ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پہلگام میں خوف کی دھند چھٹنے لگی، ونٹر فیسٹیول سے سیاحتی بحالی کی امیدیں روشن
دہشت، مایوسی کے بعد سیاحتی مقام پہلگام میں ونٹر فیسٹیول نے سیاحت کی نئی راہیں کھول دیں، نئے سال کے موقع پر سیاحوں کا ہجوم۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : January 1, 2026 at 12:30 PM IST
پہلگام (میر اشفاق) : کشمیر کے نمایاں اور دلکش سیاحتی مقامات میں سے ایک، پہلگام، میں دہشت گردانہ حملے کے بعد وادی خاص کر جنوبی کشمیر کا یہ خطہ شدید معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ اس حملے نے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو اچانک مفلوج کر دیا بلکہ سیاحت سے جڑے سینکڑوں افراد کی روزی روٹی بھی متاثر ہوئی۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ سیکٹر، ٹور گائیڈز، گھوڑے بان، دستکار، دکاندار اور دیگر چھوٹے کاروباری طبقے طویل عرصے تک غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رہے۔
ایسے نازک حالات میں ونٹر فیسٹیول 2025 کو پہلگام میں سیاحت کی بحالی کی سمت ایک اہم اور حوصلہ افزا قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیسٹیول کا بنیادی مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ خوف اور عدم تحفظ کی فضا کو ختم کر کے اعتماد کی بحالی، سیاحوں کو دوبارہ راغب کرنا اور یہ پیغام دینا کہ پہلگام ایک محفوظ اور پر امن سیاحتی مقام ہے۔
فیسٹیول کے دوران ثقافتی پروگرامز، روایتی کشمیری موسیقی، مقامی دستکاریوں کی نمائش، سردیوں کے روایتی پکوان اور تفریحی سرگرمیوں نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کی توجہ بھی حاصل کی۔ اس سے مقامی کاروبار میں وقتی ہی سہی مگر مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی، ہوٹلوں میں بکنگ بڑھی، ٹیکسی اور دیگر سفری سہولیات کی مانگ میں اضافہ ہوا اور مقامی مصنوعات کی فروخت کو بھی تقویت ملی۔

سیاحت سے وابستہ چھوٹے کاروباری افراد ونٹر فیسٹیول کو ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’’اگر اس طرح کے ایونٹس تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جائیں تو سیاحت کی رفتار بتدریج بحال ہو سکتی ہے۔‘‘ دوسری جانب بڑے ہوٹل مالکان اور ٹور آپریٹرز اسے ایک اعتماد سازی کا عمل قرار دیتے ہیں، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ’’صرف فیسٹیول کا انعقاد ہی کافی نہیں، منظم تشہیری مہم، قومی و بین الاقوامی سطح پر مثبت تاثر بھی ناگزیر ہے۔‘‘
ماہرین کے مطابق ونٹر فیسٹیول 2025 اگرچہ سیاحت کی مکمل بحالی کی ضمانت نہیں، تاہم یہ ایک مضبوط آغاز ضرور ہے۔ یہ فیسٹیول پہلگام کی شبیہہ کو بہتر بنانے، خوف کی فضا کو کم کرنے اور سیاحتی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔

مجموعی طور پر ونٹر فیسٹیول 2025 کو پہلگام میں سیاحت کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی معیشت کو سہارا دینے کی سمت ایک مثبت، ضروری اور بروقت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اگر مربوط پالیسیوں کے ساتھ جاری رکھا گیا تو دیرپا نتائج دے سکتا ہے۔
پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، میر نصرالہلال، نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہا کہ ’’پہلگام میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، ونٹر کارنیول کا بھی اس میں امید سے زیادہ رول رہا، آنے والے وقت میں اسنو فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کی آمد کو ممکن بنایا جا سکے۔‘‘ ہلال نے کہا کہ ’’فیسٹیولز کے دوران یہاں کے ثقافت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ سیاح مختلف پہلوؤں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں جو مزید ٹورسٹ کا سبب بن سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام کی رونقیں بحال ہونے سے تمام اسٹیک ہولڈرز اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اس طرح کی رونق دیکھ کر سب کو بہت اچھا لگتا ہے اور امید ہے کہ برف باری کے بعد سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
پونی والاز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالوحید وانی نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: ’’بائسرن میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سیاحت سے وابستہ افراد، خصوصاً گھوڑے بان، مکمل طور پر روزی روٹی سے محروم ہو گئے تھے۔ تاہم تقریباً چھ ماہ کے طویل وقفے کے بعد اب دوبارہ سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اور خاص طور پر ونٹر فیسٹیول کے آغاز کے بعد سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔‘‘
انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ’’اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کئی مقامات پر گھوڑے چلانے پر پابندی عائد ہے، جس کے باعث گھوڑا بانوں کا روزگار معمول کے مطابق بحال نہیں ہو پا رہا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام میں 1200 کے قریب رجسٹرڈ گھوڑے بان ہیں اور کئی ماہ بعد گھوڑے بانوں کو دوبارہ کمائی کا موقع ملا تھا، مگر مختلف مقامات پر قدغن کی وجہ سے وہ سیاحوں کو گھوڑوں کی سواری فراہم نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف سیاحوں کی دلچسپی متاثر ہو رہی ہے بلکہ گھوڑا بان طبقہ بھی شدید مالی نقصان سے دوچار ہے۔

دوسری جانب سیاحوں کا کہنا ہے کہ ’’خوف کبھی بھی شوق اور جنون پر غالب نہیں آ سکتا۔‘‘ نئے سال کا جشن منانے پہلگام آئی ایک خاتون سیاح نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: ’’وادی کشمیر جنت کا ایک حسین ٹکڑا ہے اور اس کی بے مثال خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے خود کو روک پانا ناممکن ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہاں آنے سے قبل موجود خدشات اور غلط فہمیاں زمینی حقیقت سے بالکل مختلف ثابت ہوتی ہیں اور کشمیر پہنچتے ہی یہ تمام خدشات خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔
سیاحوں نے مزید کہا کہ ’’کشمیر کے لوگ بے حد مہمان نواز اور محبت کرنے والے ہیں، جو ہر آنے والے کو متاثر کرتے ہیں۔ وادی کی دلکش فضا، قدرتی حسن اور مقامی لوگوں کا خلوص ایسا ہے کہ یہاں آ کر واپس جانے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘
واضح رہے کہ سال 2025 میں (یکم جنوری سے 16دسمبر تک) 957928 سیاح پہلگام وارد ہوئے، جن میں سے 600693 مقامی 349272 ملکی جبکہ 7963 غیر ملکی سیاحوں نے پہلگام کی سیر کی۔
یہ بھی پڑھیں:

