ETV Bharat / jammu-and-kashmir

کشمیر ، ٹیولپ بیج اور بلب کی درآمد پر جلد ہوگا انحصار کم

حکومت نے ساگم میں سو سے بھی زائد اقسام کے ٹیولپ بیج اور بلب مقامی سطح پر تیار کرنے کیلئے ریسرچ سنٹر قائم کیا ہے۔

ساگم، کوکرناگ کا ٹیولپ ریسرچ سنٹر
ساگم، کوکرناگ کا ٹیولپ ریسرچ سنٹر (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : February 27, 2026 at 7:13 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

کوکرناگ (دین عمران) : وادیٔ کشمیر میں سیاحت اور پھولبانی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے خوبصورت مقام وادئ برنگ میں قائم کیے گئے ماؤٹین کراپ ریسرچ اسٹیشن اب کشمیر کے معروف اور ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ گارڈن (باغ گل لالہ) کو اعلیٰ معیار کے ٹیولپ بیج فراہم کرے گا، جس سے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی نئی توانائی حاصل ہوگی۔

کشمیر ، ٹیولپ بیج اور بلب کی درآمد پر جلد ہوگا انحصار کم (ای ٹی وی بھارت)

شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( SKUAST)، زرعی یونیورسٹی، کی جانب سے 407 کنال اراضی پر محیط اس مرکز کو جدید سائنسی خطوط پر قائم کیا گیا ہے جہاں اعلیٰ قسم کے ٹیولپ بیجوں کی تیاری، افزائش اور تحقیق پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حالانکہ ابھی تک ٹیولپ بلب اور بیجوں کے لیے بیرون ممالک کی منڈیوں پر ہی انحصار کیا جاتا ہے، تاہم کوکرناگ میں اس مرکز کے قیام سے مقامی سطح پر ہی مستقبل قریب میں معیاری بیج دستیاب ہوں گے۔

عوامی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس متعلقہ محکمہ نے آزمائشی بنیاد پر علاقے میں ٹیولپ کے بیج بوئے تھے جس کے اچھے نتائج سامنے آئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس محکمہ نے کافی محنت کی ہے جس کے باعث علاقے کی بیشتر اراضی پر ٹیولپ کے بیج پیوند کئے۔ انہوں نے کہا کہ ساگام میں ریسرچ اسٹیشن کے قائم ہونے سے گزشتہ سال سیاحوں کا ہجوم اُمڈ آیا تھا، جس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کا موقع بھی ملا تھا۔ مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی مزید ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن سے کشمیر کی پہچان، اس کے خوبصورت باغات اور پھول، عالمی سطح پر مزید اجاگر ہوں گے۔

ماؤٹین کراپ ریسرچ اسٹیشن میں تعینات ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق اس اقدام سے کشمیر میں ٹیولپ کی کاشت کو مزید منظم اور پائیدار بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا: "ہمارے ملک میں غیر ملکی منڈیوں سے تین سے چار سو کروڑ روپے کے ٹیولپ درآمد کئے جاتے ہیں، جسے کم کرنے کی غرض سے حکومت نے ایک منصوبے کے تحت ساگام میں ریسرچ سینٹر قائم کیا، جہاں ایک سو سے زائد اقسام کے ٹیولپ موجود ہیں۔"

ا
یہاں ٹیولپ بلب اور بیج تیار ہوں گے جس سے درآمد پر انحصار کم ہوگا (ای ٹی وی بھارت)

ڈاکٹر اشرف نے مزید کہا کہ محکمہ نے مرکزی سرکار کی جانب سے (NABARD) نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈویلپمنٹ اسکیم کے تحت دس کروڑ روپے کا پروجیکٹ منظور کروایا، جس سے علاقے میں تعمیراتی پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کوشش کی جائے گی کہ دیگر ممالک سے ٹیولپ کی درآمدی کم سے کم کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا: "ہماری کوشش رہے گی کہ شہر سرینگر میں قائم ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ گارڈن کے بعد جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اپنی نوعیت کا دوسرا ٹیولپ گارڈن وجود میں آنے"۔

ریسرچ اسٹیشن کے ایچ او ڈی، محمد ایوب منٹو نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: "ریسرچ سینٹر کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ بیج کی پیداوار کو ممکن بنانا ہے، اور ہماری حکومت دیگر ممالک سے ٹیولپ کے بیج درآمد کر رہی ہے، جس پر کافی روپئے خرچ کئے جاتے ہیں، محکمہ نے اُن اخراجات کو کم کرنے کی غرض سے ٹیولپ کے بیجوں کو یہی بنانے کا فیصلہ کیا، جس پر گزشتہ دو برسوں سے کام جاری ہے۔"

محمد ایوب نے مزید کہا کہ محکمہ کسانوں کو ٹیولپ کے بیجوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے جانکاری بھی فراہم کر رہا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان دیگر فصلوں کے ساتھ ساتھ شعبہ باغبانی سے جڑ سکیں، اور انہیں روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ضلع اننت ناگ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ مقامی نوجوانوں کو باغبانی، بیجوں کی تیاری، پیکنگ اور سپلائی کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی، جس سے انہیں باعزت روزگار میسر ہو سکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف سیاحت کو فروغ دے گا بلکہ خطے میں پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ کوکرناگ جیسے قدرتی حسن سے مالا مال علاقے میں اس طرح کے زرعی اور باغبانی منصوبے مقامی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ماؤٹین کراپ ریسرچ اسٹیشن گلِ لالہ، ساگام، میں چند شرپسند عناصر نے رات کی تاریکی میں بیشتر پھولوں کی توڑ پھوڑ کی، جس کے باعث محکمہ نے سینٹر کے ارد گرد فینسنگ قائم کی ہے، جبکہ سینٹر کے چاروں اطراف میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں، تاکہ چوبیس گھنٹے سینٹر کی نگرانی کو ممکن بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. کشمیر: ٹیولپ بلب کی کاشت میں نمایاں اضافہ کسانوں کے لیے خوش آئند
  2. پلوامہ میں ٹولیپ بلب کی کاشت میں نمایاں اضافہ