ETV Bharat / jammu-and-kashmir
شوپیان کی تاریخی جامع مسجد: روحانیت کی روشن علامت، جنوبی کشمیر کا فخر جہاں صدیوں کی دعائیں ہیں محفوظ
جامع مسجد شوپیان وادیٔ کشمیر کے اُن مقدس اور تاریخی مقامات میں شامل ہے، جو صدیوں سے روحانی، ثقافتی اور سماجی ورثے کی نمائندہ ہے۔

Published : February 22, 2026 at 9:37 AM IST
شوپیان، جموں و کشمیر (شاہد ٹاک): جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں واقع جامع مسجد شوپیان، وادیٔ کشمیر کے اُن مقدس اور تاریخی مقامات میں شامل ہے، جو صدیوں پر محیط روحانی، ثقافتی اور سماجی ورثے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ عوامی عقیدت، اجتماعی قربانی اور کشمیری شناخت کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
جامع مسجد شوپیان کی تعمیر سنہ 1930 سے 1940 کے درمیان عمل میں آئی۔ یہ وہ دور تھا جب علاقے کے لوگ مالی طور پر مستحکم نہیں تھے، مگر اس کے باوجود اہلِ شوپیان نے بے مثال قربانیوں کی تاریخ رقم کی۔ مقامی افراد نے اپنی جمع پونجی، حتیٰ کہ چاندی کے برتن اور قیمتی اشیاء فروخت کر کے مسجد کی تعمیر کے لیے عطیات دیے، جس کے نتیجے میں یہ عظیم الشان مسجد پایۂ تکمیل تک پہنچی۔
جامع مسجد کی تعمیر میں مولانا عبداللہ کا نمایاں کردار
تعمیر کے اس تاریخی سفر میں اُس وقت کے معروف عالمِ دین مولانا عبداللہ نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ مولانا عبداللہ نہ صرف ایک روحانی شخصیت تھے بلکہ وہ ڈوگرہ دور میں مہاراجہ ہری سنگھ کی سلطنت میں بطور وزیر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ ان کی قیادت اور سرپرستی نے جامع مسجد شوپیان کی تعمیر کو ایک مضبوط سمت فراہم کی۔

اگر فنِ تعمیر کی بات کی جائے تو جامع مسجد شوپیان قدیم کشمیری طرزِ تعمیر اور اسلامی آرٹ کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ لکڑی کا نفیس استعمال، دیدہ زیب نقش و نگار، باریک منبت کاری، وسیع صحن اور بلند مینار اس مسجد کو نہ صرف مذہبی بلکہ فنی اعتبار سے بھی ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔

مختلف شخصیات سے منسوب موئے مقدس محفوظ
یہ جامع مسجد آج بھی علاقے کے مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں ہر جمعہ کو ہزاروں نمازی اکٹھا ہوتے ہیں، جب کہ مختلف دینی اجتماعات، روحانی مجالس اور مذہبی تقاریب کا انعقاد بھی باقاعدگی سے کیا جاتا ہے۔

جامع مسجد شوپیان کی ایک اور غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں امام حسین علیہ السلام اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے منسوب موئے مقدس محفوظ ہیں۔ ان مقدس تبرکات کی زیارت کے لیے نہ صرف شوپیان بلکہ وادیٔ کشمیر کے دور دراز علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں عقیدت مند یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
تاریخ، دین، ثقافت اور عوامی قربانی کا پیکر جامع مسجد
وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسجد کئی بار مرمت اور بحالی کے مراحل سے گزری ہے۔ مقامی آبادی، علما اور انتظامیہ اس تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم اثاثے سے جڑی رہیں۔

جامع مسجد شوپیان دراصل ایک ایسی جگہ ہے جہاں تاریخ، دین، ثقافت اور عوامی قربانی یکجا نظر آتی ہے۔ یہ مسجد نہ صرف شوپیان بلکہ پورے کشمیر کی مذہبی عظمت، ثقافتی شناخت اور اجتماعی شعور کی علامت بن چکی ہے ایک ایسی علامت جو ہر آنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی۔

جامع مسجد کی خوبصورتی کو مزید نکھارنے کی اشد ضرورت
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرکزی جامع مسجد شوپیان کی خوبصورتی کو مزید نکھارنے کے لیے چند مقامات پر مرمت اور تزئین و آرائش کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مسجد کے گرد و نواح میں سرسبز پودے اور درخت لگائے جائیں تاکہ ماحول خوشگوار اور پُرفضا بن سکے۔ اس کے علاوہ مسجد کے صحن میں ایک خوبصورت پانی کا حوض تعمیر کیا جائے، جہاں نمازی بآسانی وضو کر سکیں اور مسجد کی دلکشی میں مزید اضافہ ہو۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو جامع مسجد کی تاریخی اور روحانی شان میں مزید اضافہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ دعا ضرور قبول فرماتے ہیں
ایک نمازی نے کہا کہ میں گزشتہ 33 برس سے اس جامع مسجد شریف میں نماز ادا کر رہا ہوں۔ میں نے اسی مسجد میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے مدینہ پاک اور حجِ بیت اللہ کی سعادت عطا فرما اور الحمدللہ میری دعا قبول ہوئی اور مجھے بیت اللہ کے دیدار نصیب ہوئے۔ میرا ایمان ہے کہ جو بھی شخص یہاں اخلاص کے ساتھ نماز پڑھ کر دعا مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔

