ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ارفاز ڈینگ کا گھر تین ماہ بعد آج بھی ملبے کا ڈھیر، صحافی کا خاندان انصاف اور بحالی کا منتظر
انتظامیہ نے آج تک گھر دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ متاثرہ خاندان سخت سردیوں کا موسم ترپال میں گزارنے پر مجبور رہا۔

Published : February 25, 2026 at 7:28 AM IST
|Updated : February 25, 2026 at 2:36 PM IST
جموں: (محمد اشرف گنائی) نومبر 2025 میں جموں میں صحافی ارفاز احمد ڈینگ کا خاندانی مکان ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھاری پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے درمیان منہدم کر دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد ارفاز احمد ڈینگ نے اسے ہدف بنا کر کی گئی کارروائی قرار دیا تاہم جموں و کشمیر انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی قانون کے مطابق انجام دی گئی ہے۔
مکان کی مسماری کے فوراً بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، جن میں حکمران نیشنل کانفرنس، بی جے پی اور کانگریس کے رہنما، سماجی کارکنان اور اراکینِ پارلیمنٹ شامل تھے ارفاز ڈینگ کے گھر پہنچے اور اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ معاملے کی تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی گونجا جہاں رکنِ پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے اسے اٹھایا جب کہ جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران متعدد اراکین اسمبلی نے بھی اس مسئلے پر حکومت سے جواب طلب کیا۔
اب تک تین ماہ گزرنے کے باوجود صورت حال جوں کی توں ہے۔ ای ٹی وی بھارت کی ٹیم نے جب ارفاز ڈینگ کے گھر کا دورہ کیا تو افرادِ خاندان کو منہدم مکان کے ملبے پر بیٹھے انصاف کا منتظر پایا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک مکان کی دوبارہ تعمیر کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور وہ سخت سردیوں میں ترپال کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔
اس دوران ارفاز احمد ڈینگ کی 75 سالہ والدہ ممتازہ بیگم ملبے پر بیٹھی تسبیح پڑھتی نظر آئیں۔ انہوں نے ای ٹی وی بھارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سہارا صرف اللہ ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ہم نے دسمبر، جنوری اور فروری کی سخت سردیوں میں انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کیا لیکن ہمیں یقین ہے کہ خدا انصاف دے گا۔
ارفاز احمد ڈینگ نے کہا کہ انہیں حکومت سے انصاف کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور عام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ میرا گھر ہدف بنا کر گرایا گیا۔ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھا مگر آج تک کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ نائب وزیر اعلیٰ اور گورنر کے مشیر ناصر سوگامی سے ملاقات کر چکے ہیں اور تین مطالبات پیش کیے ہیں جن میں مکان کی مسماری کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی، رہائش کے لیے زمین کی الاٹمنٹ اور تباہ شدہ مکان کی دوبارہ تعمیر کی اجازت شامل ہے۔
مزید پڑھیں:
صحافی کا مکان گرانے سے متعلق جے ڈی اے سے سوال کریں گے: نائب وزیر اعلیٰ
بلڈوزر کارروائی کے بعد ہندو سابق فوجی نے مسلمان صحافی کو 5 مرلہ زمین عطیہ کردی
جموں و کشمیر حکومت زمینی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے: روح اللہ مہدی
جموں میں صحافی کا مکان منہدم، صحافی نے کہا ’سچ بولنے کی دی گئی سزا‘
جموں میں صحافی کا مکان کیا گیا منہدم، بی جے پی لیڈر نے کہا ’انہدامی کارروائی جانبدارانہ‘

