ترال میں معروف معالج ڈاکٹر نثار احمد ترالی کی کتاب آئینہ منشیات منظر عام پر
تمام شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مصنف کی کاوشوں کو سراہا-

Published : June 27, 2026 at 7:27 PM IST
ترال: (شبیر بھٹ) جنوبی کشمیر کے ترال میں سنیچر کو ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں اخلاص ٹرسٹ کے بانی صدر ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی کی تازہ کتاب آئینہ منشیات کی تقریب رونمائی و پزیرائی ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی عزت تاب جسٹس بشیر احمد کرمانی تھے اور جناب معراج احمد نگر و سابق ڈی سی پلوامہ نے صدارت فرمائی۔ کتاب کی رسم رونمائی تقریب میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 افراد نے شرکت کی۔
تقریب کی شروعات قرآن قریم کی تلاوت سے ہوئی۔ تلاوت کے فرائض حافظ فیضان احمد قریشی نے انجام دی۔ اس کے بعد نعت مقبول رسول محافظ رئیس الاسلام نے شیرین زبان میں پیش کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی نے کتاب کے متعلق جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ نشہ آور دوائیں آجکل سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ نوجوان اور ناسمجھ بچے روز بہ روز ان مہلک دوائیوں کے پنجے میں پھستے جا رہے ہیں۔ ایک تو نشیلی دوائیوں کی ناجائز تجارت، دوسرے ان کا وسیع پیمانے پر استعمال جو کہ اس سے بیشتر کبھی نہیں ہوا تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے ہمارا خطہ انتہائی حساس سرحدوں سے ملتا ہے۔ جہاں متعدد نشیلی ادویات کا کاروبار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے یہ مسئلے اور زیادہ الجھن کا سبب بن گئے ہیں۔ ان دوائیوں کے مہلک اثرات سے مکمل طور پر بے خبر نو عمر لڑ کے لڑکیاں محض اپنا تنجس دور کرنے کے لئے ان دوائیوں کا شکار بن جاتے ہیں اور وادی کشمیر میں بعض خطراتی عناصر کی وجہ سے 1990ء سے چینی امراض کا طوفان امڈ آیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق کشمیر کی 45 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی قسم کے دینی تنادیا نفسیاتی مسائل ( جیسے ڈپریشن یا اینگزائٹی ) کا شکار ہے، جو منشیات اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
آج ہر سوسائٹی میں تعلیمی بیداری کی ضرورت ہے، اخلاقی بیداری لازمی ہے، وہیں منشیات کی تباہی سے بچانے کے لئے بھی عوام میں بیداری لانا ضروری ہے، یہ انسانیت کی بڑی خدمت ہوگی ، یہ معاشری تقاضا بھی ہے اور انسانی مطالبہ بھی ، ورنہ وہ دن دور نہیں جب معاشرہ پورے کا پورا منشیات کے جراثیم سے زہر آلودہ ہو چکا ہوگا۔ اخلاقی اقدار پر شب خون مارا جا چکا ہوگا اور انسانیت کراہ رہی ہوگی ۔ آخرت کی جاوداں زندگی کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے، بیچ کی عادت ، جھوٹ کی بُرائی علم کے ساتھ عمل عفو درگزر ، تو کل اور صبر و شکر حق پر استقامت، سخاوت اور خیرات کی ترغیب ، بخل، اسراف اور فضول خرچی سے پر ہیز ، میانہ روی کی تاکید ، قرابت مندوں، تیموں، پڑوسیوں، مسافروں ، سائلوں اور غریبوں کی امداد، امانت داری، ایفائے عہد ، مجاہدوں کا لحاظ ، نیکی اور بھلائی کا تذکرہ، باہمی محبت ، نہکسی کو بُرا کہنا، نہ کسی کا منہ چڑانا، نہ برے ناموں سے یاد کرنا وغیرہ جیسی اچھی عادتوں کو اختیار کرنے سے نفسیاتی بیماریاں دور ہو جائیں گے جو کہ منشیات کے لئے کلیدی رول ادا کرتے ہیں ۔ دانشوروں، ماہر تعلیم، سماجی کارکنان ، غرض معاشرے کے فرد خصوصاً علماء و ایماء حضرات وغیرہ سو سائٹی میں مہم چلائیں اور منشیات کے بھیانک نتائج لوگوں کو بتائیں تا کہ لحہ لحہ تباہی کے دہانے تک پہنچنے والی انسانی جانوں کے بچاو کا اہتمام ہو سکے۔
ڈاکٹر صاحب کے کتاب کے متعلق تاثرات کے بعد شبیر مجاہد صاحب ( سابق ڈائریکٹر دور درشن کیندر سرینگر ) نے کہا کہ منشیات کا ناجائز استعمال انسان کی صحت ، خاندان اور مستقبل کو تباہ کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی کارکن بھی ہیں۔ ان کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک حقیقی ڈاکٹر صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کرتا ہے۔ ان کی شخصیت کے متعلق اگر انہیں "ون مین آرمی" کہا جائے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا، کیونکہ انہوں نے اپنی لگن اور محنت سے تن تنہا عمدہ کارنامے انجام دئے ہیں۔ بعد ازاں معراج احمد نگر و نے اپنے ذرین خیالات پیش کئے ۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی تصنیف شدہ کتابوں مثلاً ڈائبیٹیز کا سفر، کینسر کے متعلق مختلف کتابیں وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی سماجی وابستگی اور عوامی خدمات کو لے کر ان کے جذبات کی خوب سراہانا کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں "آئینہ منشیات " کتاب کے متعلق تاثرات پیش کئے اور کہا کہ انہوں نے اس میں 300 صفحوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منشیات کا ناجائز استعمال ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کا قلع قمع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی جسٹس بشیر احمد کرمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومتی سطح پر ایڈمنسٹریشن اپنا کام کرے گی لیکن ہمیں بھی خاندانی اور سماجی سطح پر منشیات کی روک تھام کے لئے کام کرنا چاہئے۔
اس موقع پر اپنے اپنے خطابات میں دونوں نے مصنف اور اخلاص ٹرسٹ ترال کی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کا اختتام شکریہ کے ساتھ ہوا۔ تمام شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مصنف کی کاوشوں کو سراہا اور اخلاص ٹیم کے ساتھ اپنے خیر سگالی کے پیغامات ریکارڈ کرائے ۔ محمد یوسف ذبونے ڈائس انچارچ کے فرائض انجام دئے۔

