اردو کا سفر: زبان ریختہ پر لکھنوی اسلوب و انداز کا اثر جہاں اردو نے پایا نرالا رنگ
دہلی کو اردو کا گہوارہ کہا جاتا ہے تو لکھنؤ کو فصاحت و بلاغت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔


Published : July 21, 2026 at 2:07 PM IST
لکھنؤ: اردو زبان تہذیب، محبت، خواب اور انقلاب کی زبان ہے۔ اس زبان کو اپنے خون پسینے سے سینچ کر بارآور درخت بنانے والوں میں مرزا غالب، علامہ اقبال اور حالی سے لے کر منشی پریم چند تک ان گنت ادباء و شعراء شامل ہیں، جنہوں نے اسے دنیا بھر میں ایک نئی پہچان بخشی۔
اردو کا سفر
مؤرخین کے مطابق، اردو کی ابتدا 12ویں صدی میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہوئی۔ یہ ایک رابطہ زبان تھی، جسے اس وقت ہندوی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زبان مختلف ناموں سے جانی جانے لگی، جیسے ہندوی، ریختہ، ہندوستانی، دہلوی، زبان ہندوستان اور دکنی جیسے کئی ناموں سے اردو کو جانا جاتا ہے۔ مغلوں کی راجدھانی دہلی کو اس زبان کی ترقی کے لیے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
دبستان اردو کا تذکرہ
بھارت میں اردو ادب کے پانچ سب سے اہم اور تاریخی دبستان قابل ذکر مانے جاتے ہیں، جن میں 'دبستانِ دکن' کو اردو کا قدیم ترین اسکول مانا جاتا ہے، جس میں سادگی، تصوف اور دیسی رنگ نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ 'دبستانِ دہلی' بھی ایک اہم اسکول ہے جس میں اندرونی جذبات، درد و سوز، سادگی اور صوفیانہ خیالات پر زور دیا جاتا ہے۔ وہیں 'دبستانِ لکھنؤ' کی پہچان ظاہری سجاوٹ، پُرشکوہ الفاظ، رعایتِ لفظی اور عیش و عشرت کے تذکرے سے ہوتی ہے، جب کہ یہاں نزاکت و لطافت کو خاص مقام حاصل ہے۔ 'دبستانِ عظیم آباد (پٹنہ) کی بات کریں تو اس اسکول نے دہلی اور لکھنؤ کے اثرات کو ملا کر ایک متوازن اور سنجیدہ انداز اپنایا۔ جب کہ لکھنؤ کی تباہی کے بعد 'دبستانِ رامپور' کا مرکز بنا، جہاں سادگی اور شوخی کا ایک نیا امتزاج سامنے آیا۔
دہلی کو اردو کا گہوارہ کہا جاتا ہے تو لکھنؤ کو فصاحت و بلاغت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ وہیں دیگر اہم مراکز میں حیدرآباد (دکن) بھی قابل ذکر ہے جہاں اردو کی ابتدائی ترقی (قدیم دکن) ہوئی اور موجودہ دور میں بھی اردو بولنے والوں کا ایک بڑا مرکز ہے۔ پٹنہ (سابقہ عظیم آباد) بھی علم و ادب کا تاریخی گڑھ رہا ہے۔ وہیں رامپور نادر کتب خانوں کا ایک اہم مرکز ہے۔ اسی کے ساتھ اردو کا ایک اہم مرکز علی گڑھ بھی قابل ذکر ہے جو سر سید احمد خان کی تحریک اور جدید اردو نثر کا مرکز رہا ہے۔ ان کے علاوہ مالیگاؤں اور بھوپال کو بھی اردو صحافت اور شعری و ادبی سرگرمیوں کے معتبر مراکز شمار کیا جاتا ہے۔
لکھنؤ کی اردو کا ایک اسلوب اور ایک شناخت ہے
تاہم اردو ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زبان نے لکھنؤ میں ایک الگ رنگ اور انداز پایا۔ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جاں نثار عالم بتاتے ہیں کہ اردو کی بنیاد دہلی میں پڑی، دکن تک پھیلی اور پھر لکھنؤ میں اس کا اپنا ذائقہ اور اسلوب پایا۔ لکھنؤ کی اردو کا لہجہ، ثقافت اور مٹھاس کو آج بھی دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔
لکھنؤ کا دانش محل: ایک کتاب، ایک جذبہ
دانش محل، لکھنؤ کے امین آباد میں کتابوں کی مشہور دکان ہے، جس نے 1939 سے اردو کی خدمت کی ہے، اب یہ مولوی گنج منتقل ہو گئی ہے۔ دکان کے مالک محمد نعیم جذباتی انداز میں کہتے ہیں، "یہ صرف ایک دکان نہیں، یہ ایک جذبہ ہے۔ میرے والد محمد نسیم نے اسے شروع کیا تھا۔ یہاں ادیب، شاعر اور پروفیسر بیٹھا کرتے تھے۔ اب جب ہم دکان خالی کر رہے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ایک دور ختم ہو گیا ہے۔ لیکن اگر میں زندہ ہوں تو دانش محل زندہ رہے گا۔"
اردو مذہب سے بالاتر ہے
معروف شاعر اظہر اقبال کہتے ہیں کہ آج اردو کسی مذہبی شناخت تک محدود نہیں رہی۔ ہم بہت سے ہندو نوجوانوں کو جانتے ہیں جو اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے زبان کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ آج نوجوان آن لائن اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دنیا میں پہچان بنا رہے ہیں۔
اردو میں مٹھاس ہے
لکھنؤ کی نوجوان شاعرہ سائرہ روبینہ ایاز کہتی ہیں، "لوگ کہتے ہیں کہ اردو کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج معاشرے کا ہر طبقہ اس زبان کی مٹھاس کی طرف مائل ہے۔''
مشاعرہ اردو کی روح کو زندہ رکھتا ہے
نوجوان شاعر یاسر صدیقی کہتے ہیں، "مشاعروں نے اردو کو زندہ رکھا ہے۔ آج بھی ہندوستان اور بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعروں میں ہندوستانیوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اردو ہماری ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ اردو شاعری کے چاہنے والے بیرون ملک بھی موجود ہیں۔"

