ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'ابھی شروعات ہے':36 سیکنڈ میں گولڈ جیتنے والی کشمیر کی ایم ایم اے فائٹر رتبہ
سرینگر کی 17 سالہ ایم ایم اے فائٹر نے 36 سیکنڈ میں ہی حریف کو ڈھیر کرکے اندور میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔

Published : August 13, 2026 at 7:10 PM IST
سرینگر: رتبہ شبیر کو 9ویں ایم ایم اے انڈیا نیشنل چیمپئن شپ میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں تھا۔ نیشنل چمپئن شپ کا خطاب اپنے نام کرنے کے لیے انہیں صرف 36 سیکنڈ ہی کافی تھے۔
جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ رتبہ نے گزشتہ ماہ مدھیہ پردیش کے اندور میں بنٹم ویٹ فائنل کے پہلے راؤنڈ میں اپنی حریف کو ناک آؤٹ کردیا۔ اس شاندار کارکردگی نے نہ صرف انہیں سونے کا تمغہ دلایا بلکہ چیمپئن شپ کی بہترین خاتون ایتھلیٹ کا اعزاز بھی انہوں نے اپنے نام کیا۔
لیکن رتبہ کے لیے یہ کامیابی منزل نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں، ”یہ ابھی شروعات ہے۔ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔“ شاید یہ مختصر سا جواب اس نوجوان فائٹر کی شخصیت، حوصلہ اور عزم کو بخوبی اور اتنا ہی بیان کرتا ہے جتنا کہ پنجرے کے اندر صرف 36 سیکنڈ میں حاصل کی گئی ان کی شاندار فتح بھی۔
رتبہ شبیر سرینگر کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، امیرا کدل، میں گیارہویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ وہ ایپکس ایم ایم اے کی نمائندگی کرتی ہیں اور کوچ آصف حسین سے تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ آصف حسین ایم ایم اے جے اینڈ کے کے بانی اور ٹیم انڈیا کے آفیشل مکسڈ مارشل آرٹس کوچ بھی ہیں۔
قومی سطح پر رتبہ کی اس کامیابی نے انہیں ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل کردیا ہے جو جموں و کشمیر میں تیزی سے ابھرتے ایم ایم اے کھیل کو قومی سطح پر شناخت دلا رہے ہیں۔
جموں کشمیر ٹیم کے نام 10 تمغے
جے اینڈ کے کی ٹیم 9ویں ایم ایم اے انڈیا نیشنل چیمپئن شپ سے مجموعی طور پر 10 تمغے حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ان میں دو طلائی، چار چاندی اور چار کانسی کے تمغے شامل ہیں۔
رتبہ شبیر اور بابر ریان نے طلائی تمغے حاصل کیے، جبکہ سید عظیم، مصیب، اشتر اور شاکر نے چاندی کے تمغے اور ابھشیک، عمر، مصیب اور منیحہ نے کانسی کے تمغے اپنے نام کیے۔
رتبہ کی کارکردگی سب سے نمایاں رہی۔ بعد میں انہیں MMA India Awards Night میں Best Female Youth Athlete کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ آصف حسین کے لیے یہ اعزاز کسی ایک رات کی کامیابی نہیں بلکہ برسوں کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق رتبہ تقریباً آٹھ سے نو سال سے ان کی زیر تربیت ہیں۔
رتبہ نے ابتدا میں ووشو میں بھی حصہ لیا، لیکن بعد میں ایم ایم اے کا رخ کیا۔ گزشتہ تقریباً چار سے پانچ برس سے وہ ایم ایم اے فائٹر کے طور پر اپنی صلاحیتیں نکھار رہی ہیں اور قومی سطح پر پہلے ہی کئی تمغے حاصل کر چکی ہیں۔ حسین کہتے ہیں، ”وہ ہمیشہ ایسی نہیں تھی۔“ ان کا کہنا ہے کہ رتبہ میں وقت کے ساتھ جو تبدیلی آئی، وہ کئی برس کی تربیت کا نتیجہ ہے۔

'رفتار کم مگر قد اور رسائی طاقت بنے'
آصف حسین کے مطابق شروع میں رتبہ نسبتاً سست تھیں اور انہیں پھرتی بہتر بنانے پر کام کرنا پڑا۔ بعد میں ان کا قد اور حریف تک پہنچنے کی صلاحیت ان کے لیے سود مند ثابت ہوئے۔ کوچ کے مطابق "ایک ٹرینر کا کام یہی ہے کہ وہ کھلاڑی کی ان خصوصیات کو پہچانے اور انہیں بہتر انداز میں استعمال کرنا سکھائے۔"
