ETV Bharat / jammu-and-kashmir

کرکٹ کلب کے دھڑوں کا تنازعہ عوامی قانون کا مسئلہ نہیں: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے رِٹ  مسترد کی

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نجی کرکٹ کلب کے نمائندگی اور ووٹنگ تنازع کا عوامی قانون سے کوئی تعلق نہیں۔

ا
علامتی تصویر (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : July 6, 2026 at 8:52 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے قرار دیا ہے کہ کسی نجی کرکٹ کلب کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان نمائندگی اور ووٹنگ کے حق سے متعلق تنازعہ عوامی قانون (Public law) کا معاملہ نہیں ہے، اس لیے ایسے معاملے کو آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت رِٹ پٹیشن کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس سنجے دھر اور جسٹس سنجے پریہار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سنجے صراف کی جانب سے دائر لیٹرز پیٹنٹ اپیل مسترد کر دی۔ سنجے صراف نے اس سے قبل سنگل جج کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (JKCA) کے محتسب (اومبڈزمین) کے فیصلے کے خلاف ان کی رِٹ پٹیشن قابل سماعت ماننے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس تنازعے سے متعلق تھا کہ وائٹس کرکٹ کلب کی نمائندگی جے کے سی اے کے انتخابات میں کون کرے گا۔ سنجے صراف نے 19 مارچ 2025 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں محتسب نے انتخابات میں شرکت کے محدود مقصد کے لیے راجیو پنڈتا کی قیادت والے مخالف دھڑے کو تسلیم کیا تھا۔ صراف کا کہنا تھا کہ اس "فیصلے میں 2019 میں عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے سابق محتسب کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا، قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی اور انہیں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔"

تاہم، ہائی کورٹ نے سنگل جج کے اس نتیجے کو برقرار رکھا کہ یہ معاملہ دراصل ایک نجی کرکٹ کلب کے دو دھڑوں کے درمیان ذاتی نوعیت کا تنازعہ ہے۔ بنچ نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ پہلے یہ قرار دے چکی ہے کہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (BCCI) کے خلاف آرٹیکل 226 کے تحت رِٹ دائر کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کرکٹ اداروں سے متعلق ہر تنازعہ خود بخود عوامی قانون کا معاملہ بن جائے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں، جن میں BCCI بنام کرکٹ ایسوسی ایشن آف بہار، آنندی مکتا ٹرسٹ بنام وی آر رودانی، بنی لمیٹڈ بنام وی سداسیون، سینٹ میریز ایجوکیشن سوسائٹی بنام راجندر پرساد بھارگوا اور ایس شوبھا بنام متھوٹ فنانس لمیٹڈ شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظرثانی کا انحصار اس ذمہ داری کی نوعیت پر ہوتا ہے جسے نافذ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہو، نہ کہ صرف اس ادارے کی شناخت پر جس کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہو۔

عدالت نے کہا: "اگرچہ BCCI یا JKCA جیسے نجی اداروں کے خلاف بھی رٹ پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ جس حق یا ذمہ داری کو نافذ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیا وہ عوامی نوعیت کی ہے یا نہیں۔ اگر معاملہ عوامی ذمہ داری یا عوامی مفاد سے متعلق ہو تو پھر وہ ادارہ نجی ہو یا سرکاری، ہائی کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔"

اسی اصول کو موجودہ معاملے پر لاگو کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ تنازعہ صرف ایک نجی کرکٹ کلب کے اندر نمائندگی کا ہے۔ اس کا جے کے سی اے کے عوامی فرائض، ٹیم کے انتخاب یا ایسے کسی معاملے سے تعلق نہیں جو عام لوگوں کو متاثر کرتا ہو۔

بنچ نے مزید کہا: "کسی مخصوص کرکٹ کلب یا نجی تنظیم کی نمائندگی کون کرے گا؟ اس سے عام عوام کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کا عوام پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ ایک نجی کرکٹ کلب کے دو دھڑوں کے درمیان تنازعے کو کسی بھی صورت عوامی قانون کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے ایسے تنازعے میں ہائی کورٹ رِٹ جاری نہیں کر سکتی۔"

عدالت نے سنجے صراف کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ محتسب کا فیصلہ اس بنیاد پر رِٹ کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ وہ اختیار کے بغیر دیا گیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ جس محتسب کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا، اسے نہ کسی قانون کے تحت مقرر کیا گیا تھا اور نہ ہی عدالت نے مقرر کیا تھا بلکہ اس کی تقرری خود جے کے سی اے نے کی تھی۔

عدالت نے کہا: "کسی ایسے ادارے یا افسر کے فیصلے کو، جو نہ قانونی حیثیت رکھتا ہو اور نہ ہی عدالتی تقرری کے تحت ہو، سرٹیوراری رِٹ کے ذریعے جانچا نہیں جا سکتا۔ صرف اسی بنیاد پر یہ رِٹ پٹیشن قابل سماعت نہیں بنتی۔"

بنچ نے مزید کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل میں مداخلت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب فیصلے میں واضح قانونی غلطی یا سنگین بے ضابطگی ہو، جبکہ اپیل کنندہ ایسی کوئی بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے کہا: "ہمیں سنگل جج کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی، بلکہ کوئی واضح قانونی غلطی بھی نظر نہیں آتی جو اس عدالت کی مداخلت کا جواز بنے۔" اس کے ساتھ ہی ڈویژن بنچ نے اپیل مسترد کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. جے اینڈ کے کرکٹ ایسوسی ایشن نے اپنے صدر کو فوری طور پر معطل کر دیا
  2. کشمیر کورٹ نے لگائی متنازع نوٹس اور خط و کتابت پر روک، جے کے سی اے نو منتخب صدر جاوید کتاب کو راحت