ETV Bharat / jammu-and-kashmir

تشدد اور طاقت کمزوری، مکالمہ اصل قوت: میرواعظ کشمیر نے پھر دیا بات چیت پر زور

والد اور شہداء حول کی 36ویں برسی کے موقع پر عیدگاہ جانے سے روکے جانے پر میرواعظ نے حکام کی تنقید کی۔

ا
میرواعظ کشمیر جامع مسجد سرینگر میں خطبہ جمعہ ادا کرتے ہوئے (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : May 22, 2026 at 4:06 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (پرویز الدین) : میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ "آج جب ہم جامع مسجد کے اس تاریخی احاطے میں جمع ہیں تو ہمارے دل درد اور افسوس سے بھرے ہوئے ہیں کیونکہ ایک بار پھر ہمیں اپنے محبوب رہنما اور شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارِ شہداء، عیدگاہ، سرینگر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔"

انہوں نے گزشتہ 36 برس کے عرصہ کو کشمیر کے لیے انتہائی کٹھن قرار دیتے ہوئے کہا: "اس عرصے میں کشمیر نے سانحات، تشدد اور بے شمار نقصانات دیکھے، مگر آج تک کوئی بہترانجام یا سکون نصیب نہیں ہوا۔ شہیدِ ملت (مولوی عمر فاروق کے والد اور سابق میرواعظ مولوی محمد فاروق)اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ کشمیر کا تنازع اگرچہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اقتدار اور سرزمین کا مسئلہ بن چکا تھا، لیکن اس کی اصل قیمت کشمیری عوام ادا کر رہے تھے، جن کے ساتھ بے زبان جانوروں جیسا سلوک کیا گیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد اس لیے تھی کہ کشمیری عوام کی آواز سنی جائے، ان کے جمہوری امنگوں کا احترام کیا جائے اور ان کے عزت نفس و وقار کو تسلیم کیا جائے۔"

میر واعظ نے کہا کہ "مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیے گئے بین الاقوامی وعدے کبھی پورے نہیں کیے گئے، جبکہ پڑوسی ممالک کے درمیان جنگوں نے بھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اسی لیے شہیدِ ملت ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں، مسئلے کے حل کا کوئی راستہ نکالیں اور اس عمل میں جموں و کشمیر کے عوام کو بھی ساتھ لے کر چلیں، تاکہ ان کے تحفظات اور جمہوری امنگوں کو اہمیت مل سکے۔" انہوں نے کہا کہ "شہیدِ ملتؒ کا نظریہ اور راستہ آج بھی اتنا ہی اہم اور بامعنی ہے جتنا 36 برس پہلے تھا۔"

انہوں نے کہا کہ شہید میرواعظؒ تشدد سے شدید نفرت کرتے تھے۔ "ان کے نزدیک تشدد اور طاقت کا استعمال قوت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت تھا۔ وہ ہمیشہ مکالمے کے حامی رہے اور اپنی پوری زندگی اسی پر عمل کرتے رہے۔ وہ ہر ایک سے رابطے میں رہتے تھے، حتیٰ کہ اپنے سیاسی مخالفین سے بھی۔ ان کے نزدیک ممالک، برادریوں، مسالک اور انسانوں کے درمیان بات چیت ہی پُرامن اور باوقار بقائے باہمی کا بہترین ذریعہ ہے، جو عوام کی حقیقی ترقی، خوشحالی اور فلاح کا راستہ ہموار کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے شہیدِ ملتؒ کا خواب ایک ایسے بااختیار، مہذب اور انسان دوست معاشرے کا تھا جو حقیقی اور مضبوط جمہوریت کے سائے میں امن کے ساتھ ترقی کرے ۔میرواعظ نے مزید کہا کہ "مسئلہ کے حل، امن، بھائی چارے، عزت اور بقائے باہمی کے لیے شہیدِ ملتؒ نے جو راستہ دکھایا، یعنی مکالمے اور اعتدال کا راستہ ،گزشتہ 36 برسوں کے نشیب و فراز میں وہی ان کی رہنمائی کرتا رہا ہے، جب وہ اپنے شہید والد کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔" انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے شہید والد کے خواب کو پورا کرنے اور اپنی قوم کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔"

میر واعظ نے مزید کہا کہ شہیدِ ملت سابق میرواعظ مولوی محمد فاروق کی شہادت اور 21 مئی 1990 کے حول سانحہ کو 36 برس گزر چکے ہیں مگر ان زخموں کی ٹیس آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کمی اور زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

اس دوران میرواعظ نے اعلان کیا کہ عید قربان کی نماز 27 مئی 2026 بروز بدھ عیدگاہ میں ادا کی جائے گی۔ اس سلسلے میں انجمن اوقاف جامع مسجد تفصیلی پروگرام جاری کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. کشمیر کی تاریخ میں 21 مئی سیاہ ترین دنوں میں سے ایک کی یاد دہانی، یادگاری اجتماعات پر پابندی افسوسناک: میرواعظ کشمیر
  2. میرواعظ کا ذہن، جسم اور روح کی متوازن نشوونما پر زور، نوجوانوں میں گیجٹس کے بڑھتے استعمال پر کیا تشویش کا اظہار
  3. مئی 1990 کی یادیں آج بھی کشمیر کے اجتماعی شعور کو غمزدہ کرتی ہیں: میرواعظ