ETV Bharat / jammu-and-kashmir
اونتی پورہ میں زمین واپس لینے کے سرکاری فیصلے کے خلاف احتجاج
مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ ''ایک سازش کے تحت کشمیر کے اندر لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔

Published : June 6, 2026 at 4:45 PM IST
|Updated : June 6, 2026 at 5:47 PM IST
اونتی پورہ: (شبیر بٹ) انتظامیہ کی جانب سے جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقے میں متعدد دیہاتوں سے آبی آراضی واپس لینے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ آج اونتی پورہ تحصیل افس کے احاطے میں متعدد دیہات کے لوگوں نے زبردست احتجاج کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سرکار کی جانب سے ان کی زمینوں کو واپس لینے کا فیصلہ منسوخ کیا جائے۔
مظاہرین ''ہماری زمینیں واپس کرو، ہم کیا چاہتے، انصاف'' کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ اس موقعے پر مظاہرین کے ساتھ بی جے پی لیڈران بھی شامل ہوئے جنہوں نے کہا کہ عمر سرکار عوام کو مختلف طریقوں سے تنگ کر رہی ہے تاہم ہم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ ''ایک سازش کے تحت کشمیر کے اندر لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پہلے ہی اونتی پورہ میں محکمہ زراعت نے سینکڑوں کنال اراضی کو فارم کے لیے حاصل کیا ہے، وہیں اس کے بعد ایمز اور اسلامک یونیورسٹی کے لیے بھی سینکڑوں کنال ارضی حاصل کی گئی۔ اب عوام کو دانے دانے کا محتاج بنانے کے لیے برسوں سے زیر تصرف زمین کو واپس لیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔
اس احتجاج میں کئی بی جے پی لیڈران بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبدللہ کی سرکار عوام کو راحت دینے کے بجائے ستانے پر تلی ہے۔ پلوامہ ضلع کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی سیاسی افراد نے سینکڑوں کنال زمین ہڑپ لی ہیں۔ ان کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے عوام پر ستم کیے جا رہے ہیں۔انہون نے متنبہ کیا کہ اگر سرکار یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی تو وہ قومی شاہراہ کو بند کر کے احتجاج کریں گے۔
مزید پڑھیں: کشمیر، سرکاری زمین سے سینکڑوں کسان بے دخل، کھیتی باڑی سے کیا گیا منع

