ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیر میں اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس منعقد
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے لوک بھون میں پولیس و فوج کے افسران کے ساتھ اہم سکیورٹی میٹنگ کی۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : March 3, 2026 at 7:05 PM IST
سرینگر: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے کشمیر بھر میں پھوٹ پڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد عائد پابندیوں کے بیچ منگل کو جموں و کشمیر میں ایک اعلی سطح کا سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وادی میں احتجاج پھوٹ پڑنے کے بعد سکیورٹی صورتحال پر گہرے غور و خوض کے لیے سرینگر میں یہ اجلاس طلب کیا تھا۔ حکام کو احتجاجی مظاہروں کے بعد کئی علاقوں میں عوامی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنی پڑی تھیں، جو پیر اور منگل کو عائد رہیں۔
یہ اجلاس سرینگر کے لوک بھون میں منعقد ہوا جس میں آرمی کے ناردرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات، آرمی کے جی او سی 15 کور لیفٹیننٹ جنرل پرشانت سریواستو اور میجر جنرل بل بیر سنگھ سمیت کئی اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
ادھر، حکومت نے دو روزہ بندش کے بعد وادی میں اسکول دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کے فوراً بعد تعلیمی ادارے 7مارچ تک تک بند رکھنے کا فیصلہ لیا۔ تین ماہ کی سرمائی تعطیلات کے بعد پرائمری اور مڈل اسکول پیر سے کھلنے تھے، مگر طلبہ کی سلامتی کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو اس ہفتے کے آخر تک مزید بند رکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سرینگر سمیت کشمیر کے بعض علاقوں میں ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ گزشتہ روز یعنی پیر کو مظاہروں کے دوران پتھراؤ کے واقعات کی بھی اطلاع ہے۔

وہیں دوسری جانب سرینگر پولیس نے سماجی رابطہ گاہ پر گمراہ کن اور بھڑکانے والے مواد اپلوڈ کرنے والے بعض میڈیا اداروں اور افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کرکے عوام و میڈیا اداروں سے جھوٹی خبریں پھیلانے سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کچھ نیوز چینلز، میڈیا ادارے اور سوشل میڈیا صارفین جان بوجھ کر من گھڑت اور غلط معلومات پھیلا رہے تھے۔
اس دوران کشمیر کے ایک مقامی میڈیا ادارے کشمیر لائیف (Kashmir Life)نے رپورٹ کیا کہ سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواست پر بھارت میں اس کے فیس بک اور انسٹاگرام صفحات کو محدود کر دیا ہے۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے فوراً بعد شیعہ آبادی نے اتوار کو مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے اور مظاہرین کی ایک بڑی تعداد سرینگر کے گھنٹہ گھر پر جمع ہوئی۔تاہم ممکنہ احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے لال چوک جانے والے سبھی راستوں پر پہرے بٹھا دیے اور کسی بھی جلوس اور مظاہرے کو لال چوک کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں دی، بعض مقامات پر جمع مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گولے بھی داغے گئے۔
اس بیچ لداخ میں صورتحال پُرامن رہی۔ وہاں شیعہ آبادی نے اپنے محلوں میں مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد کیے اور ایران کے مقتول سپریم لیڈر کے لیے دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا۔
یہ بھی پڑھیں:

