ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کھجور روزہ دار کے لیے مثالی خوراک کیوں، ماہر غذائیت( ڈائٹیشن) انیسہ شفیع سے خصوصی بات چیت
انیسہ شفیع کہتی ہیں کہ کھجور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے ایک متاثر کن غذا بنتی ہے۔

Published : February 27, 2026 at 6:35 PM IST
|Updated : February 27, 2026 at 6:42 PM IST
سرینگر: (پرویز الدین) ماہ رمضان کے دوران بھارت سمیت دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان کھجور سے افطار کرتے ہیں۔ اگرچہ کھجور ایک خشک پھل ہے مگر اس کے باوجود یہ جسم میں پانی کی کمی ہونے نہیں ہونے دیتا۔ اسلامی روایات کے مطابق روزہ کھولنے کے لیے کھجور کا استعمال پیغمبر اسلام نے تجویز کیا ہے جبکہ قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر کھجور کا ذکر ملتا ہے لیکن کھجور میں ایسے کیا طبی فوائد موجود ہیں جو روزہ رکھنے والوں کے لیے اسے مثالی خوراک بناتے ہیں۔
اس پر ماہر غذائیت( ڈائٹیشن) انیسہ شفیع کہتی ہیں کہ کھجور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر عمر کے لوگوں کے لیے ایک متاثر کن غذا بنتی ہیں۔ یہ غذائی اجزاء سے بھری ہوتی ہیں جو آپ کے لیے کئی طریقوں سے مددگار ہوتی ہیں۔ قدرتی طور پر آپ کو زیادہ توانائی فراہم کرتا ہے۔ کھجور میں قدرتی شکر بہت زیادہ ہوتی ہے جو آپ کو تیزی سے توانائی فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھلاڑیوں کے لیے بھی حد مفید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے منفرد غذائی فوائد ہیں جب آپ نے طویل عرصے تک کچھ نہ کھایا ہو، جیسا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک، تو ایسی صورت میں کھجور کی غذائی ساخت انسانی معدے کے لیے اسے ایک بہترین خوراک بناتی ہے۔ ایسے میں جب انسان روزہ کھولتا ہے تو جسم فوراً گلوکوز بنانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے ایندھن کے طور پر اِسی کی ضرورت ہوتی ہے۔کھجور میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دوسری غذاؤں کے مقابلے میں خون میں شوگر کی سطح کو کہیں زیادہ تیزی سے بڑھاتی ہے۔
ماہر غذائیت مزید کہتی کہ کھجوریں اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں سادہ شکر بھی ہوتی ہے اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی۔ یہ پھل کثیر مقدار میں جسم کو توانائی فراہم کرتا رہتا ہے۔ یہ ایسے فرد کے لیے مثالی ہے جس نے طویل عرصے تک کچھ نہ کھایا ہو۔ کھجوریں وٹامن اے، کے اور بی 6 کے ساتھ ساتھ آئرن سے بھی بھرپور ہوتی ہیں اور مختصر وقت میں جسم کو تمام ضروری غذائی اجزا فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور یہ مقوی غذا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور خشک پھل ہونے کے باوجود یہ جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا۔ اس میں قدرتی طور پر الیکٹرولائٹ پوٹاشیم ہوتا ہے جو پانی کے لیے ایک مقناطیس کا کام کرتا ہے اور جسم کے خلیوں کو پانی سے بھر دیتا ہے۔
تاہم انیسہ شفیع نے کہا کہ کجھوریں اعتدال میں کھانے چاہئیے اور بہتر ہے طاق تعداد (تین، پانچ، سات یا نو)میں کھائی جائے۔ رمضان میں کچھ لوگوں کا وزن کم ہو جاتا ہے، لیکن اگر آپ افطار کے وقت ضرورت سے زیادہ کھا لیں تو روزہ رکھنا وزن بڑھانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ایسے میں زیادہ کھانے کی خواہش بھی کم ہو سکتی ہے اور انسان متعدل انداز میں کھانا کھاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کھجوریں کئی بیماریوں کو ٹھیک کرنے میں بھی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہیں جیسے کہ سوزش کو کنٹرول کرنے میں، دل اور ہڈیوں کی بہتر صحت کے لئے۔ اس کے علاوہ، بلڈ شوگر کنٹرول کرنے، حمل کی دیکھ بھال، جلد کے مسائل سے لڑنے اور مدافعتی نظام کی بہتری بنانے کے لیے کجھوریں دوا کے طور کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا صبح کے وقت کھجور آپ کے میٹابولزم کو تیز کرنے اور صبح کے وقت آپ کو اضافی توانائی فراہم کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ورزش سے 30 سے 40 پہلے چند کھجوریں کھانے سے آپ کو توانائی میں تیزی آئے گی۔ وہیں روزے کے دوران لوگوں کو عام طور پر افطار کے لیے کھجور کھانے بے حد مفید ہے کیونکہ یہ انسانی جسم میں جلدی توانائی فراہم کرتے ہیں۔
ماہر غذائیت انیسہ نے کہا کہ کھجور میں قدرتی شکر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے شکار افراد کو ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی بھی سفارش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کجھور ایک مقوی غذا ہے جس میں تمام جز شامل ہیں اور کھجور کا استعمال نہ صرف رمضان میں کرنا چاہیے بلکہ غیر رمضان میں بھی کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ کھجوریں ایک گچھے کی شکل میں درخت کے اوپری حصے سے لٹک رہی ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے اس پھل سے نمی ختم ہوتی جاتی ہے یہ پک جاتا ہے۔ بعد میں کھجور کی جلد براون ہوتی جاتی ہے اور اس پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔

