ساہتیہ اکادمی کے پیوپل اینڈ بُکس پروگرام میں غلام نبی آتش کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین
تقریب میں وادی کے معروف ادباء، شعراء، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور ادب سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

Published : July 6, 2026 at 10:12 PM IST
اننت ناگ:(میر اشفاق) ساہتیہ اکادمی نے ساؤتھ کیمپس، یونیورسٹی آف کشمیر، اننت ناگ کے اشتراک سے پیر کے روز پیپل اینڈ بُکس پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں ممتاز کشمیری شاعر، ادیب اور محقق غلام نبی آتش کی ادبی شخصیت، ان کے تخلیقی سفر اور کشمیری زبان و ادب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں وادی کے معروف ادباء، شعراء، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور ادب سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ساہتیہ اکادمی کے کنوینر پروفیسر شاد رمضان، ڈاکٹر سمیر شفیع صدیقی، مراز ادبی سنگم کے صدر ڈاکٹر شفیع ایاز سمیت متعدد ممتاز ادبی شخصیات موجود تھیں۔پروگرام کے دوران غلام نبی آتش کی زندگی اور ادبی سفر پر مبنی ایک دستاویزی فلم کی رونمائی بھی عمل میں آئی، جس میں ان کی تخلیقات، ادبی خدمات اور کشمیری ادب کے فروغ میں ان کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔
مقررین نے غلام نبی آتش کی ادبی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے کشمیری زبان و ادب کو نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مادری زبان، ادب اور ثقافت کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے اور نئی نسل کو مطالعہ، تخلیقی ادب اور اپنی ادبی روایات سے جڑے رہنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔
ممتاز کشمیری ادیب، شاعر اور قلمکار غلام نبی آتش نے کہا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں لوگوں، بالخصوص نوجوان نسل، کا کتابوں سے رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بے جا استعمال بڑھنے کے باعث مطالعے کا ذوق متاثر ہوا ہے، جبکہ کتابیں علم، شعور اور فکری بالیدگی کا سب سے معتبر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کتابوں سے اپنا تعلق ہرگز منقطع نہ کریں، کیونکہ مطالعہ نہ صرف شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ انسان کی فکری، ادبی اور علمی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔

ساہتیہ اکادمی کے کنوینر اور معروف ادیب و محقق پروفیسر شاد رمضان نے کہا کہ زبان و ادب کے فروغ میں کتابوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں انسان کو گہرے علم، مستند معلومات اور وسیع فکری شعور سے آراستہ کرتی ہیں، جبکہ محض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار اس معیار کی علمی اور ادبی آگہی فراہم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان و ادب کے تحفظ اور فروغ کے لیے سرکاری سطح پر سنجیدہ اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اساتذہ کو بھی نئی نسل میں مطالعے کا شوق پیدا کرنے اور مادری زبان سے وابستگی مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔پروفیسر شاد رمضان نے حکومت سے اپیل کی کہ کشمیری زبان کو نویں اور دسویں جماعت کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ طلبہ اپنی مادری زبان، ادب اور ثقافتی ورثے سے مزید مضبوطی کے ساتھ جڑ سکیں۔

تقریب کے اختتام پر ایک خصوصی تبادلہ خیال کا سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے غلام نبی آتش سے کشمیری ادب، زبان اور معاصر ادبی رجحانات پر گفتگو کی۔ آخر میں منتظمین نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

