ETV Bharat / jammu-and-kashmir

'جنگل راج': ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ کا خامنہ ای کے قتل پر ردِعمل

روح اللہ نے ایران پر حملے، خامنہ ای کے قتل کو عالمی نظام کی ناکامی قرار دیا، عمر عبداللہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔

ا
آغا روح اللہ مہدی (فائل فوٹو)
author img

By Moazum Mohammad

Published : March 3, 2026 at 12:25 PM IST

|

Updated : March 3, 2026 at 12:46 PM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: مارچ 2001 میں والد کی آئی ای ڈی دھماکے میں ہلاکت کے صرف چار ماہ بعد آغا سید روح اللہ مہدی تہران گئے جہاں ان کی ملاقات ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ہوئی۔

سرینگر سے منتخب رکنِ پارلیمنٹ روح اللہ آج اس ملاقات کو ’’روحانی لمحہ‘‘ قرار دیتے ہیں، جس نے ذاتی صدمے کے دوران انہیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے وہ نصیحت یاد کی جو خامنہ ای نے اُس وقت انہیں کی تھی کہ وہ اُن عقائد پر مضبوطی سے قائم رہیں جن کے لیے ان کے والد اور کشمیر کے ممتاز شیعہ لیڈر آغا سید مہدی نے اپنی جان قربان کی۔

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ہلاکت کو روح اللہ نے ’’انتہائی دردناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی قوانین کے ٹوٹنے اور بکھرنے اور ’’جنگل کے قانون‘‘ کے ابھرنے کی علامت ہے۔

آغا سید روح اللہ مہدی نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے کے ساتھ خصوصی بات چیت کی جس کے چند اقتباسات ذیل میں ہیں:

سوال: آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر آپ کا ردِعمل؟

دنیا سرخ لکیر عبور کر چکی ہے۔ اب جنگل کا قانون ہے جہاں عسکری طاقت رکھنے والا ایک ملک بغیر کسی محاسبہ اور پوچھ گچھ اور جواب دہی کے اپنی من مرضی مسلط کر سکتا ہے، جسی پر بھی جنگ تھوپ سکتا ہے۔ نہ کسی کی خودمختاری کا احترام باقی رہا اور نہ ایک ایسے خودمختار مذہبی رہنما کا، جنہیں پوری مسلم دنیا میں عزت حاصل تھی۔ بین الاقوامی معاہدے اور قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے امریکہ دراصل اسرائیل کی خواہشات پوری کر رہا ہے۔

سوال: آپ نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل پر تنقید کیوں کی؟

بھارت کے وزیراعظم کو اسرائیل جاتے دیکھ کر دکھ ہوا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اخلاقی اصولوں اور آزادانہ سوچ پر مبنی رہی ہے، مگر وزیراعظم مودی ملک کو اس راستے سے ہٹا رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کی، جنہیں دنیا ایک جنگی مجرم کے طور پر جانتی ہے۔

اسرائیل نے فلسطین میں نسل کشی کی۔ کسی اور خودمختار ملک کے رہنما نے نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کی یا اسرائیل کا دورہ نہیں کیا، مگر مودی نے ایران پر حملے سے صرف دو دن پہلے ایسا کیا۔

سوال: ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے پر آپ کی تشویش؟

ایک خودمختار ملک پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک ہے۔ معصوم لوگوں کو مارا گیا، اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور تعلیمی اداروں پر حملے کیے گئے۔ اسی حملے میں دنیا کی ایک بڑی مذہبی اکثریت کے روحانی پیشوا کا قتل نہایت افسوسناک ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کو جواب دینا ہوگا۔ کیا انہیں اس حملے کی پیشگی اطلاع تھی، جب کہ وہ چند گھنٹے پہلے ہی اسرائیل میں موجود تھے؟ اور پھر انہوں نے حملے اور اس قتل کی مذمت کیوں نہیں کی؟

سوال: کیا آپ کو کبھی آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملنے کا موقع ملا؟

میں دو مرتبہ ان سے ملا ہوں۔ جب کشمیر میں میرے والد کو شہید کیا گیا تو میں اپنے دادا کے ساتھ، جو یہاں ان کے نمائندہ تھے، ان کی دعوت پر تہران گیا۔ یہ مارچ 2001 تھا اور مجھے ان سے ذاتی طور پر ملنے کا موقع ملا۔ آیت اللہ نے میرے والد کے قتل پر ذاتی تعزیت پیش کی۔ وہ لمحہ روحانی تھا۔ انہوں نے میرے ماتھے کو چوما اور نصیحت کی کہ میں اپنے والد کے عقائد پر ثابت قدم رہوں۔

2010 میں، جب میں ایران گیا تو دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اس وقت میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں وزیر بن چکا تھا۔ انہوں نے کم عمری میں میری پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے منصب اور عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں کرنا۔

سوال: ان کے قتل کا ایران اور کشمیر کے مسلمانوں پر کیا اثر ہوگا؟

لوگوں نے ایک روحانی والد جیسی شخصیت کھو دی ہے۔ کشمیر میں لوگ غم کے اظہار کے لیے گھروں سے باہر نکلے، مگر بدقسمتی سے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مقامی حکام اسرائیل کے وزیراعظم کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

یہ پُرامن احتجاج تھے، قانون و نظم کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔ پھر لوگوں کو غم منانے سے کیوں روکا گیا؟

سوال: آپ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا؟

یہ افسوسناک ہے کہ وہ اُن لوگوں کے جذبات سے جڑ نہ سکے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے سوال ہے۔ وہ مذمت کرنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ وہ کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں کہیں اور سے ہدایات ملتی ہیں؟ انہیں عوام کے احساسات پر غور کرنا چاہیے۔

ان کا ردِعمل مرکز میں برسرِ اقتدار لوگوں کے مؤقف سے میل کھاتا دکھائی دے رہا ہے، نہ کہ اپنے ووٹرز سے۔ جیسے وزیراعظم خاموش ہیں، ویسی ہی مماثلت یہاں بھی نظر آتی ہے جو بہت کچھ بیان کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. ایران جنگ مشرق وسطیٰ تک پھیلنے سے بھارتی تارکین وطن کو سلامتی کے خدشات
  2. ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر غم وغصہ: دیکھیے کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
  3. کشمیر میں پابندیاں، احتجاجی مظاہرے، موبائل انٹرنیٹ خدمات محدود
  4. دورۂ کشمیر سے دفعہ 370کی تنسیخ کی مذمت تک: خامنہ ای کا کشمیرکے ساتھ تعلق
  5. کشمیری شعیہ لیڈر نے مظاہرین سے کی امام بارگاہوں میں سوگ منانے کی اپیل
Last Updated : March 3, 2026 at 12:46 PM IST