ETV Bharat / jammu-and-kashmir
عیدگاہ سرینگر میں عید نماز ہوگی یا نہیں؟ عوام تذبذب میں
سال 2019 کے بعد پہلی بار عیدگاہ میں اجتماعی نماز کی امیدیں بڑھیں ہیں، مگر میرواعظ کی نظر بندی سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : May 26, 2026 at 6:13 PM IST
سرینگر: منگل کے روز بھی سرینگر کے تاریخی عیدگاہ میں عیدالاضحیٰ کی نماز کے انعقاد کو لے کر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔ شہرِ خاص کے رہائشی اس امید میں ہیں کہ کئی برسوں بعد کشمیر کے سب سے بڑے اور تاریخی عیدگاہ میں دوبارہ اجتماعی طور نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
عیدگاہ، جو کبھی کشمیر میں عید کے بڑے اجتماعات کا مرکز ہوا کرتا تھا، اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے بڑے اجتماعات خاص کر عیدین کی نمازوں کے لیے تقریباً بند ہی رہا۔
اتوار کو میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کی قیادت والی انجمن اوقاف جامع مسجد، سرینگر، نے اعلان کیا تھا کہ بدھ کے روز صبح ساڑھے نو بجے عیدگاہ میں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی جائے گی۔ اوقاف کے مطابق میرواعظ صبح ساڑھے آٹھ بجے عیدالاضحیٰ اور قربانی کی اہمیت پر خطاب بھی کریں گے۔ اوقاف نے بتایا کہ "میرواعظ نے عیدگاہ کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا اور اگر موسم سازگار رہا تو میدان کو نماز کے لیے موزوں قرار دیا۔"
Today, Anjuman Auqaf Jama Masjid met to review arrangements for Eid-ul-Azha prayers. I later visited the historic Eidgah Srinagar and found the condition of the ground and other requirements to be fine . InshaAllah, weather permitting , Eid prayers according to Sunnah shall be… pic.twitter.com/J04ou2Jt7Q
— Mirwaiz Umar Farooq (@MirwaizKashmir) May 25, 2026
اپنے بیان میں اوقاف نے امید ظاہر کی کہ اس بار انتظامیہ عیدگاہ میں نماز کی اجازت دینے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ "عیدگاہ کی حالت بہتر ہے اور نئی تعمیر شدہ منبر کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔"
تاہم منگل کو اس غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب میرواعظ نے کہا کہ انہیں گھر میں نظر بند کرکے بڈگام جانے سے روکا گیا، جہاں وہ ایک 12 سالہ بچی کے قتل پر اہل خانہ سے تعزیت کرنا چاہتے تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں میرواعظ نے کہا کہ آج صبح انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بڈگام جانے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ ان کے تمام دورے پہلے سے اجازت کے تابع ہوتے ہیں اور ایک دن پہلے ہی انہیں اطلاع دینی پڑتی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ وہ غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں اس سے بھی روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "افسوس کی بات ہے کہ تعزیت جیسے بنیادی انسانی جذبے کو بھی حکمران اپنے 'امن اور معمول کی صورتحال' کے بیانیے کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔"
Placed under house arrest early morning today after being denied permission to visit Budgam (all my visits are subject to permission by authorities, who are to be informed a day earlier) to offer condolences and share in the grief of the bereaved family who lost their 12 year… pic.twitter.com/fiYwTUB0PQ
— Mirwaiz Umar Farooq (@MirwaizKashmir) May 26, 2026
ادھر، عیدگاہ کے اطراف رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک واضح نہیں کہ نماز کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔ نوا کدل کے رہائشی بشیر احمد نے کہا: "2019 سے ہر عید پر نماز کے اعلانات ہوتے ہیں، مگر آخری لمحے تک لوگوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے۔ گزشتہ سال بھی لوگوں کو امید تھی، لیکن نماز نہیں ہو سکی۔"
محمد یوسف نامی ایک اور شہری نے ماضی کے اُن ایام کو یاد کیا جب سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع سے لوگ عیدگاہ آیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: "لوگ صبح سویرے پہنچنا شروع ہو جاتے تھے اور پورا میدان بھر جاتا تھا۔ نئی نسل کے لیے اب وہ مناظر صرف یادیں بنتی جا رہی ہیں۔"
سرینگر کے شہر خاص میں تقریباً 600 کنال اراضی پر پھیلے عیدگاہ میں تاریخی عالی مسجد بھی موجود ہے، جو جامع مسجد کے بعد کشمیر کی اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔
وقف بورڈ حکام کے مطابق، اس سال 21 مارچ کو عیدالفطر کے موقع پر عیدگاہ کے مرکزی میدان میں اجتماعی نماز ادا نہیں کی گئی تھی۔ حکام نے بتایا کہ نماز عیدگاہ سے متصل عالی مسجد میں ادا کی گئی جبکہ گزشتہ سال حضرت بل مرکزی مقام تھا۔ حکام کے مطابق اس وقت وادی بھر میں سرد موسم ہے اور بارش والے موسم کی وجہ سے بیشتر بڑے اجتماعات کو کھلے میدانوں کے بجائے اندرونی مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔

اس سال 27 مارچ کو وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے عیدگاہ میں نئے تعمیر شدہ شاہ ہمدان منبر کا افتتاح کیا تھا۔ تقریباً چار دہائیوں بعد دوبارہ تعمیر کیے گئے اس منبر میں روایتی 'دیور' پتھر، سنگِ مرمر اور گرینائٹ استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس پر خوبصورت خطاطی اور روایتی طرزِ تعمیر کا کام بھی کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے منبر کی تکمیل کے بعد اس تاریخی میدان میں دوبارہ بڑے اجتماعات کی امید بڑھی ہے۔ غلام نبی طوطا نامی ایک مقامی شہری نے کہا: "عیدگاہ ہمارے لیے صرف ایک میدان نہیں بلکہ ہماری مذہبی اور سماجی زندگی کا حصہ ہے۔ نئے منبر نے لوگوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔"
.@MirwaizKashmir Extends Eid-ul-Adha Greetings
— Mirwaiz Manzil-Office of Mirwaiz-e-Kashmir (@mirwaizmanzil) May 26, 2026
Says Society Must Introspect After Heartbreaking Budgam Incident
Urge Prayers for Those in Jails*
Srinagar, May 26, 2026 : On the eve of Eid-ul-Adha, Mirwaiz-e-Kashmir Dr. Moulvi Muhammad Umar Farooq extended heartfelt greetings… pic.twitter.com/Hc0i82FHZZ
انہوں نے مزید کہا: "یہ افسوسناک تھا کہ گزشتہ سال یہاں نماز کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے، مگر لوگ چاہتے ہیں کہ عیدگاہ میں پہلے کی طرح نمازیں دوبارہ بحال ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں:

