ETV Bharat / jammu-and-kashmir
تعلیمی محکمہ میں کام کرنے والی کک خواتین کا اننت ناگ میں احتجاج، ماہانہ اجرت بڑھانے کا مطالبہ
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے انہیں فی الحال صرف ایک ہزار روپے ماہانہ اجرت دی جا رہی ہے۔

Published : August 31, 2026 at 5:24 PM IST
اننت ناگ: (فیاض لولو) تعلیمی محکمہ میں بطور کک کام کرنے والی خواتین نے پیر کے روز اننت ناگ کے وزیر باغ علاقے میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے اپنی ماہانہ اجرت میں اضافہ کرنے اور دیرینہ مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں شامل خواتین نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے محکمہ تعلیم کے تحت بطور کک اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور مختلف تعلیمی اداروں میں بچوں کے لیے مقررہ ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں انتہائی معمولی ماہانہ اجرت دی جا رہی ہے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے انہیں فی الحال صرف ایک ہزار روپے ماہانہ اجرت دی جا رہی ہے، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ اتنی کم آمدنی میں گھریلو اخراجات، بچوں کی ضروریات اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
احتجاجی خواتین نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھروں میں کئی طرح کی ذمہ داریاں ہیں اور بچوں کی پرورش بھی ان ہی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، لیکن ان کی ماہانہ اجرت میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔
خواتین نے کہا کہ “ہمارے پاس اپنے بچوں کو کھلانے اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مناسب پیسے نہیں ہیں۔ ہم کئی سالوں سے کام کر رہی ہیں، لیکن ہماری اجرت اتنی کم ہے کہ اس سے گھر کا گزارا کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وہ کسی غیر ضروری مطالبے کے لیے احتجاج نہیں کر رہیں بلکہ حکومت سے صرف اتنی اپیل کر رہی ہیں کہ ان کی محنت اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہانہ اجرت میں مناسب اضافہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کا بہتر طریقے سے پیٹ پال سکیں۔
احتجاجی خواتین نے لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے خصوصی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جائے اور ان کی ماہانہ اجرت میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے وہ محکمہ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان کی مالی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ایسا فیصلہ لیا جائے جس سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو کچھ راحت مل سکے۔
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ معمولی اجرت ان کی محنت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی اجرت کو موجودہ مہنگائی اور ضروریات زندگی کے تناسب سے بڑھایا جائے تاکہ وہ عزت اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
احتجاجی خواتین نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان کے جائز مطالبات کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور متعلقہ محکمہ کو ان کی ماہانہ اجرت میں اضافہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر بروقت توجہ نہیں دی گئی تو وہ آئندہ بھی پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز حکام تک پہنچاتی رہیں گی۔

