خلیج فارس میں جاری کشیدگی کے بیچ، کشمیر میں 50ہزار فارسی مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن شروع
کشمیر یونیورسٹی کا فارسی مخطوطات محفوظ بنانے اور ڈیجیٹل رسائی بڑھانے کا منصوبہ تحقیق اور ثقافتی ورثے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Published : April 17, 2026 at 7:51 PM IST
سرینگر: خلیج فارس میں کشیدگی، جنگ بندی اور مذاکرات کے بیچ جموں و کشمیر میں فارسی زبان و ادب سے جڑی ایک بڑی ثقافتی پہل کے تحت مشترکہ علمی ورثے کو محفوظ کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
وادی کی بڑی علمی دانشگاہ، کشمیر یونیورسٹی، نے وزیر اعظم نریندر مودی کے شروع کیے گئے قومی پروگرام کے تحت تقریباً 50 ہزار فارسی مخطوطات کی فہرست سازی اور ڈیجیٹلائزیشن کا کام شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد "نازک تاریخی ریکارڈ کو محفوظ رکھنا اور ملک سمیت دنیا بھر کے محققین کے لیے انہیں قابل رسائی بنانا ہے۔"
ماضی میں فارسی اس خطے میں سرکاری زبان تھی اور صدیوں تک نہ انتظامیہ میں فارسی زبان و ادب کا بول بالا تھا بلکہ یہ زبان نصابی تعلیم کا کلیدی حصہ تھی۔ فارسی زبان و ادب خطے میں زیادہ تر تحریری مخطوطات کی شکل میں موجود ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے سربراہ پروفیسر جہانگیر اقبال کا کہنا ہے کہ یہ مخطوطات مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا: "ان میں شاعری، مذہب، طب اور حکمرانی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن سے یہ محفوظ بھی رہیں گے اور دنیا بھر کے شائقین کی علمی پیاس بجھانے کا کام بھی کرے گی۔"
ایران کے ساتھ کشمیر کے ثقافتی تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ کئی ایرانی علماء، صوفی بزرگ اور ہنرمند دستکار یہاں آئے اور ان کے اثرات آج بھی یہاں کی روایات، فن تعمیر اور ہنر بشمول قالین بافی، ختم بند اور پیپر ماشی میں نظر آتے ہیں۔ قدیم تجارتی راستے کشمیر کو ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑتے تھے، جن کے ذریعے نہ صرف سامان بلکہ کتابیں، خیالات اور فنون بھی یہاں پہنچے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی کشمیر آ چکے ہیں اور یہاں کے مسلمانوں کی حالت پر بھی بات کر چکے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق وہ 1980 میں ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ہی وادی آئے اور سرینگر کی جامع مسجد میں ایک اجتماع سے خطاب بھی کیا تھا۔
ادھر، مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ فارسی زبان، آرکائیو سائنس اور تحفظ کے ماہرین اس عمل کی نگرانی کریں گے۔ "ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد مخطوطات کو مزید خراب ہونے سے بچانا اور انہیں آن لائن محفوظ کر کے آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔" ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت میں فارسی تعلیم اور تحقیق کو نئی تقویت دے سکتا ہے۔

ہند-فارسی ثقافت کی طالبہ ڈاکٹر مہناز خان نے اس منصوبے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا: "فارسی مخطوطات بھارت کی انتظامی، ثقافتی اور علمی تاریخ کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ انہیں ڈیجیٹل بنانے سے تحقیق اور تعلیم کے نئے راستے کھلیں گے۔"
جہانگیر اقبال نے مزید کہا کہ یہ ذخیرہ کشمیر کے علمی مرکز ہونے کی تاریخی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ "ان مخطوطات کو محفوظ رکھنا ناگزیر ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے گہرے ثقافتی اور علمی ورثے کو سمجھ سکیں۔"
یہ بھی پڑھیں:

