ETV Bharat / jammu-and-kashmir
نائب صدر نے جموں کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے درمیان ماحولیاتی نظام کی حفاظت پر زور دیا
نائب صدر سی پی رادھاکرشنن گزشتہ روز سرینگر پہنچے اور آج انہوں نے کشمیر یونیورسٹی میں کنوکیشن سے خطاب کیا۔

Published : February 26, 2026 at 4:14 PM IST
سرینگر: بھارت کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے جموں و کشمیر حکومت کو ماحولیاتی نظام کو متاثر کیے بغیر توسیع کرنے سرینگر کو ملک کے سب سے خوبصورت اور صاف ستھرے شہروں میں سے ایک بنانے کی وکالت کی۔
ناءب صدر بدھ کی شام سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے جہاں ایل جی منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ان کا استقبال کیا۔ آج انہوں نے کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کنووکیشن کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا۔
سری نگر ہوائی اڈے کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے ناءب صدر نے کہا کہ سیاحت کو بڑھانا ہے لیکن مقامی ماحولیاتی نظام کو متاثر نہیں کرنا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی نے سرینگر ہواءی اڈے کی تسیع کا اعلان کیا تھا۔ رادھاکرشنن نے یونیوسٹی میں اپنے خطاب کے دوران کہا: "سری نگر کو ملک کا سب سے خوبصورت اور صاف ستھرا مقام بنانا چاہئے تاکہ حکومت کو اس کے لئے سوچھ بھارت اعزاز سے نوازا جاءے۔"

ناءب صدر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے خطاب کا حوالہ دے رہے تھے جس میں عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت سیاحت کو کیرن، گریز اور ٹیٹٹوال جیسے سرحدی علاقوں تک توسیع دے رہی ہے حالانکہ گلمرگ اور پہلگام جیسے اہم اور پرکشش مقامات پہلے ہی کافی مشہور ہیں۔
نائب صدر نے اپنے خطاب کا آغاز ’’بھارت ماتا سب سے طاقتور اور مہربان‘‘ کے نام سے کیا۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی کے کیمپس کو اننت ناگ، بارہمولہ تک پھیلانے پر منتظمین کی سراہنا کی۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء پر مشتمل سامعین کی تالیوں کے درمیان انہوں نے کہا: "آپ نے سخت محنت کی ہے جس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔" قبل ازیں، یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے کہا کہ انڈر گریجویٹ سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے 60,000 طلباء اپنے گولڈ میڈل، اسناد اور ڈگریاں حاصل کریں گے۔
انہوں نے طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی ان کے والدین کی ہے جنہوں نے تعلیم کے لیے اپنی محنت لگائی۔ انہوں نے کہا: "آپ کو اپنے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے جو آپ کی تعلیم کے دوران آپ کی مدد کرتے ہیں۔ فخر، امید اور مواقع آپ کے منتظر ہیں۔”
رادھاکرش نے ریاسی میں دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پل سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ ہے۔ جو نہ صرف لوگوں کو بلکہ دلوں کو جوڑتا ہے۔
انہوں نے طلباء پر بھی زور دیا کہ وہ منشیات سے دور رہیں اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں "اس (سوشل میڈیا کے استعمال) کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ ہر چیز کی اپنی حدود ہونی چاہئیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کامیابی کے لیے اپنا وقت کیسے مختص کرنا ہے،"

واءس پریزیڈنٹ نے “میرا کشمیر نہیں، تمہارا کشمیر نہیں، ہمارا کشمیر" کہہ کر اپنے خطاب کا اختتام کیا۔
یاد رہے کہ ناءب صدر کے دورے کے پیش نظر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹی جانے والے تمام راستے ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیے گئے تھے اور ٹریفک پولیس نے سرکاری اور نجی ٹرانسپورٹ کی آمدورفت کے لیے متبادل راستے بھی مختص کیے تھے۔ یونیورسٹی نے تین دن کے لیے کلاس ورک بند کر دیا ہے اور کیمپس میں نقل و حرکت پر بھی پابندی عاءد کی گءی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
نائب صدر کشمیر وارد، سیکورٹی انتظامات سخت، ٹریفک کی نقل و حمل محدود