کشمیر میں ایم ایم اے کا بڑھتا رجحان
رتبہ کی کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر میں ایم ایم اے کھلاڑیوں کو اپنی جانب مائل کر رہا ہے اور معاشرے میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہا ہے۔
آصف حسین کے مطابق MMA J&K نے خطے میں تقریباً 2017 میں کام شروع کیا تھا۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کے کئی کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان میں لبیب فیروز بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایشین چیمپئن شپ میں حصہ لے کر تمغہ اپنے نام کیا تھا۔ زید شبیر بٹ نے بھی ایشین چیمپئن شپ میں تمغہ حاصل کیا ہے، جبکہ آئیرا چشتی عالمی چیمپئن شپ کی سطح پر مقابلہ کر چکی ہیں۔
اویس یعقوب نے اس کھیل میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ جے اینڈ کے کے اس فائٹر نے پروفیشنل سطح پر مقابلہ کیا اور Brave Combat Federation کے لیے ایک فائٹ بھی جیتی، جس سے خطے میں ایم ایم اے کو مزید توجہ ملی۔
2 اگست 2026 کو اویس نے بلغاریہ میں بھارت کی نمائندگی کی، جو خطے کی ایم ایم اے کے لیے ایک اور اہم سنگ میل تھا۔ اس سے چند روز قبل، 26 جولائی کو رتبہ نے اندور میں اپنی کامیابی درج کی تھی۔ جب اویس بیرون ملک بھارتی پرچم بلند کر رہے تھے، رتبہ اندور میں اپنے انداز میں قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہی تھیں۔
صرف36 سیکنڈ میں فتح
رتبہ کی گولڈ میڈل کارکردگی کا شاید سب سے اہم حصہ فائٹ شروع ہونے سے پہلے ہی سامنے آچکا تھا۔ آصف حسین کے مطابق اہم مقابلے سے پہلے رتبہ بھی دیگر کھلاڑیوں کی طرح گھبرائی ہوئی تھیں۔ وہ مشورہ لینے ان کے پاس آئیں۔
انہیں کوچ نے یہ ہدایت دی:
”فرنٹ فٹ پر رہو۔ پہلا حملہ کرو۔ پراعتماد رہو اور ان ہدایات کو ذہن میں رکھو۔“
رتبہ نے عین وہی کیا۔
حسین کہتے ہیں، ”اس نے بالکل وہی کیا جو میں نے اسے بتایا تھا۔“
مقابلہ شروع ہوتے ہی رتبہ کی گھبراہٹ ختم ہوگئی۔ انہوں نے اعتماد کے ساتھ حملہ کیا اور اپنی حریف پر حاوی ہوگئیں، یہاں تک کہ پہلے ہی راؤنڈ میں 36 سیکنڈ کے اندر ٹیکنیکل ناک آؤٹ (TKO) سے جیت درج کر لی۔
رتبہ کے والد شبیر احمد نے یہ مقابلہ براہ راست دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں اپنی بیٹی کے انداز میں فرق محسوس ہوگیا تھا۔ "رتبہ غیر معمولی طور پر پراعتماد نظر آرہی تھیں۔ ان کی باڈی لینگویج سے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہیں یقین ہو کہ وہ مقابلہ جیتنے والی ہیں۔"
جب ریفری نے مقابلہ روک دیا تو یہ لمحہ ان کے والد کے لیے مزید جذباتی ہوگیا۔ شبیر احمد نے بتایا کہ "رتبہ کو فائٹ ختم کرتے دیکھتے ہی ان کا ردعمل بے ساختہ تھا۔ ”میں بستر سے اچھل کر اٹھا اور اس کے دادا دادی سے کہا۔۔۔ اس نے گولڈ جیت لیا۔“

بیٹی کا فیصلہ، والد کا ساتھ
ان کے لیے یہ تمغہ اس سفر کا ایک اور باب ہے جس کا آغاز رتبہ کی اپنی کھیل میں دلچسپی سے ہوا تھا۔ شبیر احمد کہتے ہیں کہ مارشل آرٹس اختیار کرنے کا فیصلہ رتبہ کا اپنا تھا، جبکہ ان کا کردار صرف اسے سپورٹ کرنا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی بیٹی کے ساتھ مقابلوں اور ٹریننگ پر جاتے رہے اور اسے اپنی پسند کا کھیل اختیار کرنے کی آزادی دی۔
سراہنا
جب رتبہ سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دیتی ہیں؟ تو انہوں نے کسی ایک شخص کا نام نہیں لیا۔ وہ کہتی ہیں، ”میرے والدین۔ میرے والد بہت سپورٹیو ہیں۔۔۔ اور پھر میرے کوچ۔“
