کے طور پر دیکھا گیا، جو خاص طور پر نوجوانوں اور اعتدال پسندوں سے اپیل کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ اس اتحاد سے پارٹی کی شناخت کمزور کرنے کا خطرہ ہے۔
یہ اتحاد اعتدال پسند اور نوجوان ووٹروں کو بھی دور کر سکتا ہے جنہوں نے پہلے سے قائم سیاسی سمجھوتوں کے خلاف اس کے اصولی موقف کی وجہ سے این سی پی کی حمایت کی۔ اس سے عوامی اعتماد اور ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر اگر این سی پی طویل مدتی اصولوں کے بجائے قلیل مدتی ٹیکٹس سے چلتی نظر آئے۔
این سی پی کے جوائنٹ ممبر سکریٹری مولا فاروق احسان ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پیر کو انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ انہوں نے جنوب مغربی بنگلہ دیش کے شہر اور ضلع چواڈانگا سے اپنی نامزدگی داخل کی، جسے جنگ آزادی کے دوران بنگلہ دیش کا پہلا دارالحکومت کہا جاتا ہے اور یہ دریائے متھا بھنگا پر واقع ہے۔ یہ ایک اہم زرعی اور ابھرتا ہوا صنعتی مرکز ہے، اور یہاں بنگلہ دیش کی پہلی کیپٹل یونیورسٹی جیسے اہم تعلیمی ادارے ہیں۔ یہ سب بھارت سے متصل مغربی بنگال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
پیر کو بنگلہ دیش سے فون پر ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے احسان نے کہا کہ انہوں نے جماعت کی قیادت میں 10 جماعتی اتحاد کی جانب سے اپنی نامزدگی داخل کی ہے۔
این سی پی کے اندر دو گروپ
نامزدگی سے قبل این سی پی سے استعفوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر دو گروپ ہیں۔
احسان نے بتایا کہ "ایک گروپ جماعت اسلامی یا بی این پی کے ساتھ اتحاد کا حامی ہے اور دوسرا اکیلے الیکشن لڑنے کی وکالت کر رہا ہے۔" اسی کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "این سی پی کے 80 فیصد ممبران جے آئی یا بی این پی کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑنے کے حق میں ہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کون سی پارٹی ہمیں سب سے زیادہ سیٹیں دیتی ہے۔"
احسان نے مزید کہا کہ پیر کی آخری تاریخ تک صرف 30 این سی پی امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔
بنگلہ دیشی اکیڈمک اور پولیٹیکل مبصر شرین شاہجہان نومی کے مطابق این سی پی کو شروع میں بڑے پیمانے پر قبول نہیں کیا گیا تھا کیونکہ پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے پارٹی میں ان کی کم نمائندگی کے بارے میں متعدد شکایات تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ کی سزائے موت سے بھارت بنگلہ دیش تعلقات بے مثال بحران کے شکار
نومی نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ "گذشتہ سال جولائی میں ہونے والی بغاوت میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔" "لیکن یہ ڈھاکہ یونیورسٹی تھی جس نے این سی پی کی قیادت سنبھالی۔" انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ این سی پی کا اتحاد قلیل مدتی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’این سی پی کا تیور باغیانہ ہے۔ جو روایتی پرانی پارٹیوں کے ساتھ طویل مدت کے لیے جاری نہیں رہ سکتا۔ این سی پی کی آواز مضبوط ہے۔ اسے اقتدار میں رہنے والوں سے سوال کرنا چاہیے۔"
جہاں تک بھارت کے ساتھ اتحاد کا تعلق ہے، نومی نے کہا کہ نئی دہلی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آیا یہ غصہ حقیقی مسائل سے پیدا ہوا ہے یا غلط فہمی۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں جان بوجھ کر غلط جانکاریاں کیوں پھیلائی جا رہی ہیں؟ "دراصل، بی این پی اور جماعت اسلامی انتخابات کے بعد اتحاد کر سکتے ہیں، لیکن مخلوط حکومت کمزور ہو گی، ایسے میں بی این پی کو مکمل اکثریت حاصل کرنا چاہیے۔"
بھارت کے لیے بنگلہ دیش کے سیاسی ماحول میں حالیہ پیش رفت ڈھاکہ کی سیاست میں غیر یقینی صورت حال کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ فروری کے انتخابات سے قبل سیکولر، اعتدال پسند اور نوجوانوں کی قیادت والی قوتوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ پیش آتا ہے۔
مجموعی طور پر جو این سی پی کی شکل میں جو پارٹی ایک امید افزا نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھری تھی، اب ایک نازک اور اہم موڑ پر ہے جو بنگلہ دیش کے سیاسی ماحول اور آنے والے برسوں کی علاقائی مصروفیت کو نئی شکل دے سکتا ہے یا اس کے ٹکڑے ہونے اور شناخت کے کھو جانے کا خطرہ ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیاء کا انتقال
خالدہ ضیاء کا بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بننے سے لے کر قید اور رہائی تک کا سفر
کون ہیں طارق رحمان؟ 17 سال بعد بنگلہ دیش کیوں آئے ہیں؟ ڈھاکہ ایئرپورٹ پر شاندار استقبال
عثمان ہادی کے بعد، طلبہ لیڈر مطلب سکدار کوسر میں گولی مار دی، بنگلہ دیش میں حالات مزید ابتر

