ETV Bharat / jammu-and-kashmir

موسمیاتی تبدیلی نہیں، ترقیاتی منصوبے جموں کشمیر میں زمین کے استعمال کی تبدیلی کی بڑی: سروے میں انشکاف

تحقیق کے مطابق سڑکوں، شہری آبادی کا پھیلاؤ اور ترقیاتی سرگرمیوں نے جنگلات، آبی ذخائر اور چراگاہوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

1
ڈل جھیل کا ایک فائل فوٹو (اے این آئی)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : July 4, 2026 at 4:25 PM IST

|

Updated : July 4, 2026 at 7:29 PM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ایک نئی تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر کے قدرتی ماحول میں گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران آنے والی بڑی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کی توسیع، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور زمین کے استعمال میں تبدیلی ہے۔

جامع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں کے دوران تیز رفتار ترقی نے جموں و کشمیر کے قدرتی منظرنامے کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ نئی سڑکوں کی تعمیر، شہروں کی توسیع، آمدنی میں اضافہ اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کے باعث ہمالیائی خطے میں جنگلات، چراگاہیں اور آبی ذخائر مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 1960 سے 2020 کے درمیان زمین کے استعمال میں ہونے والی تبدیلیوں پر موسمیاتی عوامل کے مقابلے میں سماجی اور معاشی ترقی، خاص طور پر ٹرانسپورٹ کی توسیع اور شہری آبادی میں اضافہ، کہیں زیادہ اثرانداز ہوئے ہیں۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے مستقبل میں پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ خطہ نشیبی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کو پانی فراہم کرتا ہے۔

یہ تحقیق واٹر سائنس نامی جریدے میں "جموں و کشمیر میں چھ دہائیوں کے دوران زمین کے استعمال اور زمینی ڈھانچے میں تبدیلی: سماجی و معاشی عوامل اور آبی وسائل پر اثرات" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

یہ تحقیق "شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، (زرعی یونیورسٹی) کشمیر کے محققین - عشرت ایف بٹ، فرحت اے شاہین، مسرور مجید، فہیم جے وانی، فاروق اے لون، مشتاق اے لون، نایر اے کرمانی اور سمبیوسس اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ، پونے کے آفاق اے راتھر نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

محققین نے جموں و کشمیر کو جنوبی ایشیا کے انتہائی حساس قدرتی پہاڑی علاقوں میں شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہاں کے جنگلات، دلدلی علاقے اور گلیشیئر پورے خطے کے آبی نظام کو متوازن رکھتے ہیں۔" تحقیق میں سرکاری ریکارڈ اور فاریسٹ سروے آف انڈیا کے 60 سالہ اعداد و شمار کی مدد سے زمین کے استعمال کی چھ اقسام، یعنی جنگلات، زرعی زمین، چراگاہیں، آبی ذخائر، بنجر زمین اور تعمیر شدہ علاقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ 1990 کے بعد تعمیر شدہ علاقوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جنگلات، چراگاہیں اور آبی ذخائر مسلسل کم ہوتے گئے۔

محققین کے مطابق حالیہ دہائیوں میں زمین کے استعمال میں تبدیلی کی رفتار بہت بڑھ گئی ہے۔ ابتدائی برسوں میں مجموعی منظرنامے کی تبدیلی تقریباً 80 فیصد تھی، جو 2020 تک بڑھ کر تقریباً 98 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کی بڑی وجوہات شہری پھیلاؤ اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع ہیں۔

تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں شہروں کا پھیلاؤ، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور شہروں کے گرد نئی آبادیاں زمین کے استعمال میں تبدیلی کے سب سے بڑے عوامل بن کر سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ ٹرانسپورٹ کی توسیع قدرتی منظرنامے میں تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔

محققین نے موسمیاتی اور سماجی و معاشی نوعیت کے 13 مختلف عوامل کا تجزیہ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ مسافر اور مال بردار ٹریفک کی بڑھتی ہوئی آمدورفت زمین کے استعمال میں تبدیلی سے سب سے زیادہ تعلق رکھتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 1960 سے 2020 کے دوران جموں و کشمیر میں زمین کے استعمال میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی اصل وجہ ٹرانسپورٹ پر مبنی معاشی ترقی، شہری آبادی میں اضافہ اور شرح خواندگی میں بہتری رہی، نہ کہ سال بہ سال ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں۔

اعداد و شمار کے مطابق مسافر بردار ٹریفک میں اضافے کا جنگلات پر سب سے زیادہ منفی اثر دیکھا گیا، جبکہ مال بردار ٹریفک کا چراگاہوں اور آبی ذخائر پر سب سے زیادہ منفی اثر سامنے آیا۔

محققین نے کہا ہے کہ نئی شاہراہیں اور سیاحتی راستے بڑی تعداد میں جنگلاتی علاقوں سے گزر رہے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا، "مسافر بردار ٹریفک میں اضافے کے ساتھ زرعی اور تعمیر شدہ علاقوں میں وسعت آئی، جبکہ جنگلات کم ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہراہوں اور سیاحتی راہداریوں کی تعمیر نے جنگلاتی علاقوں پر قبضہ کیا اور شہروں کے مضافات میں نئی آبادیاں اور زرعی سرگرمیاں بڑھیں۔"

اسی طرح مال بردار ٹریفک میں اضافے کے ساتھ پتھر کی کان کنی، دریاؤں سے ریت نکالنے اور لاجسٹک مراکز کے قیام میں اضافہ ہوا، جنہوں نے قدرتی طور پر حساس علاقوں کو متاثر کیا۔

عام تاثر کے برعکس تحقیق سے معلوم ہوا کہ موسمیاتی عوامل کا اثر سماجی و معاشی تبدیلیوں کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا۔ تحقیق میں کہا گیا کہ مال بردار اور مسافر ٹریفک، شہری آبادی، شرح خواندگی اور فی کس آمدنی جیسے عوامل نے زمین کے استعمال میں تبدیلی پر موسمیاتی عوامل سے کہیں زیادہ اثر ڈالا۔

اس عرصے میں آبادی، خواندگی، شہری آبادی، صنعتی پیداوار اور آمدنی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جموں و کشمیر کی آبادی 1960 میں 35 لاکھ سے بڑھ کر 2020 میں ایک کروڑ 36 لاکھ ہو گئی، جبکہ شہری آبادی کا تناسب 16.3 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد تک پہنچ گیا۔ اسی دوران شرح خواندگی 11 فیصد سے بڑھ کر 76.9 فیصد ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. جموں کشمیر کے کیرتھائی ہائیڈرو پروجیکٹ کیلیے جنگلاتی اراضی کی منتقلی کی سفارش
  2. کشمیر: زمین تنازع پر ہائی کورٹ کا فیصلہ، دفاعی حکام کی بے دخلی کارروائی کالعدم قرار
Last Updated : July 4, 2026 at 7:29 PM IST