کھیل کے اتنی کم عمر میں شروع کیے جانے کے باعث یہ حمایت ان کے لیے خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ایم ایم اے مستقل محنت اور مضبوط عزم کا تقاضا کرتا ہے۔
ووشو سے ایم ایم اے تک
رتبہ کا ووشو سے ایم ایم اے تک کا سفر اچانک نہیں ہوا۔ ایم ایم اے میں آنے سے پہلے ہی انہیں اسٹرائیکنگ کا تجربہ حاصل تھا۔ اس پس منظر نے انہیں ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، لیکن ایم ایم اے میں صرف اسٹرائیکنگ کافی نہیں تھی۔
اس کھیل میں مختلف مہارتوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ حسین کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کی تربیت نے رتبہ کی پھرتی اور مجموعی نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
رتبہ کے جسمانی خدوخال بھی اب ان کے کھیل کی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کا قد انہیں زیادہ رسائی فراہم کرتا ہے، جس کے باعث وہ فاصلے سے ہی حریف کو چیلنج اور پریشان کرسکتی ہیں، اس سے پہلے کہ حریف ان کے قریب پہنچ سکے۔
لیکن آصف حسین کے نزدیک رتبہ کی سب سے بڑی طاقت ان کی مسلسل ترقی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”وہ سیکھ رہی ہے، مضبوط ہو رہی ہے اور ابھی اتنی کم عمر ہے کہ اپنے کھیل میں مزید چیزیں شامل کرسکتی ہے۔“
ابھی آسماں اور بھی ہے
اسی لیے ان کا ماننا ہے کہ قومی چیمپئن بننا رتبہ کے کیریئر میں ابھی صرف ایک ابتدائی سنگ میل ہے۔ رتبہ بھی اسے اسی نظر سے دیکھتی ہیں۔ گولڈ میڈل جیتنے کے بعد انہیں یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے برعکس، کامیابی نے انہیں مزید سیکھنے کی خواہش دی ہے۔
سرینگر کے حیدرپورہ علاقے کی رہنے والی رتبہ کہتی ہیں، ”مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔“
”ہم کھلاڑی ہیں اور بس“
رتبہ کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کھیلوں میں خواتین کی نمائندگی اور ان کے احترام پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ایک کم عمر لڑکی کے طور پر فائٹنگ جیسے کھیل میں حصہ لینا اپنے ساتھ کچھ اضافی چیلنجز بھی رکھتا ہے۔
رتبہ کا پیغام واضح ہے۔ جب کھلاڑی میٹ یا پنجرے میں اترے تو سب سے پہلے اس کی شناخت ایک کھلاڑی کے طور پر ہونی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں، ”ہم اسپورٹس پلیئر ہیں اور کچھ نہیں۔“ ان کا کہنا ہے کہ کھیلوں میں حصہ لینے والی خواتین کے ساتھ بھی مرد کھلاڑیوں کی طرح عزت اور کھیل کے جذبے کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
یہ اصول حالیہ دنوں میں کھیلوں کی نشریات سے متعلق جاری ہونے والی رہنما ہدایات میں بھی نظر آتا ہے۔ یورپی براڈکاسٹنگ یونین کی جون 2026 کی رپورٹ ”Raising the Bar: Guidelines for respectful media coverage in women's athletics“ میں کھیلوں کی کوریج کے دوران ایسے کیمرہ ورک پر زور دیا گیا ہے جو کھلاڑیوں کی تکنیک، طاقت اور جذبات کو نمایاں کرے، جبکہ ان کی عزت و وقار بھی برقرار رہے۔ رپورٹ کے مطابق باوقار کوریج کھیلوں کی کہانی کو کم دلچسپ نہیں بناتی۔
رتبہ کے لیے بات بالکل واضح ہے۔ ان کی کہانی ٹریننگ، مقابلے، نظم و ضبط اور کارکردگی کی کہانی ہے۔ آصف حسین رتبہ کے مستقبل کو روشن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی نوجوان کھلاڑی کو خام صلاحیتوں سے قومی چیمپئن بنتے دیکھا ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ رتبہ بغیر جلد بازی کے مسلسل بہتر ہوتی رہیں اور اپنے سفر کو وقت کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
یہ بھی پڑھیں:

