میں اعزاز کے لیے نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا میرا شوق ہے: علی شیدا
واضح رہے کہ اننت ناگ کے معروف شاعر علی شیدا کو حال ہی میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔

Published : April 19, 2026 at 9:29 AM IST
اننت ناگ: (میر اشفاق) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گاؤں نیپورہ سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر اور ادیب علی محمد ریشی، جو ادبی دنیا میں علی شیدا کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو ان کے کشمیری شعری مجموعے “نجداونیکی پُوت آلاو” پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشافاق کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علی شیدا نے کہا کہ وہ ایوارڈ کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی شوق کے تحت لکھتے ہیں۔
ان کے مطابق لکھنا ان کے لیے عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اپنی مصروفیات کے باوجود ہمیشہ قلم اور کاغذ کے ساتھ جڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھائی میں اس قدر مگن ہو جاتے تھے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ پچپن برسوں سے شاعری سے وابستہ ہیں اور مسلسل محنت و لگن کے ذریعے اپنے شوق کو پروان چڑھاتے رہے، جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔ ان کے بقول ان کی تحریروں کا اصل معاوضہ قارئین کی محبت، پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہے، جس نے انہیں ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

قابل ذکر ہے کہ علی شیدا نہ صرف شاعر بلکہ نثر نگار، افسانہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں۔ ان کی 76 نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، جس سے ان کی ادبی پہنچ کو بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان ملی ہے۔
یکم اپریل 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ایک تقریب کے دوران کشمیری ادب میں 1970 سے جاری ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اننت ناگ کے معروف شاعر و ادیب علی شیدا کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا
اس موقعے پر مختلف ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے علی شیدا کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس اعزاز پر وزارتِ ثقافت، ساہتیہ اکادمی، اساتذہ، ادبی رفقاء، دوستوں، میڈیا اور اپنے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے چاہنے والوں کے لیے باعث فخر قرار دیا۔
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہر سال ملک کی 24 تسلیم شدہ زبانوں میں نمایاں ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، جس میں ایک لاکھ روپے نقد انعام، تانبے کی تختی اور شال شامل ہوتی ہے۔ علی شیدا کو کشمیری زبان کے زمرے میں ان کی مذکورہ کتاب پر یہ اعزاز دیا گیا، جسے روایت اور جدید اظہار کے حسین امتزاج، ادبی گہرائی اور ثقافتی حساسیت کے لیے بے حد سراہا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: علی شیدا کی تازہ غزل: کردار اپنے آپ کہانی میں مر گئے
علی شیدا کا ادبی سفر 1970 میں شروع ہوا، جبکہ 1971 میں کالج کے زمانے میں اساتذہ اور نامور ادیبوں کی رہنمائی نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ ان کی ابتدائی تخلیقات مقامی اخبارات میں شائع ہوئیں، بعد ازاں قومی سطح کے رسائل میں جگہ پائیں اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے وسیع حلقۂ قارئین و سامعین تک پہنچیں۔

اب تک علی شیدا 10 کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں چھ کشمیری، اور چار اردو زبان میں شامل ہے، جبکہ مزید چار کتابوں کی اشاعت متوقع ہے۔ ان کا ایوارڈ یافتہ مجموعہ، جو 2022 میں شائع ہوا، کشمیری زبان میں ان کی چھٹی کتاب ہے۔ اس تصنیف میں نئے موضوعات، جدید اسالیب اور ادبی تجربات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ روایتی شاعری کی روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں غزل، نظم، نثری شاعری، رباعیات اور نئی اصناف جیسے ستری نظم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
خلیج فارس میں جاری کشیدگی کے بیچ، کشمیر میں 50ہزار فارسی مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن شروع
ساہتیہ اکادمی ایوارڈز: اردو ادب کو نمایاں مقام، پریتپال سنگھ بیتاب کو “سفر جاری ہے” پر اعزاز

