کشمیر میں حبہ خاتون کی حیات و ادبی خدمات پر سمپوزیم منعقد
ادبی تقریب میں وقف کی چیئرپرسن، شعراء، قلمکاروں، ادیبوں سمیت کالج طلبہ نے بھی شرکت کی۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : May 7, 2026 at 6:00 PM IST
پلوامہ (سید عادل مشتاق) : ساہتیہ اکادمی کی جانب سے جنوبی کشمیر کے گورنمنٹ ڈگری کالج، پانپور، کے اشتراک سے کالج کیمپس میں کشمیر کی ممتاز شاعرہ "حبہ خاتون" کی حیات اور ادبی خدمات پر ایک ادبی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ سمپوزیم کا مقصد حبہ خاتون کی شعری خدمات، ادبی عظمت اور کشمیری ثقافت پر ان کے گہرے اثرات کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر تقریب میں آئے مقررین نے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ "حبہ خاتون کی شاعری آج بھی کشمیری ادب اور اجتماعی ثقافتی شعور میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔"
تقریب میں جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن سید درخشاں اندرابی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے حبہ خاتون کی شاعری کی عصری معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ان کے کلام میں محبت، استقامت، روحانیت اور نسوانی احساسات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔" انہوں نے ساہتیہ اکادمی اور کالج انتظامیہ کی جانب سے علاقائی زبانوں اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے کی جانے والی ادبی سرگرمیوں کو بھی سراہا۔
گورنمنٹ ڈگری کالج، پانپور، کی پرنسپل غزالہ اظہر نے مہمانوں اور شرکاء خاص کر مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کلاسیکی کشمیری ادب کے علمی مطالعے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلبہ کو اپنی لسانی اور ثقافتی شناخت سے جڑنے کی تلقین کی۔
ساہتیہ اکادمی کے پبلیکیشن اسسٹنٹ محمد موسیٰ رضا نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے سمپوزیم کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور ہندوستانی زبانوں و ادبی روایات کے تحفظ و فروغ کے لیے اکادمی کی جاری کوششوں کا ذکر کیا۔ ساہتیہ اکادمی کے کشمیری ایڈوائزری بورڈ کے کنوینر شاد رمضان نے بھی خطاب کرتے ہوئے کشمیری شعری روایت کو فروغ دینے میں حبہ خاتون کی خدمات کو اجاگر کیا۔
صدارتی خطاب ممتاز ادیب، محقق اور نقاد محمد یوسف ٹینگ نے پیش کیا۔ انہوں نے حبہ خاتون کی شاعری کا علمی و تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے انہیں کشمیری غنائی شاعری کی اولین اور نمایاں آواز قرار دیا، جن کے اشعار میں "ذاتی جذبات اور سماجی شعور کا حسین امتزاج" نظر آتا ہے۔

تقریب میں کشمیری ایڈوائزری بورڈ کے رکن محمد امین بٹ کے علاوہ معروف ادبی شخصیات محمد زمان آزردہ سمیت متعدد دانشوروں، شعراء، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی اور اپنے خیالات پیش کیے۔
پروگرام کا اختتام علمی مباحث اور ادبی گفتگو کے ساتھ ہوا جس نے حبہ خاتون کی زندگی، شاعری اور دیرپا ادبی ورثے پر سنجیدہ مکالمے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ سمپوزیم میں کشمیری کلاسیکی ادب کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوان نسل میں علاقائی ادبی ورثے کے تحفظ اور فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:

