ETV Bharat / jammu-and-kashmir

روزوں کی حالت میں غصہ کیوں آتا ہے؟ ماہر نفسیات نے کی وضاحت

ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد صحاف نے کہا کہ ہارمونزل تبدیلیاں غصہ آنے کے اہم وجوہات میں سے ایک ہیں۔

روزوں کی حالت میں غصہ کیوں آتا ہے، ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد صحاف سے خصوصی بات چیت کی
روزوں کی حالت میں غصہ کیوں آتا ہے، ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد صحاف سے خصوصی بات چیت کی (Image : ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 23, 2026 at 7:27 PM IST

|

Updated : February 23, 2026 at 7:33 PM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: (پرویزالدین) روزہ صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ لوگ معمولی باتوں پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہیں جس کا اکثر مظاہرہ سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ معمولی باتوں یا غلطیوں پر بھی ایک دوسرے سے دست وگریباں ہونے میں دیر نہیں لگاتے ۔روزے کی حالت میں زیادہ غصہ کیوں آتا ہے۔"روزوں کی حالت میں زیادہ غصہ کیوں آتا ہے" اس موضوع پر ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین نے ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد صحاف سے خصوصی بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ واقعی رمضان المبارک میں اکثر لوگوں کا جب پیٹ خالی ہونے لگتا ہے تو پارہ چڑھنے لگتا ہے۔ ایسے میں بعص لوگ غصے سے آگ بگولہ اور پاگل ہوتے نظر آتے ہیں۔ رمضان المبارک میں غصے کی زیادتی کی وجہ سے جہاں ایک طرف سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوجاتا ہے وہیں دوسری جانب روزہ دار غصے کی حالت میں سڑکوں، بازاروں اور گھروں میں گالم گلوچ و جھگڑا فساد کرتے بھی پائے جاتے ہیں۔

روزوں کی حالت میں غصہ کیوں آتا ہے، ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد صحاف سے خصوصی بات چیت کی (Video: ETV Bharat)

ڈاکٹر اعجاز صحاف نے وجوہات گنواتے ہوئے کہا کہ صیام میں کھانے پینے کے طریقہ کار، سونے اور دیگر عادات میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ کئی لوگ ایسے ہیں جوکہ مکمل نیند نہیں کر پاتے ہیں۔ انہیں دن میں وقت نہیں ملتا ہے کہ چند گھنٹے مزید نیند کر پائیں۔ کم نیند کی وجہ سے ایسے لوگوں کا موڈ تبدیل ہوجاتا جو کہ بعد میں غصہ کی صورت میں باہر نکلتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ جو لوگ اپنی نیند پوری طرح مکمل نہیں کرتے ہیں ان میں انزائٹی، ڈپریشن اور موڈ خراب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آگ بگولہ ہوکر جھگڑے پر اتر جاتے ہیں جو کہ پھر بازار، سڑک یا خریداری کرتے وقت دیکھنے کو ملتا ہے۔
بدوسرا یہ کل بیشتر لوگ غیر رمضان کی نسبت صیام میں کھانے پینے میں بے حد تبدیلی عمل میں لاتے ہیں کئی لوگ بازار کے کھانوں، تلی اور چکنائی بھری چیزوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ان میں اکثر وہ بازاری پکوان یا کھانے ہوتے ہیں جو کہ مضر صحت ہوتے ہیں جو کہ بعد انسانی جسم و ذہن پر ناکارہ اثرات مرتب کرتے ہیں ۔یہ بھی ا غصہ کرنا کی اہم وجہ ہے وہیں اکثر و بیشتر لوگ چائے،کافی کے عادی ہوتے ہیں ایسے میں جب جسم کو چائے یا کافی کی طلب کے باوجود نہیں مل پاتی تو موڈ خراب ہونے کی صورت میں اثرات باہر آتے ہیں،موڈ کی خرابی پھر بنا وجہ یا معمولی بات پر چیکھنا چیلانا یا لڑائی کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔
ڈاکٹر اعجاز احمد صحاف نے کہا کہ ہارمونزل تبدیلیاں غصہ آنے کے اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ ویسے بھی اگر بھوک لگ جائے تو ہمارے جسم میں "سٹرس ہامونز" بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں اور موڈ بے ڈھنگ ہوجاتا ہے اور صحیح نہیں رہتا ہے آپ جذباتی طور پر بے قابو ہوجاتے ہیں جبکہ بھوک کی صورت میں جب جسم میں کاربوہائیڈریٹ کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو کارٹیسول کم ہوجاتا ہے جوکہ غصہ کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ لوگ جو کہ غیر رمضان میں نرم مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن صیام کے دوران ان کا موڈ بھی تبدیل ہو جاتاہے۔ ایسے میں کھانے پینے، سونے کے عادات اور ہارمونل تبدیلیاں ان ایام کے دوران کئی لوگوں کے مزاج میں تبدیلی لانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رمضان میں چڑچڑا پن اور مزاج کی تبدیلی زیادہ تر خواتین میں دیکھنے کو ملتا ہے چونکہ وہ اکثر گھروں میں ہی ہوتی ہیں اس لیے ان کے چڑچڑاپن سے ابھرنے والا غصہ گھروں تک محدود رہتا ہے جبکہ مردوں میں زیادہ غصہ اور جارحیت دیکھنے میں آتی ہے جو کہ پھر بازار یا سڑک پر لڑائی جھگڑے کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

ماہ رمضان اور غصہ پر قابو
ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ روزہ بہت قیمتی خزانہ ہے۔ اسے اپنے غصے کی بھینٹ چڑھنے نہ دیجئے۔ صیام کے اس متبرک مہینے میں اپنے غصہ پر قابو پانا بے حد ضروری ہے۔ طبی لحاظ میں اگر چند احتیاطی تدابیر اختیار کئے جائیں تو اس چڑ چڑا پن اور غصے کی کیفیت سے دور رہا جا سکتا ہے۔ ان میں اہم ہے حسب ضرورت نیند، مقوی غذا، ہلکی ورزش اور سماجی رابطہ، ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے اور ملنے سے بھی کافی حد غصے کو اپنے اوپر حاوی ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

علماء کرام کی رائے
صیام میں غصے پر قابو پانے کے تعلق سے عالم دین مولانا عبدالرحمان شمس کہتے ہیں کہ اپنی ہر روزے کی حفاظت کیجئے۔ روزے میں غصے سے بچنے کا دہرا ثواب ہےایک روزہ رکھنے کا ثواب دوسرا غصہ نہ کرنے کا ثواب۔

جو لوگ اپنے غصے پر کنٹرول نہیں کرپاتے وہ دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر لیتے ہیں۔ ویسے غصہ سے ہر حال میں انسان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے دین اسلام غصہ کنٹرول کرنے، غصہ کے وقت انتقام نہ لینے اور کوئی فیصلہ نہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں غصہ نہ کرنے اور غصہ کے وقت معاف کر دینے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرمانِ الٰہی ہے: ’’جو لوگ آسانی میں سختی میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہےغصہ کنٹرول کرنے والا ہی اصل پہلوان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بے قابو نہ ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں اور عبادت گاہوں میں لوٹیں رونقیں
  2. رمضان کی عظمت اور حرمت، عالم دین مولانا عبدالرحمان شمس نے ماہ صیام کی اہمیت بیان کی
  3. ماہ صیام کی تیاریوں میں لوگ مشغول، بازاروں میں گہما گہمی
  4. ماہ رمضان کا پہلا جمعہ، مساجد میں روح پرور اور بڑے اجتماعات منعقد
Last Updated : February 23, 2026 at 7:33 PM IST