ETV Bharat / jammu-and-kashmir
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں، پانی کی کمی سے ماہی پروری شعبے کو چیلینجز کا سامنا
درجۂ حرارت بڑھنے اور پانی کا بہاؤ کم ہونے سے مچھلیوں کی افزائش متاثر ہونے اور ان میں بیماری کی شرح بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Published : February 26, 2026 at 8:56 AM IST
|Updated : February 26, 2026 at 9:06 AM IST
اننت ناگ (میر اشفاق) وادی کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر نہ صرف زرعی و باغبانی شعبہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات ماہی پروری پر بھی پڑ سکتا ہے جس کے آج اثرات نمایاں طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔
ایگریکلچر و ہارٹیکلچر شعبہ سمیت وادی میں ماہی پروری کا شعبہ جس میں خاص طور پر نایاب ٹراوٹ مچھلیوں کی فارمنگ شامل ہے، کو ایک وسیع سیکٹر کے طور پر دیکھا جارہا ہے اس سے ہزاروں افراد کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی اور طویل خشک موسم کے نتیجے میں وادی کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں ندی نالوں، دریاؤں اور قدرتی چشموں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال کا براہِ راست اثر ٹراوٹ فش فارمز پر پڑ رہا ہے، جو ٹھنڈے، صاف اور بہتے ہوئے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

ٹراوٹ مچھلی خصوصاً رینبو ٹراوٹ اور براون ٹراوٹ ٹھنڈے اور آکسیجن سے بھرپور پانی میں بہتر افزائش پاتی ہیں۔ درجۂ حرارت میں اضافے اور پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث نہ صرف مچھلیوں کی افزائش متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے بلکہ ان میں بیماری اور اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
وہیں حال ہی میں اور ایک غیر ملکی نسل کی براون ٹراوٹ کو آزمائشی طور پر ڈنمارک سے وادی کشمیر میں لایا گیا، جو فی الحال آزمائش کے مرحلے میں ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی ان کے اس نازک مرحلہ کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

پانی کی کمی سے تالابوں میں آکسیجن کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے مچھلیوں کی نشوونما سست پڑ جاتی ہے۔ وہیں اس سے پیداوار پر بھی کافی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ کم پانی کی وجہ سے فارمز میں گنجائش کے حساب سے مچھلیوں کی افزائش نہیں ہو سکتی ہے۔
جنوبی کشمیر خاص طور پر اننت ناگ کے کئی دیگر علاقوں میں قائم سرکاری و نجی ٹراوٹ فارمز میں معمول کے مطابق پانی کی روانی متاثر ہوئی ہے، جس سے پیداوار میں کمی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی سطح پر روزگار، معیشت اور سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹراوٹ فارمنگ نہ صرف ایک زرعی سرگرمی ہے بلکہ ماہی گیری اور فوڈ انڈسٹری سے جڑا اہم شعبہ بھی ہے۔

محکمہ فشریز کے اچھہ بل فارم کے فارم منیجر وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ٹراوٹ مچھلی کی مانگ آج کے موسم میں بھی برقرار ہے کیونکہ یہ یہاں کے لوگوں کی پسندیدہ غذا ہے۔ تاہم فارم کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے سبب انہیں کئی ریس وے کو بند کر کے مچھلیوں کو ان جگہوں پر منتقل کرنا پڑا جہاں پانی معقول مقدار میں دستیاب ہے۔
وسیم کا کہنا ہے کہ کم بارشیں اور برفباری کے سبب چشمے کے پانی کی روانی میں کمی واقع ہوئی ہے جس کا اثر مچھلیوں کی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی اچھہ بل چشمہ کا پانی خشک ہوگیا تھا، تاہم بعد میں پانی کا بہاؤ بحال ہو گیا۔ وسیم نے کہا کہ فی الحال فارم کو چلانے کے لیے پانی کی دستیابی قدرے بہتر ہے اور امید ہے کہ فارم مزید اثر انداز نہیں ہوگا۔

ماہر ماحولیات راؤ فرمان علی کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث برفباری اور بارشوں میں کمی پانی کے قدرتی ذخائر کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جموں کشمیر میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ کچھ مہینوں کے دوران کشمیر میں بارش کی کمی 56 فیصد سے 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ وہیں جموں میں 72 فیصد کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں کے دریاؤں میں پانی کی بے حد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف زراعت بلکہ مچھلی پالن پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں زراعت و ٹراوٹ فارمنگ کو مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ آبی ذخائر کے تحفظ اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ فش فارمز میں جدید واٹر ری سائیکلنگ سسٹم متعارف کرائے جائیں، شجرکاری اور واٹر شیڈ مینجمنٹ پر توجہ دی جائے، اور ماہی پروری کے شعبے کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ پالیسیوں کے تحت فروغ دیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلی اور طویل خشک موسم نہ صرف قدرتی آبی وسائل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ٹراوٹ فش فارمنگ جیسے حساس شعبوں کے لیے بھی سنگین چیلنج بن چکے ہیں، جس کے تدارک کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں:
موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے وادی میں آبی حیات متاثر، کوکرناگ ٹراؤٹ فارم تاحال محفوظ
کشمیر میں وقت سے پہلے کھلے بادام کے شگوفے، کسان فکر مند
اننت ناگ کے تاریخی شیر باغ چشمے کی ابتر حالت پر عوامی تشویش، فوری صفائی اور بحالی کا مطالبہ

